30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذِکر میں دِلوں کا اطمینان ہے، ذِکر الٰہی مُنْجِیَات یعنی نجات دلانے والے اَعمال میں سے ہے، ہرمسلمان کو چاہیے کہ ہروقت اپنی زبان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذِکر سے تررکھے، ہر جائز کام کی ابتداء اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مبارک نام سے کرے۔ ٭ حرام وناجائز کام سے قبل بِسْمِ اللہ شریف ہرگز، ہرگز، ہرگزنہ پڑھی جائے، حرامِ قطعی کام سے پہلے بِسْمِ اللہپڑھنا کفر ہے۔ چُنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’ شراب پیتے وَقت، زِنا کرتے وَقت یا جُوا کھیلتے وَقت بِسْمِ اللہ کہناکُفرہے۔ ‘‘ ([1])٭یاد رکھئے! زَبان سے ذِکر و درود باعث اجر و ثواب بھی ہے اور بعض صورَتوں میں ممنوع بھی۔ مثلاً مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد اوّل صفحہ۵۳۳پرہے: گاہک کو سودا دکھاتے وَقت تاجِر کا اِس غر ض سے دُرُود شریف پڑھنا یا سُبْحٰنَ اللہکہنا کہ اس چیز کی عمدگی خریدار پر ظاہرکرے ناجائز ہے۔ یونہی کسی بڑے کو دیکھ کر اس نیت سے درود شریف پڑھنا کہ لوگو ں کو اس کے آنے کی خبر ہوجائے تا کہ اس کی تعظیم کو اٹھیں او رجگہ چھوڑ دیں ناجائز ہے۔([2])
)22((حکایت)ایک ’’ یااللہ ‘‘ میں سو(100) ’’ لَبَّیْک ‘‘ :
ایک شخص رات کو ذِکرُاللہ میں مشغول تھااور اس کی زبان پر اللہ ، اللہ کا ورد جاری تھا۔شیطان نے اُس کو جھڑک کر کہا: ’’ اے کمبخت ! کب تک اللہ، اللہ کی رَٹ لگائے جائے گا۔اُدھر سے تو کوئی جواب نہیں مِلتا اور تو ہے کہ مسلسل اُسی کو پکارے جارہا ہے۔ ‘‘ شیطان کی بات سُن کر اُس شخص کا دل ٹوٹ گیا۔ سرجھکایا تو نیند آگئی۔ عالم خواب میں دیکھا کہ حضرتِ سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ ’’ اے نیک بخت ! تو نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر کیوں چھوڑ دیا؟ ‘‘ اُس نے کہا کہ ’’ بارگاہِ الٰہی سے مجھے کوئی جواب نہیں ملتا۔ اس لیے فکر مند ہوں کہ کہیں میرے ذِکرُاللہ کو رَد ہی نہ کر دیا گیا ہو۔ ‘‘ حضرتِ سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ ’’ بارگاہِ اِلٰہی عَزَّ وَجَلَّ سے مجھ کو حکم ہوا کہ تیرے پاس جائوں اور تجھ کو بتائوں کہ تو جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتا ہے، وہی ہمارا جواب ہے۔ تیرے دل میں جو سوز و گداز پیدا ہوتا ہے، وہ ہمارا ہی تو پیدا کیا ہوا ہے۔ اور یہ ہمارا ہی کام ہے کہ تجھ کو ذِکرُاللہ میں مشغول کردیا ہے، تیرے ہر ’’ یااللہ ‘‘ کہنے میں ہماری سو ’’ لَبَّیْک ‘‘ پوشیدہ ہیں ۔ ‘‘ ([3])
ذِکرُاللہ کا ذہن بنانےاورکرنے کے تیرہ(13)طریقے:
(1) ذِکرُاللہ کے فضائل وفوائد کا مطالعہ کیجئے: چندفضائل یہ ہیں : ٭ذِکرُاللہ کرنے والا خشک جنگل میں سرسبز درخت کی طرح ہے۔٭ذِکرُاللہکرنے والا مجاہد کی طرح ہے۔٭رحمت الٰہی بندے کے ساتھ ہوتی ہے جب تک وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتا رہتا ہے اور اس کے ہونٹ ذِکرُاللہسے ہلتے رہتے ہیں ۔٭ذِکرُاللہ سے بڑھ کر عذابِ اِلٰہی سے نجات دلانے والا عمل کوئی نہیں ۔٭ذِکرُاللہکی کثرت کرنے والے کے لیے باغِ جنت میں آسودگی کی خوشخبری ہے۔٭سب سے افضل عمل ذِکرُاللہ ہے۔ ٭صبح و شام ذِکرُاللہسے اپنی زبان کو تررکھنے والا گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ ٭ذِکرُاللہ کرنے والے کے تمام اُمور کو اللہ عَزَّ وَجَلَّسنوار دیتا ہے، اُسے اپنی رحمت عطا فرماتا اور اپنا دوست بنالیتا ہے۔([4])
(2) اجتماعی ذِکرکے فضائل کا مطالعہ کیجئے: چندفضائل یہ ہیں : ٭جو لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں ، فرشتے انہیں گھیر لیتے اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّفرشتوں کے سامنے ان کا چرچا کرتا ہے۔٭جو لوگ محض رضائے الٰہی کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر کرنے بیٹھتے ہیں تو آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ مغفرت یافتہ ہو کر لوٹ جاؤ تمہارے گناہ نیکیوں میں بدل دیے گئے ہیں ۔٭جن گھروں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکر ہوتا ہے اہل آسمان ان گھروں کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے تم ستاروں کو دیکھتے ہو۔([5])
(3) ذِکرُاللہ والے اِجتماعات میں شرکت کیجئے: اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّتبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہرجمعرات کو بعد نمازِ مغرب عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی اور دنیا بھر کے مختلف مدنی مراکز ومساجد میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں ، اسی طرح گیارہویں ، شریف، بارہویں شریف، شب معراج، شب براءت اور رمضان المبارک میں تو تقریباً ہر رات ہی ذِکرُاللہ والے اِجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں ، یہ تمام اِجتماعات اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکر پر مشتمل ہوتے ہیں ، خود بھی ان میں شرکت کیجئے اور دوسروں کو بھی ترغیب دلائیے۔
(4)کلمۂ طیبہ کے ذریعے ذِکرُاللہ کیجئے: اَحادیث مبارکہ میں اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چند فضائل یہ ہیں : ٭ ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ پڑھنے والے کو قبروحشر میں کوئی وحشت نہ ہوگی۔٭جو شخص کامل وضو کرکے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر کہے: ’’ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ ‘‘ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس سے چاہے داخل ہو جائے۔٭جو شخص روزانہ 100بار یہ کلمات پڑھتا ہے: ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ ‘‘ تو اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اس کے نامۂ اعمال میں 100نیکیاں لکھی جاتی اور 100گناہ مٹادیے جاتے ہیں ، وہ اس دن شام تک شیطان سے محفوظ رہتا ہے اور اس سے بڑھ کر کسی اور کا عمل نہیں ہوتا مگر یہ کہ کوئی شخص اس سے زیادہ کلمات پڑھے۔٭سچے دل سے ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ پڑھنے والا اگر زمین بھر گناہ لے کر آئے پھر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی مغفرت فرمادے گا۔٭جس نے اخلاص کے ساتھ ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ کہا وہ داخل جنت ہوا۔([6])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع