30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دلوں کونرم فرمانے والے ! میرے دل کو بھی نرم کر دے اس سے پہلے کہ تو موت کے وقت اسے نرم کرے۔ ‘‘ (آمین) ([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(17)…خلوت وگوشہ نشینی
٭خلوت کے لغوی معنیٰ ’’ تنہائی ‘‘ کے ہیں اور بندے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا حاصل کرنے، تقویٰ وپرہیزگاری کے درجات میں ترقی کرنے اور گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے گھر یا کسی مخصوص مقام پر لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر اس طرح معتدل انداز میں نفلی عبادت کرنا ’’ خلوت وگوشہ نشینی ‘‘ کہلاتا ہے کہ حقوقُ اللہ (یعنی فرائض وواجبات وسنن مؤکدہ) اور شریعت کی طرف سے اس پر لازم کیے گئے تمام حقوق کی ادائیگی، والدین، گھروالوں ، آل اَولاد ودیگر حقوق العباد (بندوں کے حقوق)کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ ٭ صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے نزدیک لوگوں میں ظاہری طور پر رہتے ہوئے باطنی طور پر ان سے جدا رہنا یعنی خودکو ربّ تعالٰی کی طرف متوجہ رکھنا خلوت وگوشہ نشینی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ) وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ(۸) ( (پ۲۹، المزمل: ۸)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو ر ہو۔ ‘‘ اس آیت کے تحت صدرالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : ’’ یعنیعبادت میں اِنقطاع کی صفت ہو کہ دل اللہ تعالٰی کے سوا اور کسی طرف مشغول نہ ہو، سب علاقہ (تعلقات) قطع(ختم)ہوجائیں ، اسی کی طرف توجہ رہے۔ ‘‘ ([2]) ٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: (وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَۘ-اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ(۱۶))(پ۱۶، مریم: ۱۶) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب اپنے گھر والوں سے پورب (مشرق)کی طرف ایک جگہ الگ گئی۔ ‘‘ اس آیت مبارکہ میں حضرت سیدتنا مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی خلوت کا ذکر ہے کہ وہ اپنے مکان میں یا بیت المقدس کی شرقی جانب میں لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خلوت میں بیٹھ گئیں۔([3])
(حدیث مبارکہ)خلوت وگوشہ نشینی ذریعۂ نجات ہے:
حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی: ’’ نجات کا ذریعہ کیا ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور تم کو تمہارا گھر کافی رہے اور اپنی خطاؤ ں پر روؤ۔ ‘‘ ([4]) مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جاؤ، لوگوں کے پاس بلاوجہ نہ جاؤ، گھر سے نہ گھبراؤ، اپنے گھر کی خلوت کو غنیمت جانو کہ اس میں صدہا (سینکڑوں )آفتوں سے امان ہے۔ بزرگ فرماتے ہیں کہ سکوت، لزوم بیوت اور قناعت بالقوت اِلٰی اَنْ یَّمُوْتامان کی چابی ہے یعنی خاموشی، گھر میں رہنا، ربّ کی عطا پر قناعت، موت تک اس پر قائم رہنا۔ ‘‘ ([5])
(1)مطلقاً خلوت رِضائے الٰہی پانے، خود کو نیکیوں میں لگانے، گناہوں سے بچانے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔ہرمسلمان کو چاہیے کہ رضائے الٰہی کے حصول اور عبادات میں پختگی حاصل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ وقت خلوت اختیار کرے، البتہ مختلف اَفراد کے مختلف اَحوال کی وجہ سے اس کے اَحکام بھی مختلف ہیں ، بعض کے لیے خلوت افضل اور بعض کے لیے جلوت (یعنی لوگوں میں رہنا)افضل۔ (2)ایسا عالم دین جس سے لوگ علم دِین حاصل کرتے ہوں اور اگر یہ خلوت اختیار کر لے تو لوگ شرعی مسائل سے محروم ہوکر گمراہی میں جا پڑیں گے تو ایسے عالم کے لیے کلیۃً خلوت اِختیار کرناناجائز وممنوع ہے البتہ ایسا صاحب علم شخص جس کے پاس اپنی ضرورت کا علم موجود ہے اور اس کے خلوت اختیار کرنے سے لوگوں کا بھی کوئی نقصان نہیں تو ایسے شخص کے لیے خلوت اختیار کرنا جائز ہے۔(3)ایسا شخص جو ضروریاتِ دِین (فرائض وواجبات وسنن مؤکدہ)سے ناواقف ہو، اگر علم حاصل نہ کرے گا تو نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر گمراہی کے گڑھے میں گرجا ئے گا ایسے شخص کے لیے خلوت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ فرض علوم کوحاصل کرے۔(4) اگر کسی شخص کو اچھی صحبت میسرنہیں ہے اور وہ خلوت اختیار نہیں کرے گا توگناہوں میں مبتلا ہو جائے گا تو ایسے شخص پر لازم ہے کہ حقوق اللہ وحقوق العباد (اللہ تعالٰی اور بندوں کے حقوق)کی ادائیگی کرتے ہوئے بقدرِ ضرورت خلوت اختیار کرے اور خود کو گناہوں سے بچا کر عبادت میں مصروف ہو جائے۔ مرآۃ المناجیح میں ہے: صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ ’’ اب اس زمانہ میں جلوت (لوگوں میں رہنے)سے خلوت افضل، بری صحبت سے تنہائی افضل۔ ‘‘ ([6]) برے لوگوں کی صحبت سے خلوت افضل اور خلوت سے اچھے لوگوں کی صحبت افضل۔ (5)اگر خلوت اختیار کرنے میں کسی بھی طرح حقوق اللہ یا حقوق العباد کی تلفی ہوتی ہو تو ایسی خلوت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔ مثلاً کوئی شخص گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر اس طرح ذکر واَذکار وعبادت وغیرہ میں مصروف ہوجائے کہ جماعت بھی ترک کردے، جمعہ وعیدین میں بھی سستی ہوجائے، کسب حلال ترک کر دے اور اسے یا اس کے گھروالوں کو اس خلوت کی وجہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع