30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مغفرت طلب کی جارہی ہے تو وہ منہ میں خشک ہوجاتی۔ جب کوئی دنیا سے تعلق قائم کرتا ہے توموت اس کا تعلق ختم کردیتی ہے ۔ ‘‘ پھرکہنے لگا: ’’ اگر انسان سچے دل سے تو بہ کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بھی معاف فرمادیتا ہے اور جب بندہ گناہوں کو چھوڑنے کا عزمِ مصمم (پختہ اِرادہ)کرلے تو اس کے لئے آسمانوں سے فتوحات اُترتی ہیں اور اس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں او ر ان دعاؤں کی برکت سے اس کے سارے غم کافور (دُور)ہوجاتے ہیں ۔ ‘‘ راہب کی حکمت بھری باتیں سن کرمیں نے اس سے کہا: ’’ میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ، کیا تم اس بات کو پسند کر وگے ؟ ‘‘ تو وہ راہب کہنے لگا: ’’ میں تمہارے ساتھ رہ کر کیا کروں گا، مجھے تو اس خدا عَزَّ وَجَلَّکا قرب نصیب ہے جو رزاق ہے اور رُوحوں کو قبض کر نے والا ہے ، وہی موت وحیات دینے والا ہے، وہی مجھے رزق دیتا ہے، کوئی اور ایسی صفات کا مالک ہو ہی نہیں سکتا۔ ‘‘ (یعنی مجھے وہ ذات کا فی ہے ، میں کسی غیر کا محتاج نہیں ) ([1])
خلوت اِختیار کرنے کے نو(9) طریقے:
(1)خلوت سے متعلق بزرگانِ دِین کے اَقوال کا مطالعہ کیجئے: چند اَقوال یہ ہیں : ٭حضرت سیدنا سہل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ خلوت، حلال کھانے کے ساتھ درست ہوتی ہے اور حلال کھانا اس وقت درست ہوتا ہے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکا حق ادا کیا جائے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا جریری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ گوشہ نشینی یہ ہے کہ تم لوگوں کے ہجوم میں داخل ہو جاؤ اور اپنے باطن کو ان کی مزاحمت (سامنے آنے)سے محفوظ رکھو، اپنے نفس کو گناہوں سے الگ رکھو اور تمہارا باطن حق کے ساتھ مربوط (وابستہ) ہو۔ ‘‘ ٭ کہا گیا ہے کہ ’’ جس نے گوشہ نشینی کو ترجیح دی اس نے حق کو پالیا۔ ‘‘ ٭ حضرت سیدنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ میں نے خلوت سے بڑھ کر کوئی چیز اِخلاص کی ترغیب دینے والی نہیں دیکھی۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : ’’ گوشہ نشینی کی مشقت برداشت کرنا لوگوں کے میل جول اور مُدَارات (اچھی طرح پیش آنے)سے زیادہ آسان ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا مکحول رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ اگر مخلوق سے میل جول میں بھلائی ہے تو گوشہ نشینی میں سلامتی ہے۔ ‘‘ ([2])
(2)آدابِ خلوت کی معلومات حاصل کیجئے: خلوت یعنی گوشہ نشینی کے بھی کچھ آداب ہیں ، جب تک بندہ اُن آداب کو نہ بجالائے اُس وقت تک خلوت اِختیار نہ کرے کہ اِس سے نقصان کا اندیشہ ہے، چند آداب یہ ہیں : (۱)خلوت وگوشہ نشینی اِختیار کرنے والے کو چاہیے کہ اَوّلاًدرست عقائد کا علم حاصل کرے تاکہ شیطان اُسے وسوسوں کے ذریعے بہکا نہ سکے، پھر ضروری اَحکامِ شرعیہ کی تفصیلی معلومات حاصل کرے تاکہ اس کے ذریعے فرائض وواجبات کی اچھے طریقے سے ادائیگی کرسکے اور خلوت کا مقصد حقیقی (یعنی رِضائے الٰہی وعبادت پر اِستقامت)حاصل ہو۔ علم عقائد و مسائل کے بغیر خلوت اِختیار کرنے والا ایسا ہے جیسے ٹیڑھی بنیاد پر عمارت کھڑی کرنے والا کہ وہ چاہے جتنی بھی خوبصورت عمارت قائم کرلے وہ کبھی سیدھی نہ ہوگی اور ہمیشہ اس کے گرنے کا خطرہ ہی رہے گا، اس طرح بغیر علم کے خلوت اختیار کرنے والا بھی کبھی نہ کبھی نفس و شیطان کے شکنجے میں آکر گمراہی کے عمیق (گہرے)گڑھے میں گر سکتاہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے ایک گوشہ نشین سے فرمایا: ’’ پہلے علم حاصل کروپھر گوشہ نشینی اختیار کرو۔ ‘‘ ([3]) (۲) خلوت اور گوشہ نشینی درحقیقت بری خصلتوں سے دُور رہنے کا نام ہے پس اس کی غرض اپنے اَعمال میں تبدیلی لانا ہےنہ کہ اپنی ذات سے ہی دُور ہوجانا، اسی لیے جب پوچھا گیا کہ عارِف کون ہے؟ تو صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے جواباً ارشادفرمایا: ’’ جو ظاہر میں مخلوق کے ساتھ ہوتا ہے اور باطنی اِعتبار سے اُن سے جدا ہوتا ہے۔ ‘‘ (۳) حضرت سیدنا ابو عثمان مغربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ جو شخص صحبت پر خلوت کو ترجیح دیتا ہے اسے چاہیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر کے علاوہ تمام اَذکار کو چھوڑ دے اور اپنے ربّ کی رضا کے علاوہ تمام اِرادوں سے خالی ہوجائے اور اگر نفس تمام اَسباب کا مطالبہ کرے تو اُس سے بھی الگ ہو جائے، اگر یہ صورت پیدا نہیں ہوتی تو اُس کی خلوت اُسے فتنے یا آزمائش میں ڈال دے گی۔ ‘‘ (۴)حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ یہ دیکھو کہ تمہیں خلوت کے ساتھ اُنس (محبت)ہے یا خلوت میں تمہارا اُنس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ ہے؟ اگر تمہارا اُنس خلوت کے ساتھ ہے تو جب تم خلوت سے نکلو گے تو تمہارا اُنس ختم ہوجائے گا اور اگر تمہیں خلوت میں اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ اُنس ہوگا تو تمہارے لیے صحرا اور جنگل تمام جگہیں برابر ہوں گی۔ ‘‘ ([4]) (۵)خلوت اختیار کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ دل سے ان تمام وسوسوں کو نکال دے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر سے دوری کا سبب بنتے ہیں ۔ (۶)تھوڑے رزق پر قناعت کرے۔ (۷)نیک عورت سے شادی کرے یا نیک شخص کی صحبت اختیار کرے تاکہ دن بھرذکرو اذکار میں مشغولیت کے بعد کچھ وقت ان کے ذریعے نفس کو آرام پہنچا سکے۔ (۸)لمبی زندگی کی آس نہ لگائے، صبح اس حال میں کرے کہ شام کی امید نہ ہواور شام اس حال میں کرے کہ صبح کی امید نہ ہو۔(۹)تنہائی وگوشہ نشینی سے جب دل گھبرائے تو موت اور قبر کی تنہائی کو کثرت سے یاد کرے۔([5])
(3)خلوت سے متعلق بزرگانِ دِین کے اَقوال وواقعات کا مطالعہ کیجئے: خلوت کے بارے میں مطالعہ کرنے سے خلوت وگوشہ نشینی اختیارکرنے اور اس کا ذہن بنانے میں معاونت ملے گی۔ اس سلسلے میں مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ حجۃ الاسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی مایہ ناز تصنیف احیاء العلوم، ج۲، ص۷۹۹کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
(4)خلوت اختیار کرنے کی اچھی اچھی نیتیں کرلیجئے: چند نیتیں یہ ہیں : ٭لوگوں کو اپنے شرسے بچاؤں گا۔٭خود کو شریروں کے شرسے محفوظ رکھوں گا۔٭ مسلمانوں کے حقوق پورا نہ کرنے کی آفت سے چھٹکارا حاصل کروں گا۔ ٭تمام وقت خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مصروف رہوں گا۔امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ ان نیتوں کے ساتھ گوشہ نشین ہونے کے بعد انسان کو چاہیے کہ مستقل علم وعمل اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر وفکر میں مشغول رہے تاکہ گوشہ نشینی کے ثمرات حاصل کرسکے۔ ‘‘ ([6])
(5)برے لوگوں کی صحبت کے نقصانات پر غور کیجیے : جب کوئی بری صحبت کے نقصانات پر غور کرے گا تو ان سے دور رہنے اورخلوت اختیار کرنے کا مدنی ذہن بنے گا۔برے لوگوں کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع