دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

بے شمار بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں ۔ ٭توکل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے ایمان محفوظ ہوجاتا ہے،  کیونکہ شیطان جب کسی کے ایمان پر حملہ آورہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کا   اللہ عَزَّ وَجَلَّپر یقین اور بھر وسہ کمزور کردیتا ہے۔ لہٰذا گر آپ اپنے ایمان کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّپرکامل بھر وسہ رکھیے۔چنانچہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ میرے ایک دوست نے مجھ سے ذکر کیا کہ میری ایک نیک آدمی سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا:  ’’ کیا حال ہے؟ ‘‘  اس نے جواب دیا:  ’’ حال تو اُن کا ہے جن کا ایمان محفوظ ہے اور وہ صرف متوکلین ہی ہیں جن کا اِیمان محفوظ ہے۔ ‘‘ ([1])

(7)متوکلین کے واقعات کا مطالعہ کیجئے: کہ جب بندہ متوکلین کے واقعات کا مطالعہ کرے گا تو اس کا بھی توکل کرنے کا ذہن بنے گا،  اس سلسلے میں حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی مایہ ناز تصنیف  ’’ احیاء العلوم ‘‘  جلد۴،  صفحہ ۸۰۷(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)سے مطالعہ کیجئے۔

(8) متوکلین کی صحبت اختیار کیجئے: کہ صحبت اثر رکھتی ہے،  جب بندہ توکل کرنے والوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس کا بھی توکل کا ذہن بن جاتا ہے اور جو ناشکرے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے وہ بھی ویسا ہی بن جاتا ہے،  لہٰذا توکل کی دولت حاصل کرنے کے لیے متوکلین کی صحبت اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ شیخ طریقت،  امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی صحبت بھی ایک متوکل ولیٔ کامل کی صحبت ہے،  آپ بھی دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائے،  ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات اورمدنی مذاکروں میں شرکت کیجئے،  امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی صحبت اختیار کیجئے اوررحمت الٰہی سے توکل کی دولت پائیے۔

(9)مخلوق کی محتاجی سے بچنے کا عز م کرلیجیے : ‏کہ اس طرح بندہ مخلوق سے بے نیاز ہو کر فقط خالق  عَزَّ وَجَلَّہی پر بھروسہ کرے گاکیونکہ توکل کی بے شمار برکتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ مخلوق کی محتاجی سے بچ جاتا ہے ۔جیسا کہ حضرت سیدنا سلیمان خواص رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے فرمایا: ’’ اگر کوئی شخص صدق نیت سے اللہ ‏سُبحانہ وتعالٰی پر توکل کرے،  تو اُمراء اور غیر اُمراء سب اُس کے محتاج ہوجائیں گے اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہوگا کیونکہ اس کا مالک  عَزَّ وَجَلَّغنی وحمید ہے۔ ‘‘ ([2])

(10)پرسکون اور خوشحال زندگی پر نظر رکھیے : ‏ہماری کامیابی میں ذہنی اور قلبی سکون کا بہت بڑا کردارہے،  ذہنی اور قلبی طور پر مطمئن شخص عموماً پرسکون اور خوشحال زندگی گزارتا ہے اور توکل سے ذہنی وقلبی سکون اور راحت حاصل ہوتی ہے۔ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ‏فرماتے ہیں کہ میرے شیخ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اکثر مجلس میں فرمایا کرتے تھے: ’’  اپنی تدبیر اُس ذات کے سپرد کردے جس نے تجھے پیدا فرمایا ہے (یعنی فقط اللہ رَبّ العزت پر توکل کر) توراحت پائے گا۔ ‘‘ ([3])

(11) ربّ تعالٰی کی بارگاہ میں توکل کی دعا کیجئے: کہ اس کی رحمت بہت بڑی ہے،  اس سے جو مانگو وہ اپنے فضل سے عطا فرماتا ہے،  توکل کی یوں دعا مانگئے:  ’’ اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ!  مجھے اپنے حبیب،  ہم گناہگاروں کے طبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلہ سے توکل کی دولت عطا فرما،  مجھے اپنے سوا کسی کا محتاج نہ کرنا،  مجھے ہر ہر معاملے میں بس تیری ہی ذات پر بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔  ‘‘ آمین

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (19)…خشوع

خشوع کی تعریف:

بارگاہِ اِلٰہی میں حاضری کے وقت دِل کا لگ جانا یا بارگاہِ اِلٰہی میں دلوں کو جھکا دینا  ’’ خشوع ‘‘  کہلاتا ہے۔([4])

آیت مبارکہ:

اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ) اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ- ((پ۲۷، الحدید: ۱۶)ترجمۂ کنز الایمان:  ’’ کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لئے جو اُترا۔ ‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: )قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)((پ۱۸،  المؤمنون: ۱، ۲) ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے،  جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں ۔ ‘‘  تفسیر خزائن العرفان میں ہے:  ’’ بعض مفسرین نے فرمایا کہ نماز میں خشوع یہ ہے کہ اس میں دل لگا ہوا اور دنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو اور نظر جائے نماز سے باہر نہ جائے اور گوشۂ چشم سے کسی طرف نہ دیکھے اور کوئی عبث کام نہ کرے اور کوئی کپڑا شانوں پر نہ لٹکائے اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے لٹکتے ہوں اور آپس میں ملے نہ ہوں اور انگلیاں نہ چٹخائے اور اس قسم کے حرکات سے باز رہے۔ بعض نے فرمایا کہ خشوع یہ ہے کہ آسمان کی طرف نظر نہ اٹھائے۔ ‘‘ ([5])

(حدیث مبارکہ)جس دل میں خشوع نہ ہو اس سے پناہ:

حضرت سیدنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رءوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں اس دل سے پناہ مانگتا ہوں کہ جس میں خشو ع نہ ہو۔ ‘‘ ([6])

 



   [1]    منہاج العابدین،  ص۱۰۶۔

   [2]    منہاج العابدین،  ص۱۰۴۔

   [3]    منہاج العابدین ص۱۱۳۔

   [4]   الحدیقۃ الندیۃ،  الخلق الثالث و الاربعون،  ۲ / ۱۱۷ماخوذا۔

   [5]     خزائن العرفان،  پ۱۸،  المؤمنون،  تحت الآیۃ: ۲۔

   [6]     مسلم،  کتاب الذکر و الدعا ۔۔۔ الخ،  باب تعوذ من شرما عمل۔۔۔ الخ،  ص۱۴۵۸،  حدیث:۲۸۲۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن