30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں ، اس کا لطف وکرم اور مہربانی بے حساب ہے، اس علم کے نتیجے میں بندے پر یقین کی ایسی کیفیت طاری ہوگی کہ وہ ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّہی پر بھروسہ کرے گا، کسی دوسرے کی جانب متوجہ نہ ہوگا، اپنی طاقت وقوت اور ذات کی جانب توجہ نہ کرے گا کیونکہ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے، تو اس علم ویقین، اس سے پیدا ہونے والی کیفیت اور اس نتیجے میں حاصل ہونے والے بھروسے کی مجموعی کیفیت کا نام ’’ توکل ‘‘ ہے۔([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے: ) وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ-( (پ۲۸، الطلاق: ۳) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ ‘‘ ٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: (وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۳) )پ۶، المائدۃ: ۲۳)ترجمۂ کنز الایمان: ’’ اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے۔ ‘‘
(حدیث مبارکہ)ربّ تعالٰی پر کامل توکل کرنے کا انعام:
دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عظمت نشان ہے: ’’ اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّپر اس طرح بھروسہ کرو جیسے اس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گاجیسے پرندوں کو عطافرماتاہے کہ وہ صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اورشام کو سیر ہوکر لوٹتے ہیں ۔ ‘‘ ([2])
اعلیٰ حضرت اِمامِ اَہلسنت مولانا شاہ اِمام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّپر (مطلق)توکل کرنا فرضِ عین ہے۔ ‘‘ ([3]) واضح رہے کہ اَسباب اور تدابیر کو ترک کرکے گوشی نشینی اِختیارکرلینے اور کسب (یعنی رِزقِ حلال کمانا) ترک کردینے کی شرعاً اِجازت نہیں ہے۔اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ توکل ترکِ اَسباب کا نام نہیں بلکہ اِعتماد علی الاسباب کا ترک (توکل) ہے۔ ‘‘ ([4]) یعنی اَسباب کو چھوڑ دینا توکل نہیں بلکہ اسباب پر اعتماد نہ کرنے (وربّ تعالٰی پر اعتماد کرنے)کا نام توکل ہے۔
پھرمتوکل کے اَعمال کی مختلف صورتیں اور اُن کے مختلف اَحکام ہیں : ٭اگر کوئی شخص ایسے یقینی اَسباب کو ترک کرے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے چیزوں کے ساتھ قائم ہوچکے ہیں اور اُن سے جدا نہیں ہوں گے تو وہ متوکل نہیں ، مثلاً سامنے کھانا رکھا ہو، بھوک بھی ہو اور کھانے کی ضرورت بھی ہو لیکن بندہ اپنا ہاتھ اس کی طرف نہ بڑھائے اور یوں کہے: ’’ میں توکل کرتا ہوں ۔ ‘‘ تو ایسا کرنا بے وقوفی اور پاگل پن ہے۔٭ ایسے غیریقینی اسباب کو ترک کردینا جن کے بارے میں غالب گمان ہے کہ چیزیں ان کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتیں ، مثلاً کوئی شخص شہروں اور قافلوں سے جدا ہو کر سنسان راستے پر سفر کرے جن پر کبھی کبھار ہی کوئی آتا ہے تو اگر اس کا سفر بغیر زاد راہ کے ہو تو یہ (عام شخص کے لیے) توکل نہیں ہے کیونکہ بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کا طریقہ یہ رہا ہے کہ ایسے راستوں پر زادِ راہ لے کر سفر کرتے اور توکل بھی باقی رہتا کیونکہ ان کا اعتماد زادِ راہ پر نہیں بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل پر ہوتا، اگرچہ زاد راہ کے بغیر سفر کرنا بھی جائز ہے لیکن یہ توکل کا بلند ترین درجہ ہے اور اسی مرتبہ پر فائز ہونے کی وجہ سے حضرت سیدنا ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا سفر بغیر زادِ راہ کے ہوتا تھا۔ ٭اگر کوئی شخص کمانے کی بالکل تدبیر نہ کرے تو یہ توکل نہیں بلکہ یہ چیز توکل کو بالکل ختم کردیتی ہے۔٭البتہ اگر وہ اپنے گھر یا مسجد میں ایسی جگہ بیٹھ جائے جہاں لوگ اس کی خبرگیری کرتے ہیں تو یہ توکل کے خلاف نہیں ۔٭سنت کے مطابق رِزقِ حلال کماناتوکل کے خلاف نہیں جبکہ اُس کا اِعتماد سامان اور مال وغیرہ پر نہ ہو اور اس کی علامت یہ ہے کہ وہ مال کے چوری یا ضائع ہونے پر غمزدہ نہ ہو۔٭عیال دار شخص کا اپنے اہل خانہ کے حق میں توکل کرنا درست نہیں ، ان کے لیے بقدر حاجت کمانا ضروری ہے، اسی طرح سال بھر کے لیے کھانا وغیرہ جمع کرکے رکھنا بھی توکل کے منافی نہیں ۔البتہ توکل کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بندہ اس وقت کے لیے ضرورت کے مطابق رکھ لے اور بقیہ مال ذخیرہ نہ کرے بلکہ فقراء میں تقسیم کردے۔ ٭اپنے آپ کو تکلیف دہ چیزوں سے بچانا بھی توکل کے خلاف نہیں ۔([5])
(19)(حکایت)توکل بہترین چیز ہے:
حضرت سیدنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبیان فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ آئیے ہم اورآپ یہ عہد کریں کہ ہم دونوں میں سے جس کا بھی پہلے انتقال ہوگا وہ خواب میں آکر دوسرے کو اپنا حال بتائے گا۔ میں نے کہا: ’’ کیا ایسا ہوسکتاہے ؟ ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ ہاں ! مؤمن کی روح آزاد رہتی ہے، روئے زمین میں جہاں چاہے جاسکتی ہے ۔ ‘‘ بعدازاں حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا وصال ہوگیا۔ میں ایک دن قیلولہ کر رہا تھاتو اچانک (خواب میں )حضرت سلمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے سامنے آگئے اوربلند آوازسے سلام کیا، میں نے سلام کا جواب دیا اور ان سے دریافت کیا کہ وصال کے بعد آپ پر کیا گزری؟ اورآپ کس مرتبے پر ہیں ؟ ‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’ میں بہت ہی اچھے حال میں ہوں اورمیں آپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کرتے رہیں کیونکہ توکل بہترین چیز ہے، تو کل بہترین چیز ہے، توکل بہترین چیز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع