30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭خشوع یعنی دل کا حاضر ہونا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت بڑی نعمت ہے، خشوع رِضائے الٰہی پانے، نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے، جسے اپنے اعمال میں خشوع حاصل ہوجائے گویا اسے اخلاص نصیب ہوگیا۔حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ خشوع یعنی دل کی حاضری نماز کی رُوح ہے اور کم ازکم مقدار جس سے رُوح باقی رہے وہ تکبیر تحریمہ کے وقت دل کا حاضر ہونا ہے اور اس قدر سے بھی کم ہوتو ہلاکت ہے، اس سے زیادہ جس قدر حضورِ قلب ہوگا اسی قدر روح نماز کے اجزاء میں پھیلے گی اور کتنے ہی زندہ لوگ ہیں جو حرکت نہیں کرسکتے، وہ مردوں کے قریب ہیں ، پس تکبیر تحریمہ کے علاوہ غافل اس زندہ کی مثل ہے جس میں حرکت نہیں ۔ ‘‘ ([1])٭واضح رہے کہ خشوع کو عموماً نماز کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے لیکن یہ عام ہے۔ حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ جان لیجئے کہ خشوع ایمان کا پھل اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے جلال سے حاصل ہونے والے یقین کا نتیجہ ہے۔ جسے یہ حاصل ہوجائے وہ نماز سے باہر بلکہ تنہائی میں بھی خشوع اپناتا ہے، کیونکہ خشوع کا موجب (سبب وعِلَّت)اس بات کی پہچان ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے پر مطلع ہے، نیز بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جلال اور اپنی کوتاہی کی معرفت رکھتا ہے، انہی باتوں کی پہچان سے خشوع حاصل ہوتا ہے اور یہ نماز کے ساتھ خاص نہیں اسی لیے بعض بزرگوں کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حیا کرتے اور اس سے ڈرتے ہوئے 40سال تک آسمان کی طرف سر نہیں اٹھایا۔([2])
)20((حکایت)ہروقت خشوع میں ڈوبے رہتے:
منقول ہے کہ حضرت سیدنا ربیع بن خیثم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہہمیشہ سر اور آنکھیں جھکائے رکھتے تھے حتی کہ بعض لوگ آپ کو نابینا سمجھتے، آپ ۲۰سال حضرت سیدنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھر حاضر ہوتے رہے، جب حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی کنیز انہیں آتے دیکھتی تو کہتی: ’’ آپ کے نابینا دوست تشریف لائے ہیں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس کی بات سن کر مسکرا دیتے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب دروازہ بجاتے، کنیز باہر نکلتی تو انہیں سراور آنکھیں جھکائے دیکھتی، حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب انہیں دیکھتے تو یہ آیت مبارکہ تلاوت فرماتے: ) وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)( (پ۱۷، الحج: ۳۴)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور اے محبوب! خوشی سنادو ان تواضع والوں کو۔ ‘‘ اور فرماتے: ’’ خدا عَزَّ وَجَلَّکی قسم! اگر حضورِ اَنور شافع محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمہیں دیکھتے تو تم سے خوش ہوتے۔ ‘‘ ([3])
)21((حکایت) نماز میں خشوع وخضوع:
حضرت سیدنا عامر بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نہایت ہی خشوع سے نماز پڑھتے تھے، جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو اکثر آپ کی بیٹی دف بجاتی اور گھر میں آنے والی عورتوں سے باتیں کرتی لیکن آپ نہ اُن کی باتیں سنتے اور نہ ہی سمجھ پاتے۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا: ’’ کیا آپ نماز میں اپنے نفس سے کوئی بات کرتے ہیں ؟ ‘‘ تو فرمایا: ’’ ہاں یہ بات کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سامنے کھڑا ہوں اور میں نے دو گھروں میں سے ایک گھر میں لَوٹنا ہے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ کیا ہماری طرح آپ بھی نماز میں اُمورِ دنیا میں سے کچھ پاتے ہیں ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ مجھے نماز میں دنیا کے خیالات پیدا ہونے سے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ مجھ پر تیروں سے حملہ کیا جائے۔ ‘‘ ([4])
اَعمال میں خشوع پیدا کرنے کے سات (7)طریقے:
(1) خشوع کے فضائل کا مطالعہ کیجئے: چندفضائل یہ ہیں : ٭خشوع والوں کی فضیلت قرآن میں بیان کی گئی ہے۔٭خشوع سے نماز ادا کرنے والے کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔٭خشوع سے نماز پڑھنے والے کی نماز کامل ہے۔ ٭خشوع سے نماز ادا کرنے والے کی نماز مقبول ہے۔٭نماز میں خشوع کی خود حضور نبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْمنے ترغیب دلائی۔٭خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنے والا ربّ تعالٰی کے قریب ہوجاتا ہے۔٭خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنے والے کی نماز کی طرف ربّ تعالٰی نظر رَحمت فرماتا ہے۔٭خشوع کے ساتھ دو رکعت ادا کرنا بغیر خشوع کے پوری رات قیام کرنے سے افضل ہے۔([5])
(2) اَعضاء میں خشوع پیدا کیجئے: کہ یہ دل کے خشوع پر دلالت کرتا ہے، سرکار مدینہ منورہ سردار مکہ مکرمہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو نماز میں اپنی داڑھی سے کھیلتے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ’’ اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی خشوع ہوتا۔ ‘‘ ([6])
(3)خشوع سے متعلق بزرگانِ دِین کے واقعات کا مطالعہ کیجئے: ایسے واقعات پڑھنے سے اَعمال میں خشوع پیدا کرنے کا مدنی ذہن بنے گا، ایسے واقعات جاننے کے لیے حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی مایہ ناز تصنیف ’’ احیاء العلوم ‘‘ جلد۱، صفحہ ۵۲۹ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)سے مطالعہ کیجئے۔
(4)دل میں نر می پیدا کیجیے : موت سے غفلت اورزیادہ کھانے سے پیٹ بھرنے کے سبب قساوتِ قلبی (دل میں سختی) پیدا ہوجاتی ہے اوریہی سختی اَعمال میں خشوع کو روکتی ہے، لہٰذا خشوع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ اپنے دل میں نرمی پیدا کرے، دل میں نرمی پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بندہ دل کی سختی کے اَسباب وعلاج کی معلومات حاصل کرے، اس سلسلے میں مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۵۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’ باطنی بیماریوں کی معلومات ‘‘ صفحہ۱۸۶ کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔
(5)نماز میں جنت وجہنم کا تصور قائم کیجئے: جنت وجہنم کا تصوربھی خشوع پیدا کرنے کاایک بہترین طریقہ ہے، چنانچہ منقول ہے کہ حضرت سیدنا حاتم اصم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم سے کسی نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع