30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔([1])
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشادفرماتا ہے: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاؕ-) (پ۲۸، التحریم: ۸)ترجمۂ کنز الایمان: ’’ اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے۔ ‘‘ صدرالافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’ توبۂ صادِقہ جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اَعمال میں ظاہر ہو، اُس کی زندگی طاعتوں اور عبادتوں سے معمورہو جائے اور وہ گناہوں سے مجتنب(یعنی بچتا) رہے۔امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور دوسرے اَصحاب نے فرمایا کہ توبۂ نصوح وہ ہے کہ توبہ کے بعد آدمی پھر گناہ کی طرف نہ لوٹے جیسا کہ نکلا ہوا دودھ پھر تھن میں واپس نہیں ہوتا۔ ‘‘ ([2])
(حدیث مبارکہ)توبہ کرنے والاربّ تعالی کو پسند ہے:
سردارِ دو جہان، محبوبِ رحمن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عالیشان ہے: ’’ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّتوبہ کرنے والے ، آزمائش میں مبتلا مؤمن بندے کو پسند فرماتا ہے۔ ‘‘ ([3])
ہرمسلمان پر ہر حال میں ہر گناہ سے فوراً توبہ کرنا واجب ہے، یعنی گناہ کی معرفت ہونے کے بعداس پر ندامت اختیار کرنا اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کرنا اور گزرے ہوئے گناہوں پر ندامت وشرمندگی اور افسوس کرنا بھی واجب ہے اور وجوبِ توبہ پر اِجماعِ اُمت ہے۔([4])
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’ سچی توبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے وہ نفیس شے بنائی ہے کہ ہر گناہ کے ازالے کو کافی ووافی ہے، کوئی گناہ ایسا نہیں کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں تک کہ شرک وکفر۔ سچی توبہ کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پراس لیے کہ وہ اس کے رَبّ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی تھی، نادِم وپریشان ہو کرفوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گُناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دِل سے پُورا عزم کرے، جو چارۂ کار اس کی تلافی کا اپنے ہاتھ میں ہوبجا لائے۔مثلاً نماز روزے کے ترک یا غصب (ناجائز قبضہ)، سرقہ(چوری)، رشوت، ربا(سود)سے توبہ کی تو صرف آئندہ کے لیے ان جرائم کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے جو نماز روزے ناغہ کیے ان کی قضا کرے، جو مال جس جس سے چھینا، چرایا، رشوت، سود میں لیا انہیں اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کردے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو اتنا مال تصدق (یعنی صدقہ)کردے اور دل میں یہ نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگر تصدق پر راضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انہیں پھیر دوں گا۔ ‘‘ ([5])
(13)(حکایت)توبہ واستغفار ومجاہدہ کے سبب روح پرواز کرگئی:
ایک دن حضرت سیدنا منصوربن عمار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار لوگوں کو وَعظ ونصیحت کرنے کے لئے منبرپرتشریف لائے اوراُنہیں عذابِِ اِلٰہی سے ڈرانے اور گناہوں پر ڈانٹنے لگے۔ قریب تھاکہ لوگ شدتِ اِضطراب سے تڑپ تڑپ کر مَرجاتے۔ اس محفل میں ایک گنہگار نوجوان بھی موجُود تھاجو اپنے گناہوں کی وَجہ سے قبر میں اُترنے کے متعلق کافی پریشان تھا۔ جب وہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اِجتماع سے واپس گیا تویوں لگتاتھا جیسے بیان اس کے دل پر بہت زیادہ اَثراَنداز ہوچکاہے۔وہ اپنے گناہوں پر نادِم ہو کر اپنی ماں کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ’’ اے میری ماں ! آپ چاہتی تھیں کہ میں شیطانی لہو ولعب اور خدائے رحمن عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی چھوڑ دوں لہٰذا آج سے میں اسے تَرک کرتا ہوں ۔ ‘‘ اوراس نے اپنی ماں کو یہ بھی بتایا کہ میں حضرت سیدنا منصوربن عمار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کے اِجتماعِ پاک میں حاضر ہوا اور اپنے گناہوں پر بہت نادِم ہوا۔ چُنانچہ ماں نے کہا: ’’ اے میرے بیٹے! تمام خُوبیاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے تجھے بڑے اچھے اَنداز سے اپنی بارگاہ کی طرف لوٹایا اور گُناہوں کی بیماری سے شِفا عطا فرمائی اور مجھےقوی اُمید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّمیرے تجھ پر رونے کے سبب تجھ پر ضرور رَحم فرمائے گا اور تجھے قبول فرماکر تجھ پر اِحسان فرمائے گا۔ ‘‘ پھر اس نے پوچھا: ’’ اے بیٹے! نصیحت بھرا بیان سنتے وَقت تیرا کیا حال تھا؟ تو اس نے جواب میں چند اَشعار پڑھے، جن کا مفہوم یہ ہے : ’’ میں نے توبہ کے لئے اپنا دامن پھیلا دیا ہے اوراپنے آپ کو مَلامت کرتے ہوئے مطیع وفرمانبردار بن گیا ہوں ۔جب بیان کرنے والے نے میرے دِل کو اِطاعت خداوَندی کی طرف بُلایا تو میرے دل کے تمام قفل(یعنی تالے) کھل گئے۔اے میری ماں ! کیا میرا مالک ومولیٰ عَزَّ وَجَلَّ میری گنا ہوں بھری زندگی کے باوجُود مجھے قبول فرمالے گا۔ہائے اَفسوس! اگر میرا مالک مجھے ناکام ونامُرادواپس لوٹادے یا اپنی بارگاہ میں حاضرہونے سے روک دے تو میں ہلاک ہو جاؤں گا ۔ ‘‘ پھر وہ نوجوان دن کو روزے رکھتا اور راتوں کو قیام کرتا یہاں تک کہ اس کا جسم لاغر وکمزور ہو گیا، گوشت جھڑ گیا، ہڈیاں خشک ہو گئیں اور رَنگ زَرد ہو گیا۔ایک دن اس کی ماں اس کے لئے پیالے میں ستولے کر آئی اور اِصرار کرتے ہوئے کہنے لگی: ’’ میں تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم دے کر کہتیہوں کہ یہ پی لو، تمہاراجسم بہت مَشَقَّت اُٹھا چکا ہے۔ ‘‘ چنانچہ ماں کی بات مانتے ہوئے جب اس نے پیالہ ہاتھ میں لیا توبے چینی وپریشانی سے رونے لگااور اللہ عَزَّ وَجَلَّکےاس فرمان کو یاد کرنے لگا: ( یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَایَكَادُ یُسِیْغُهٗ( (پ۱۳، ابراھیم: ۱۷)ترجمۂ کنز الایمان: ’’ بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اورگلے سے نیچے اُتارنے کی اُمید نہ ہوگی۔ ‘‘ پھر اس نے زور زور سے رونا شروعکردیا اور زمین پر گرگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی رُوْح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع