30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔‘‘ ([1])
توکل کا ذہن بنانے اور توکل پیدا کرنے کے گیارہ (11)طریقے:
(1)توکل کی معلومات حاصل کیجئے: جب تک بندے کو کسی چیز کے بارے میں تفصیلی معلومات نہ ہوں اس چیز کو اختیار کرنا یا اس کا ذہن بنانا بہت مشکل ہے، توکل کا ذہن بنانے اور اسے اختیار کرنے کے لیے بھی توکل کی معلومات ہونا ضروری ہے۔ توکل کی معلومات کے لیے احیاء العلوم، جلد۴، ص۷۳۲(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)، مکاشفۃ القلوب، ص۵۱۲(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) سے مطالعہ بہت مفید ہے۔
(2) توکل ومتوکل سے متعلق بزرگانِ دِین کے اَقوال کا مطالعہ کیجئے: چنداقوال یہ ہیں : ٭حضرت سیدنا سہل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ’’ متوکل کی تین علامات ہیں : سوال نہیں کرتا، جب کوئی اسے چیز دے تو رد نہیں کرتا اور جب چیز پاس آجائے تو اسے جمع نہیں کرتا۔ ‘‘ خلیفہ اعلیٰ حضرت، مرشد امیراہلسنت، قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اسی کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کرتے تھے: ’’ طمع نہیں ، منع نہیں ، جمع نہیں ۔ ‘‘ ([2]) ٭حضرت سیدنا حمدون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ توکل اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ مضبوط تعلق کا نام ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا سہل بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ توکل کا پہلا مقام یہ ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے اس طرح ہو جس طرح مردہ غسل دینے والے کے سامنے ہوتا ہے، وہ اسے جس طرح چاہے الٹ پلٹ کرتا ہے۔ ‘‘ ٭ حضرت سیدنا ابو عبداللہ قرشی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّسے تعلق قائم رہنا توکل ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا اِبن مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فیصلے اور احکام کے سامنے سرجھکانا توکل ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا ابو عثمان حیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّپر اعتماد کرتے ہوئے اسی پر اکتفا کرنا توکل ہے۔ ‘‘ ([3])
(3)ربّ تعالٰی کی قدرت ِ کاملہ پر یقین رکھیے: بندہ رِزق اور دیگر ضروریات کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ضامن اور کفیل ہونے کا تصور رکھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کمالِ علم، اس کی کمالِ قدرت کا تصور کرے اور اِس بات پر یقین رکھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّخلافِ وعدہ ، بھول ، عجز اور ہر نقص سے منزہ اورپاک ہے، جب ہمیشہ ایسا تصور ذہن میں رکھے گا تو ضرور اُسے رِزق کے بارے میں ربّ تعالٰی پر توکل کی سعادت نصیب ہوجائے گی۔ ‘‘ ([4])
(4)متوکل کے آداب کا مطالعہ کیجئے: حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے متوکل کے لیے گھریلو سامان سے متعلق درج ذیل 6آداب بیان فرمائے ہیں : (۱)پہلا ادب: دروازہ بند کردے، البتہ زیادہ حفاظتی انتظامات نہ کرے جیسے تالا لگانے کے باوجود پڑوسی کو دیکھ بھال کا کہنا یا کئی تالے لگا دینا۔ (۲) دوسرا ادب: گھر میں ایسا سامان نہ رکھے جو چوروں کو چوری پر آمادہ کرے کہ یہ ان کے گناہ میں پڑنے کا سبب ہوگا یا ان کی دل چسپی کا باعث ہوگا۔(۳) تیسرا ادب: بحالت مجبوری کوئی چیز چھوڑکر جانا پڑے تو یہ نیت کرے کہ چور کو مسلط کرنے کا جو فیصلہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا ہے اس پر راضی ہوں اور یوں کہے: ’’ چور جو مال لے گا وہ اس کے لیے حلال ہے یا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے مباح ہے اور اگر چور فقیر ہوا تو اس پر صدقہ ہے، بہتر یہ ہے کہ فقیر کی شرط نہ لگائے۔ (۴)چوتھا ادب: جب لوٹ کر آئے اور مال چوری پائے تو غم نہ کرے بلکہ ممکن ہو تو خوش ہو کر یہ کہے: ’’ اگر چوری ہونے میں بہتری نہ ہوتی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّمال واپس نہ لیتا۔ ‘‘ اگر مال وقف نہ کیا تھا تو اسے زیادہ تلاش نہ کرے، نہ کسی مسلمان پر بدگمانی کرے۔اگر وقف کی نیت کے بعد وہ مال مل جائے تو بہتر یہ ہے کہ اسے قبول نہ کرے اور اگر قبول کربھی لیا تو فتوی کی رو سے جائز ہے کیونکہ فقط نیت کرنے سے ملکیت ختم نہیں ہوتی، البتہ متوکلین کے نزدیک یہ عمل ناپسندیدہ ہے۔(۵)پانچواں ادب: چور کے لیے بددعا نہ کرے، اگر بددعا کرے گا تو توکل ختم ہوجائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے چوری ہونے کو ناپسند کیا اور افسوس کیا یوں اس کا زُہد ختم ہوگیا اور اگر بددعا کی تووہ ثواب بھی نہ ملے گا جو اس مصیبت پر ملتا، فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: ’’ جس نے اپنے اوپر ظلم کرنے والے کو بددعا دی اس نے بدلہ لے لیا۔ ‘‘ ([5]) (۶)چھٹا ادب: اس بات پر غمگین ہو کہ چور چوری کرکے گناہ گار ہو اور عذابِ الٰہی کا مستحق ٹھہرا اور اس بات پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرے کہ وہ ظالم کے بجائے مظلوم بنا اور اسے دنیا کا نقصان پہنچا دِین کا نہیں ۔([6])
(5)ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگئے: کہ یہ عمل توکل اور اس میں پختگی پیدا کرنے میں بہت معاون ہے۔حضرت سیدنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ شیطان خبیث ہے اور تیری عداوت پر ہر وقت کمر بستہ ہے، تو اس لعین کتے سے بچنے کے لیے ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگتا رہے اور کسی وقت بھی اس کی مکاریوں اور عیاریوں سے غافل نہ ہو، بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر سے اس کتے کو بھگا دے، جب تو مردانِ خدا جیسا عزم و یقین اپنے اندر پیدا کرلے گا تو بفضل خدا اِس لعین کے دائو تجھے کچھ ضرر نہیں پہنچاسکیں گے۔ جیساکہ پارہ۱۴سورۃ النحل آیت ۹۹ میں ربّ تعالٰی نے خود فرمایا ہے: ) اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۹۹)( ترجمۂ کنز الایمان: ’’ بیشک اس کا کوئی قابو اُن پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے ربّ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ ‘‘ یعنی ’’ وہ شیطانی وسوسے قبول نہیں کرتے ۔ ‘‘ ([7])
(6)توکل کے فوائد اور فضائل پر غور کیجیے : چند یہ ہیں : ٭توکل کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ ٭توکل کرنے والا لوگوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔٭توکل کرنے والے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّغیب سے رز ق عطا فرماتا ہے۔٭توکل کرنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّکو پسند ہیں ۔٭توکل کرنے والے کو دنیا وآخرت کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع