دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

مسلمان کو یہی حکم ہے کہ مسلمان کے ساتھ نیک گُمان کرے اور بدگُمانی ممنوع ہے۔ ‘‘ ([1])

(حدیث مبارکہ)مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی حرمت:

حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو طواف کرتے ہوئے یہ فرماتے سنا:  ’’ (اے کعبہ! )تو کتنا پاکیزہ ہے،  تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے،  تو کتنا معظم ہے،  تیری حرمت کتنی زیادہ ہے،  لیکن اس ذات کی قسم!  جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی جان ہے!    اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک ایک مؤمن،  اس کے مال،  اس کے خون،  اس کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی حرمت تیری حرمت سے بھی زیادہ ہے۔ ‘‘ ([2])

حسن ظن کا حکم:

مفسر قرآن صدرالافاضل مولانا مفتی نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں :  ’’ حُسن ظن کبھی تو وَاجب ہوتاہے جیسے   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ اچھا گمان رکھنا اور کبھی مستحب جیسے کسی نیک مؤمن کے ساتھ نیک گمان کرنا۔ ‘‘ ([3])علامہ عبدالغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ جب کسی مسلمان کا حال پوشیدہ ہو (یعنی اس کے نیک وبد ہونے کا علم نہ ہو تو)تو اُس سے حُسن ظن رکھنا مستحب اور اُس کے بارے میں بدگمانی کرنا حرام ہے۔ ‘‘ ([4])

(12)(حکایت)حسن ظن کی برکت سے شفا مل گئی:

منقول ہے کہ ایک بارڈاکوؤں کی ایک جماعت لوٹ مار کے لیے نکلی،  اسی دوران اُنہوں نے رات ایک مسافر خانے میں قیام کِیا اور وہاں یہ ظاہر کیا کہ ہم لوگ راہِ خدا کے مسافر ہیں ۔مسافرخانے کامالِک نیک آدمی تھا اُس نے رِضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ پانے کی نیت سے ان کی خوب خدمت کی، صبح وہ ڈاکو کسی طرف روانہ ہوگئے اور لوٹ مار کرکے شام کو واپَس وَہیں آگئے۔ گزشتہ شب مسافر خانے والےکے جس لڑکے کو (اُنہوں نے) چلنے پھرنے سے معذور دیکھا تھاوہ آج بِلا تکلف یعنی بغیر کسی تکلیف کے چل پھر رہا تھا!  اُنہوں نے تعجب کے ساتھ مسافر خانے والے سے پوچھا: ’’ کیا یہ وہی کل والا معذورلڑکانہیں ؟ ‘‘  اُس نے بڑے احترام سے جوابدیا:  ’’ جی ہاں ! یہ وہی ہے۔ ‘‘  پوچھا: ’’ یہ کیسے صحت یاب ہوگیا؟ ‘‘  جواب دیا: ’’  یہ سب آپ جیسے راہِ خدا‏کے مسافِروں کی بَرکت ہے،  بات یہ ہے کہ آپ لوگوں نے جو کھایا تھا اُس میں سے کچھ بچ گیا تھا،  ہم نے آپ حضرات کا جُوٹھا کھانا بہ نیت شِفا اپنے معذور بچے کو کِھلایا اور جھوٹے پانی سے اس کے بدن پر مالش کی،    اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ جیسے نیک بندوں کے جھوٹے کھانے اورپانی کی برکت سے ہمارے معذور بچے کو شِفاء عطا فرمادی۔ ‘‘  جب ڈاکوؤں نے یہ سُنا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے،  روتے ہوئے کہنے لگے:  ’’  یہ سب آپ کے حسنِ ظن کا نتیجہ ہے ورنہ ہم تو سخت گنہگار لوگ ہیں ،  سنو ہم راہِ خداکے مسافر نہیں ڈاکو ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اِس کرم نوازی نے ہمارے دلوں کی دُنیا زیر و زبر کردی،  ہم آپ کو‏گواہ بنا کر توبہ کرتے ہیں ۔ ‘‘  چنانچہ اُن ڈاکوؤں نے تائب ہو کر نیکی کا راستہ اپنا لیا اور مرتے دم تک توبہ پر ثابت قدم رہے۔([5])

حسن ظن کا ذہن بنانے اور حسن ظن قائم کرنے کے نو (9)طریقے:

(1)حسن ظن کے فوائد پیش نظر رکھیے : ٭حسن ظن ایک جائزوحلال،  باعث اجر وثواب وجنت میں لے جانے والا کام ہے۔٭حسن ظن سے احترامِ مسلم پیدا ہوتا ہے۔ ٭حسن ظن سے بدگمانی دور ہوجاتی ہے۔٭حسن ظن سے دلی کینہ دور ہوجاتا ہے۔ ٭ حسن ظن سے بغض اور حسد دور ہوتا ہے۔٭حسن ظن سے دل میں مسلمانوں کی محبت پیدا ہوتی ہے۔٭حسن ظن سے ناجائز دشمنی ختم ہوجاتی ہے۔ ٭حسن ظن سے بدلہ لینے کی چاہت ختم ہوتی ہے۔٭حسن ظن سے عفوودرگزرکی سعادت نصیب ہوتی ہے۔٭حسن ظن سے سکونِ قلب نصیب ہوتا ہے۔٭حسن ظن کرنے سے بندہ غیبت سے بچ جاتا ہے۔٭حسن ظن کرنے سے آپس میں محبت برھتی اور نفرت ختم ہوتی ہے۔٭حسن ظن کرنے میں مسلمانوں کی عزت کا تحفظ ہے۔٭حسن ظن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں کوئی نقصان نہیں ۔ چنانچہ شیخ طریقت امیر اہلسنّت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں :  ’’ حسن ظن میں کوئی نقصان نہیں اور بدگُمانی میں کوئی فائدہ نہیں ۔ ‘‘ ([6])

(2)بدگمانی کی ہلاکتوں ونقصانات پر غور کیجیے: ٭بدگمانی ایک ناجائزوحرام اورجہنم میں لے جانے والا کام ہے۔٭بدگمانی سے احترامِ مسلم ختم ہو جاتا ہے۔ ٭ بدگمانی حسن ظن کی دشمن ہے۔٭بدگمانی برترین جھوٹ ہے۔٭بدگمانی سے دلی کینہ پیداہوجاتا ہے۔٭بدگمانی سے بغض اور حسد پیدا ہوتا ہے۔٭بدگمانی سے دل میں مسلمانوں کی نفرت پیدا ہوتی ہے۔٭بدگمانی سے ناجائز دشمنی پیداہوجاتی ہے۔ ٭بدگمانی سے بدلہ لینے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔٭بدگمانی عفوودرگزرکی سعادت سے محروم کردیتی ہے۔ ٭جس نے اپنے مسلمان بھائی سے برا گمان رکھا اس نے اپنے ربّ سے برا گمان رکھا۔ ٭ بدگمانی سے سکونِ قلب رفع یعنی ختم ہوجاتا ہے۔ ٭بدگمانی کرنے سے بندہ غیبت میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔٭بدگمانی کرنے سے آپس میں نفرت بڑھتی اور محبت ختم ہوتی ہے۔ ٭بدگمانی کرنے میں مسلمانوں کی عزت کی پامالی بھی ہے۔٭بدگمانی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں ۔ چنانچہ شیخ طریقت امیر اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں :  ’’ حسن ظن میں کوئی نقصان نہیں اور بدگُمانی



    [1] خزائن العرفان،  پ۱۸،  النور،  تحت الآیۃ: ۱۲۔

    [2] ابن ماجہ،  کتاب الفتن،  باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ،  ۲ / ۳۱۹،  حدیث: ۳۹۳۲۔

    [3] خزائن العرفان،  پ۲۶،  الحجرات ،  تحت الآیۃ ۱۲ ۔

    [4] الحدیقۃ الندیۃ ،   ۲ / ۱۶ملخصا۔

    [5] کتاب القلیوبی،  ص۲۰۔

    [6] بدگمانی،  ص۴۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن