دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

٭قناعت کا لغوی معنی قسمت پر راضی رہنا ہے اور صوفیاء کی اصطلاح میں روز مرہ استعمال ہونے والی چیزوں کے نہ ہونے پر بھی راضی رہنا قناعت ہے۔([1]) ٭حضرت محمد بن علی ترمذی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  ’’ قناعت یہ ہے

کہ انسان کی قسمت میں جو رزق لکھا ہے اس پر اس کا نفس راضی رہے۔ ‘‘ ([2])  ٭‏ اگر تنگدستی ہونے اور حاجت سے کم ہونے کے باوجود صبر کیا جائے تو اسے بھی قناعت کہتے ہیں ۔([3])

(10)عاجزی وانکساری کی تعریف :

لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے۔([4])

(11)تذکرۂ موت کی تعریف :

 خوفِ خداپیدا کرنے،  سچی توبہ کرنے،  ربّ  عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کرنے،  دُنیا سے جان چھوٹنے،  قربِ الٰہی کے مراتب پانے،  اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت حاصل کرنے کے لیے موت کو یاد کرنا تذکرۂ موت کہلاتا ہے۔

(12)حسن ظن کی تعریف :

‏ کسی مسلمان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا  ’’ حسن ظن  ‘‘ کہلاتا ہے۔

(13)توبہ کی تعریف:

جب بندے کو اس بات کی معرفت حاصل ہوجائے کہ گناہ کا نقصان بہت بڑا ہے،  گناہ بندے اور اس کے محبوب کے درمیان رکاوٹ ہے تو وہ اس گناہ کے ارتکاب پر ندامت اختیار کرتا ہے اور اس بات کا قصد واِرادہ کرتا ہے میں گناہ کو چھوڑ دوں گا،  آئندہ نہ کروں گا اور جو پہلے کیے ان کی وجہ سے میرے اعمال میں جو کمی واقع ہوئی اسے پورا کرنے کی کوشش کروں گا تو بندے کی اس مجموعی کیفیت کو توبہ کہتے ہیں ۔ علم ندامت اور اِرادے ان تینوں کے مجموعے کا نام توبہ ہے لیکن بسا اوقات ان تینوں میں سے ہر ایک پر بھی توبہ کا اطلاق کردیا جاتا ہے۔([5])

(14)صالحین سے محبت کی تعریف:

  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاکے لیے اس کے نیک بندوں سے محبت رکھنا، ان کی صحبت اختیار کرنا،  ان کا ذکر کرنا اور ان کا ادب کرنا  ’’ صالحین سے محبت  ‘‘ کہلاتا ہے کیونکہ محبت کا تقاضا یہی ہے جس سے محبت کی جائے اس کی دوستی وصحبت کو محبوب رکھا جائے،  اس کا ذکر کیا جائے،  اس کا ادب واحترام کیا جائے۔

(15)اللہ ورسول کی اطاعت کی تعریف:

  اللہ عَزَّ وَجَلَّاو راس کے رسو ل صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جن باتوں کو کرنے کا حکم دیا ہے ان پر عمل کرنا اور جن سے منع فرمایا ان کو نہ کرنا  ’’ اللہ ورسول کی اطاعت ‘‘  کہلاتا ہے۔

(16)دل کی نرمی کی تعریف:

دل کا خوفِ خدا کے سبب اِس طرح نرم ہونا کہ بندہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے اور نیکیوں میں مشغول کرلے،  نصیحت اُس کے دل پر اَثر کرے،  گناہوں سے بے رغبتی ہو،  گناہ کرنے پر پشیمانی ہو،  بندہ توبہ کی طرف متوجہ ہو،  شریعت نے اس پر جو جو حقوق لازم کیے ہیں ان کی اچھے طریقے سے ادائیگی پرآمادہ ہو،  اپنے آپ،  گھربار،  رشتہ داروں وخلق خدا پر شفقت ورحم و نرمی کرے،  کلی طور پر اس کیفیت کو  ’’ دل کی نرمی ‘‘  سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

(17)خلوت وگوشہ نشینی کی تعریف :

٭خلوت کے لغوی معنیٰ  ’’ تنہائی  ‘‘  کے ہیں اور بندے کا   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا حاصل کرنے،  تقویٰ وپرہیزگاری کے درجات میں ترقی کرنے اور گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے گھر یا کسی مخصوص مقام پر لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر اس طرح معتدل انداز میں نفلی عبادت کرنا  ’’ خلوت وگوشہ نشینی ‘‘ کہلاتا ہے کہ حقوقُ اللہ (یعنی فرائض وواجبات وسنن مؤکدہ) اور شریعت کی طرف سے اس پر لازم کیے گئے تمام حقوق کی ادائیگی،  والدین،  گھروالوں ،  آل اَولاد ودیگر حقوق العباد (بندوں کے حقوق)کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ ٭ صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کے نزدیک لوگوں میں ظاہری طور پر رہتے ہوئے باطنی طور پر ان سے جدا رہنا یعنی خود کوربّ تعالٰی کی طرف متوجہ رکھنا خلوت وگوشہ نشینی ہے۔

(18)توکل کی تعریف:

٭توکل کی اِجمالی تعریف یوں ہے کہ اسباب وتدابیر کو اختیار کرتے ہوئے فقط اللہتبارَک وتعالٰی پر اِعتماد وبھروسہ کیاجائے اور تمام کاموں کو اُس کے سپرد کر دیا جائے۔

(19)خشوع کی تعریف:

بارگاہِ اِلٰہی میں حاضری کے وقت دِل کا لگ جانا یا بارگاہِ اِلٰہی میں دلوں کو جھکا دینا  ’’ خشوع ‘‘  کہلاتا ہے۔([6])

(20)ذِکرُ اللہ کی تعریف :

٭ذِکرکے معنٰی یاد کرنا، یاد رکھنا، چرچا کرنا، خیرخواہی عزت و شرف کے ہیں ۔ قرآنِ کریم میں ذِکر اِن تمام معنوں میں آیا ہوا ہے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّکو یادکرنا،  اُسے یاد رکھنا،  اس کا چرچا کرنا اور اس کا نام لیناذِکرُاللہ کہلاتا ہے۔([7])

(21)راہِ خدا میں خرچ کرنے کی تعریف :

  اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِضا اور اَجروثواب کے لیے اپنے گھروالوں ،  رشتہ داروں ،  شرعی فقیروں ،  مسکینوں ،  یتیموں ،  مسافروں ،  غریبوں و دیگر مسلمانوں پر اور ہرجائز ونیک کام یا نیک جگہوں میں حلال وجائز مال خرچ کرنا  ’’ راہِ خدا میں خرچ کرنا ‘‘  کہلاتا ہے۔

(22)اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی تعریف :

خوشی،  غمی،  راحت،  تکلیف،  نعمت ملنے ، نہ ملنے،  الغرض ہراچھی بری حالت یا تقدیر پر اس طرح راضی رہنا،  خوش ہونا یا صبر کرنا کہ اس میں کسی قسم کا کوئی شکوہ یا واویلا وغیرہ نہ ہو  ’’   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی رہنا ‘‘  کہلاتا ہے۔

(23)خوفِ خدا کی تعریف :

خوف سے مرادہ وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو،  مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر۔ جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی بے نیازی،  اس کی ناراضگی،  اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔([8])

 



    [1] التعریفات للجرجانی،  ص۱۲۶۔

    [2] الرسالۃ القشیریۃ،  باب القناعۃ،  ص۱۹۷۔

    [3] احیاء العلوم،  ۴ / ۲۰۰۔

    

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن