30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کوئی فائدہ نہیں ۔ ‘‘ ([1])
(3) مسلمان بھائیوں کی خوبیوں پر نظر رکھیے: اس سے حسن ظن کی دولت نصیب ہوگی کیونکہ جو بندہ اپنے مسلمان بھائیوں کی خامیوں پر نظر رکھتا ہے وہ عموماً بدگمانی میں مبتلا ہوجاتا ہے، ویسے بھی ایک حقیقی مسلمان کے لیے خوش نظر ہونا سعادت مندی کی بات ہے کہ وہ حتی المقدور مسلمان بھائیوں کی اچھائیوں پر ہی نظر رکھتا ہے۔
عیبوں کو ڈھونڈتی ہے عیب جو کی نظر
جو خوش نظر ہیں وہ ہنر و کمال دیکھتے ہیں
(4)دِل کو وسوسوں سے پاک کیجیے : وسوسے شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور شیطان کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ کوئی مسلمان اپنے دوسرے مسلمان کے بارے میں حُسْنِ ظن کرے بلکہ اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی طرح اس کے دل میں اس کے بھائی کے متعلق گندے خیالات اور وسوسے پیدا کرکے اسے بدگمانی میں مبتلا کردوں جس کے سبب یہ دیگر باطنی بیماریوں میں مبتلا ہو کر اپنی دنیا وآخرت کو تباہ وبرباد کردے، جب بھی کسی مسلمان کی بدگمانی کا وسوسہ پیداہوتو ’’ لَاحَولَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم ‘‘ پڑھیے۔
(5) اپنی اِصلاح کی کوشش جاری رکھیے: جو شخص اپنی اِصلاح کی کوشش جاری رکھتا ہے وہ دیگر مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی سے کام نہیں لیتا بلکہ اچھا گمان رکھتا ہے۔ عربی مقولہ ہے: اِذَا سَاءَ فِعْلُ الْمَرْءِ سَاءَتْ ظُنُوْنُہُیعنی جب کسی کے کام برے ہوجائیں تو اس کے گمان بھی برے ہوجاتے ہیں ۔ ‘‘ ([2])
(6)اپنے آپ کو تجسس سے بچائیے: تجسس یعنی مسلمانوں کی ٹوہ میں لگے رہنا بھی بدگمانی کی طرف لے جانے والی ایک سیڑھی ہے، جب بندہ ہر وقت اس چکر میں رہے کہ کون کیا کررہا ہے تو پھر شیطان بھی اس کے دل میں طرح طرح کے برے خیالات پیدا کرتا رہتا ہے اوروہ بدگمانی کا شکار ہوکر حسن ظن سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
(7)بدگمانوں کی صحبت سے دُور رہیے: جب بندہ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے جو دیگر مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی سے بھرپور کچھ نہ کچھ اظہار خیال کرتے ہی رہتے ہیں تو ان کا اثر اس پر بھی ہوجاتا ہے اور پھریہ بھی بدگمانی میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی سے گفتگو کرتے ہوئے تیسرے شخص کے بارے میں کلام ہی نہ کیا جائے یا کیا بھی جائے تو اچھا کلام کیا جائے، اسی طرح بے فائدہ کلام یا کام کو ترک کردیاجائے۔فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: ’’ اِنسان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے کہ جو نفع نہ دے اسے چھوڑ دے۔ ‘‘ ([3])
(8)بدگمانی سے بچتے ہوئے حسن ظن کے مواقع تلاش کیجئے: چند مواقع یہ ہیں : ٭ آپ کی دعوت میں نہ پہنچنے والے اسلامی بھائی نے ملاقات ہونے پر اپنا کوئی عذر پیش کیا تو حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اس کے عذر کو قبول کرلیجئے۔٭آپ نے اپنی اولاد کو کوئی کام بولا وہ نہ کرسکی تو حسن ظن سے کام لیجئے کہ ہوسکتا ہے ان کے ذہن سے نکل گیا ہو۔ ٭ کسی کو فون کیا اور وہ نہ اٹھائے تو حسن ظن سے کام لیجئے کہ ہوسکتا ہے وہ کہیں مصروف ہو۔ ٭اسی طرح آپ کے میسیج کا جواب نہ آئے تو یوں حسن ظن کیجئے کہ ہوسکتا ہے ابھی تک انہوں نے میسیج ہی نہ پڑھا ہو، یا پڑھنے کے بعد ان کے ذہن سے نکل گیا ہو۔٭آپ نگران ہیں ، ماتحت نہ آیا یا لیٹ ہوگیا تو حسن ظن سے کام لیجئے کہ بس لیٹ ہوگئی ہوگی، یا ہوسکتا ہے اس کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آگیا ہو، یاہوسکتا ہے اس کی طبیعت ناساز ہو۔ ٭ آپ نے کسی کو بلایا اس نے توجہ نہ دی تو حسن ظن کرلیجئے کہ ہوسکتا ہے اس تک آپ کی آواز پہنچی ہی نہ ہو۔٭آپ نے کسی کو کھانے کی دعوت دی، اس نے قبول نہ کی تو حسن ظن سے کام لیجئے کہ ہوسکتا ہے اس نے پہلے ہی کھانا کھا لیا ہو، یا ہوسکتا ہے اس کا نفلی روزہ ہو۔ ٭ دو افراد سرگوشی کررہے ہوں تو حسن ظن سے کام لیجئےکہ ہوسکتا ہے کوئی ضروری گفتگو کر رہے ہوں ۔٭کسی نے قرض لیا اور رابطے میں نہیں آرہا تو حسن ظن سے کام لیجئے کہ ہو سکتا ہے کہیں مصروف ہوگا۔الغرض والدین و اولاد، بھائی و بہن، زوج و زَوجہ، ساس و بہو، سسر و داماد، نند و بھاوَج بلکہ تمام اہلِ خانہ و خاندان نیز اُستاد و شاگرد، سیٹھ و نوکر، تاجر و گاہک، اَفسرو مزدور، حاکم و محکوم یہ تمام لوگ اپنے اپنے مختلف معاملات میں حسن ظن قائم کرنے کی ترکیب بناسکتے ہیں ، واضح رہے کہ بدگمانی کے مواقع تو بہت ہوتے ہیں کیونکہ ان میں شیطان کی معاونت ہوتی ہے لیکن عموماً حسن ظن کے مواقع بہت کم نظر آتے ہیں ، حالانکہ بندہ تھوڑا سا غور کرے تو وہ تمام مواقع جہاں شیطان ہم سے بدگمانی کرواتا ہے حسن ظن سے کام لیاجاسکتا ہے، بس کوشش کرنا شرط ہے۔
(9)حسن ظن کی دعا کیجیے: حسن ظن اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، حسن ظن کے سبب رحمت الٰہی بندے کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے، لہٰذا بارگاہِ الٰہی میں حسن ظن کی دعا یوں کیجئے: ’’ یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری سوچ کو پاکیزہ فرماکر مجھے حسن ظن کی دولت عطا فرما، بدگمانی کو مجھ سے دُور فرمادے۔ ‘‘ آمین
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(13)…توبہ
جب بندے کو اس بات کی معرفت حاصل ہوجائے کہ گناہ کا نقصان بہت بڑا ہے، گناہ بندے اور اس کے محبوب کے درمیان رکاوٹ ہے تو وہ اس گناہ کے ارتکاب پر ندامت اختیار کرتا ہے اور اس بات کا قصد واِرادہ کرتا ہے میں گناہ کو چھوڑ دوں گا، آئندہ نہ کروں گا اور جو پہلے کیے ان کی وجہ سے میرے اعمال میں جو کمی واقع ہوئی اسے پورا کرنے کی کوشش کروں گا تو بندے کی اس مجموعی کیفیت کو توبہ کہتے ہیں ۔ علم ندامت اور اِرادے ان تینوں کے مجموعے کا نام توبہ ہے لیکن بسا اوقات ان تینوں میں سے ہر ایک پر بھی توبہ کا اطلاق کردیا جاتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع