30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گناہوں کو معاف فرمادے ، اے میرے مولا عَزَّ وَجَلَّ! مجھے سچی توبہ کی توفیق دے ، جو عبادات ادا ہونے سے رہ گئیں انہیں ادا کرنےکی ہمت دے دے ، جن بندوں کے حقوق میں نے تلف کئے ان سے بھی معافی مانگنے کا حوصلہ عطا فرما ، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تُو ہرشے پر قادر ہے ، تُو انہیں مجھ سے راضی فرمادے ، یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے پر استقامت عطا فرما ، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما! آمین۔اس کے بعد اس جگہ سے اس یقین سے اٹھے کہ رحیم وکریم پروردگار عَزَّ وَجَلَّنے اس کی توبہ قبول فرما لی ہے ۔پھر ایک نئے عزم کے ساتھ نئی اور پاکیزہ زندگی کا آغاز کرے اور سابقہ گناہوں کی تلافی میں مصروف ہوجائے ۔اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(14)…صَالِحِیْن سے محبت
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاکے لیے اس کے نیک بندوں سے محبت رکھنا، ان کی صحبت اختیار کرنا، ان کا ذکر کرنا اور ان کا ادب کرنا ’’ صالحین سے محبت ‘‘ کہلاتا ہے کیونکہ محبت کا تقاضا یہی ہے جس سے محبت کی جائے اس کی دوستی وصحبت کو محبوب رکھا جائے، اس کا ذکر کیا جائے، اس کا ادب واحترام کیا جائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶))(پ۱۶، مریم : ۹۶) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے عنقریب ان کے لئے رحمٰن محبّت کر دے گا ۔ ‘‘
اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ’’ یعنی اپنا محبوب بنائے گا اور اپنے بندوں کے دل میں ان کی محبت ڈال دے گا ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالٰی کسی بندے کو محبوب کرتا ہے تو جبریل سے فرماتا ہے کہ فلانا میرا محبوب ہے جبریل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر حضرت جبریل آسمانوں میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی فلاں کو محبوب رکھتا ہے سب اس کو محبوب رکھیں تو آسمان والے اس کو محبوب رکھتے ہیں پھر زمین میں اس کی مقبولیت عام کر دی جاتی ہے ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مومنینِ صالحین و اولیائے کاملین کی مقبولیتِ عامہ ان کی محبوبیت کی دلیل ہے جیسے کہ حضور غوثِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سلطان نظام الدین دہلوی اور حضرت سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور دیگر حضرات اولیائے کاملین کی عام مقبولیتیں ان کی محبوبیت کی دلیل ہیں ۔ ‘‘ ([1])٭اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: (وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-) (پ۱۰، التوبۃ : ۷۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ ‘‘ اور باہم دینی محبت و موالات (دوستانہ تعلقات) رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے معین و مددگار ہیں ۔([2])٭اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے: ( قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى(۶۵))(پ۱۶، طہ: ۶۵) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بولے اے موسیٰ یا تو تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں ۔ ‘‘ خزائن العرفان میں ہے: ابتداء کرنا جادو گروں نے ادباً حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی رائے مبارک پر چھوڑا اور اس کی برکت سے آخر کار اللہ تعالٰی نے انہیں دولت ایمان سے مشرف فرمایا۔([3])
چار فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ٭ جب تک تم نیک لوگوں سے محبت رکھوگے بھلائی پر رہو گے اور تمہارے بارے میں جب کوئی حق بات بیان کی جائے تواسے مان لیاکروکہ حق کو پہچاننے والا اس پر عمل کرنے والے کی طرح ہوتاہے۔([4]) ٭آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔([5]) ٭نیک لوگوں کا ذکر گناہوں کے لئے کفّارہ ہے۔([6]) ٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: وہی لوگ میری محبت کے حقدار ہیں جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں ، جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ۔([7])
مطلق صالحین یعنی نیک لوگوں سے محبت کرنا، ان کا ذکر کرنا، صحبت اختیار کرنا، اورادب واحترام کرنا شرعاً جائز ونیک ، باعث اَجروثواب وجنت میں لے جانے والا کام ہے۔حضور نبی کریم رءوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت فرض، عین اِیمان بلکہ اِیمان کی جان ہے، اس کے بغیر کوئی مؤمن مؤمن نہیں ، کوئی مسلمان مسلمان نہیں ۔تمام صحابہ کرام ، اَہل بیت اَطہار، اَزواجِ مطہرات رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی محبت بھی عین سعادت ورحمت الٰہی سے خاتمہ بالخیر کی ضمانت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع