دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

ہماری مغفرت ہو۔ آمین([1])

توبہ میں تاخیر کی سات (7)وجوہات اور ان کا حل:

(1)گناہوں کے انجام سے غافل رہنا: اس کا حل یہ ہے کہ بندہ اپنا یوں ذہن بنائے کہ محض ایک ڈاکٹر کی بات پر اعتبار کرکے آئندہ نقصان سے بچنے کے لئے کئی اشیاء کو ان کی تمام تر لذت کے باوجود چھوڑ دیتا ہوں تو کیا یہ نادانی نہیں ہے کہ میں نے ایک بندے کے ڈرانے پر اپنی لذتوں کو چھوڑ دیا لیکن تمام کائنات کے خالق  عَزَّ وَجَلَّکے وعدۂ عذاب کو سچا جانتے ہوئے اپنے نفس کی ناجائز خواہشات کو ترک نہیں کرتا ۔

(2) دل پر گناہوں کی لذت کا غلبہ ہونا: اس کا حل یہ ہے کہ بندہ اس طرح سوچ وبچار کرے کہ جب میں زندگی کے مختصر ایام میں ان لذتوں کو نہیں چھوڑ سکتا تو مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لذتوں (یعنی جنت کی نعمتوں )سے محرومی کیسے گوارہ کروں گا؟جب میں صبر کی آزمائش برداشت نہیں کرسکتا تو نارِ جہنم کی تکلیف کس طرح برداشت کروں گا ؟

(3) طویل عرصہ زندہ رہنے کی امید ہونا: اس کا حل یہ ہے کہ بندہ اس طرح غور کرے کہ جب موت کا آنا یقینی ہے اور مجھے اپنی موت کے آنے کا وقت بھی معلوم نہیں تو توبہ جیسی سعادت کو کل پر مو قوف کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے ؟جس گناہ کو چھوڑنے پر آج میرا نفس تیار نہیں ہورہا کل اس کی عادت پختہ ہوجانے پر میں اس سے اپنادامن کس طرح بچاؤں گا؟اوراس بات کی بھی کیا ضمانت ہے کہ میں بڑھاپے میں پہنچ پاؤں گا یا نوکری سے ریٹائر ہونے تک میں زندہ رہوں گا ؟

(4)رحمت الٰہی کے بارے میں دھوکے کا شکار ہونا: اللہ عَزَّ وَجَلَّبڑا غفوررحیم ہے،  ہمیں اللہکی رحمت پر بھروسہ ہے وہ ہمیں عذاب نہیں دے گا۔اس کا حل یہ ہے کہ بندہ اس بات پر غور کرے کہ اللہ  تعالٰی کے رحیم وکریم ہونے میں کسی مسلمان کو شک وشبہ نہیں ہوسکتا لیکن جس طرح یہ دونوں اس کی صفات ہیں اسی طرح قہار اور جبار ہونا بھی ربّ  عَزَّ وَجَلَّکی صفات ہیں اور یہ بات بھی قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ کچھ نہ کچھ مسلمان جہنم میں بھی جائیں گے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ مسلمان تو غضب ِ الٰہی  عَزَّ وَجَلَّکا شکار ہوں اور جہنم میں جائیں لیکن مجھ پر رحمت الٰہی کی چھماچھم برسات ہو اور مجھے داخل جنت کیا جائے؟([2])

(5) بعد توبہ استقامت نہ ملنے کا خوف ہونا: اس کا حل یہ ہے کہ یہ سراسر شیطانی وسوسہ ہے کیونکہ آپ کو کیا معلوم کہ توبہ کرنے کے بعد آپ زندہ رہیں گے یا نہیں ؟ ہوسکتا ہے کہ توبہ کرتے ہی موت آجائے اور گناہ کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔ وقت توبہ آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ ہونا ضروری ہے ،  گناہوں سے بچنے پر استقامت دینے والی ذات تو ربّ العالمین کی ہے ۔اگر ارتکاب ِگناہ سے محفوظ رہنا نہ بھی نصیب ہوا تو بھی کم از کم گذشتہ گناہوں سے تو جان چھوٹ جائے گی اور سابقہ گناہوں کا معاف ہوجانا معمولی بات نہیں ۔اگر بعد توبہ گناہ ہو بھی جائے تو دوبارہ پُرخلوص توبہ کرلینی چاہيے کہ ہوسکتا ہے یہی آخری توبہ ہو اور اسی پر دنیا سے جانا نصیب ہو ۔

(6)کثرتِ گناہ کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوجانا: اس کا حل یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہے،  رحمت خداوندی کس طرح اپنے امیدوارکو آغوش میں لیتی ہے ، اس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جاسکتا ہےکہ مکی مدنی سرکار،  جناب احمد مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ حق تعالٰی اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ مہربان ہے،  جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے۔ ‘‘ ([3])

(7)توبہ کرنے میں شرم وجھجک محسوس کرنا: توبہ کرنے کے بعد جب میرا اندازِ زندگی تبدیل ہوگا مثلاً پہلے میں نمازیں قضا کردیا کرتا تھا مگر بعد ِ توبہ پانچ وقت مسجد کا رُخ کرتے دکھائی دوں گا ،  پہلے میں شیوڈ تھا بعد ِ توبہ میرے چہرے پر سنت مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیعنی داڑھی شریف سجی ہوئی نظر آئے گی تو لوگ مجھے عجیب نگاہوں سے دیکھیں گے اور مجھے شرم محسوس ہوگی۔ یاد رکھیے!  یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے،  ذرا سوچئے تو سہی کہ آج ان لوگوں کی پرواہ کرتے ہوئے اگر آپ نیکی کے راستے پر چلنے سے کتراتے رہے اور سنتوں سے منہ موڑتے رہے لیکن کل جب قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اپنا نامۂ اعمال پڑھ کر سنانا پڑے گااور اگر اس میں گناہ ہی گناہ ہوئے تو کس قدر شرم آئے گی ۔ لہٰذا آخرت میں شرمندہ ہونے سے بچنے کے لئے دنیاکی عارضی شرم وجھجھک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوراً توبہ کی سعادت حاصل کرلینی چاہيے ۔

توبہ کرنے کا ذہن بنانے کےچھ (6)طریقے:

(1)توبہ نہ کرنے کے نقصانات پر غور کیجئے: جو بندہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے توبہ کی طرف نہیں بڑھتا تو اسے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل پر گناہوں کی سیاہی تہہ درتہہ جمتی رہتی ہے حتی کہ زنگ سارے دل کو گھیر لیتا ہے اور گناہ عادت وطبیعت بن کر رہ جاتا ہے اور پھر وہ صفائی کو قبول نہیں کرتا۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ اُسے بیماری یا موت آگھیرتی ہے اور اُسے گناہ کے اِزالے کی مہلت نہیں مل پاتی۔ اسی لیے روایت میں آیا ہے:  ’’ دوزخیوں کی زیادہ چیخ وپکار توبہ میں ٹال مٹول کے سبب ہوگی۔ ‘‘ ([4])

(2)اَچانک آنے والی موت کو یاد رکھیے: کئی ہنستے بولتے انسان اچانک موت کا شکار ہوکر اندھیری قبر میں پہنچ جاتے ہیں ،  انہیں توبہ کا موقع ہی نہیں ملتا،  جب بندہ اچانک آنے والی موت کو یاد رکھے گا تو امید ہے اسے توبہ کا مدنی ذہن نصیب ہوگا۔ اسی لیے حکمت ودانائی کے پیکر حضرت سیدنا حکیم لقمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت فرمائی:  ’’ بیٹا!  توبہ میں تاخیر نہ کرنا کیونکہ موت اچانک آتی ہے۔ ‘‘ ([5])

(3)خود کو عذابِ جہنم سے ڈرائیے:  خدانخواستہ بغیر توبہ کے انتقال ہوگیا اور ربّ تعالٰی ناراض ہوگیا تو جہنم کا سخت عذاب میرا مقدر ہوگا،  جہنم کا عذاب سہنے کی کس میں طاقت ہے،  جہنم کا



    [1] حکایتیں اور نصیحتیں ،  ص ۳۶۳۔

    [2] توبہ کی روایات وحکایات،  ص۲۱ماخوذا۔

    [3] مسلم،   کتاب التو بۃ ،  باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالی ،  ص ۱۴۷۲،  حدیث:۲۷۵۴ ۔

    [4] احیاء العلوم،  ۴ / ۳۸۔

    [5] احیاء العلوم،  ۴ / ۳۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن