30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو یاد کرکے پاسکتا ہے اس طرح کہ دنیا سے الگ تھلک رہے تاکہ دنیاوی نعمتوں میں دلچسپی نہ رہے اور لذتیں بدمزہ ہوجائیں کیونکہ ہر وہ لذت وخواہش جو انسان کے لیے بدمزہ ہو وہ اسبابِ نجات میں سے ہے۔ ‘‘ ([1])
حضرتِ سیِّدُناسالم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِمفرماتے ہیں : ایک مرتبہ مُلکِ روم سے کچھ قاصد حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَسِیْبکے پاس آئے توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’ جب تم لوگ کسی کو اپنا بادشاہ بناتے ہو تو اس کاکیا حال ہوتا ہے؟ ‘‘ کہا: جب ہم کسی کو اپنا بادشاہ بناتے ہیں تواس کے پاس ایک گَورکن (یعنی قبر کھودنے والا) آکر کہتا ہے: ’’ اے بادشاہ ! اللہ عَزَّ وَجَلَّتیری اِصلاح فرمائے ! جب تجھ سے پہلا بادشاہ تخت نشین ہو ا تو اس نے مجھے حکم دیا: میری قبر اس اس طرح بنانا اور مجھے اس طرح دفن کرنا۔ ‘‘ چنانچہ قبرتیار کرلی گئی۔پھر اس کےپاس کفن فروش آکر کہتا ہے: اے بادشاہ! اللہتیری اصلاح فرمائے ! جب تجھ سے پہلا بادشاہ تخت نشین ہوا تواس نے مرنے سے قبل ہی ا پنا کفن ، خوشبو اورکافور وغیرہ خریدلیا پھر کفن کو ایسی جگہ لٹکا دیا گیا جہاں ہروقت نظر پڑتی رہے اور موت کی یاد آتی رہے۔ ‘‘ اے مسلمانوں کے امیر ! ہمارے بادشاہ تو اس طرح موت کو یاد کرتےہیں ۔رومی قاصد کی یہ بات سن کر حضرتِ سیدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر نے فرمایا: ’’ دیکھو! جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملنے کی امید بھی نہیں رکھتاوہ موت کو کس طرح یاد کرتا ہے، اسے بھی موت کی کتنی فکر ہے؟‘‘ اس واقعہ کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہت زیادہ بیمار ہوگئے اوراسی بیماری کی حالت میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہو گیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پر رحمت ہواور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین([2])
تذکرۂ موت کا ذہن بنانے اور کرنے کے گیارہ (11)طریقے:
(1)موت سے متعلق روایات کا مطالعہ کیجئے: چندروایات یہ ہیں : ٭اگر جانور موت کے بارے میں وہ کچھ جان لیتے جو انسان جانتا ہے تو تمہیں کھانے کے لیے کوئی موٹا جانور نہ مل پاتا۔٭جو دن رات میں بیس مرتبہ موت کو یاد کرے اسے شہیدوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔٭موت مؤمن کے لیے تحفہ ہے۔٭موت ہرمسلمان کے لیے کفارہ ہے۔٭موت کو زیادہ یاد کرو کہ یہ گناہوں کو مٹاتی اور دنیا سے بے رغبت کرتی ہے۔ ٭جدائی ڈالنے کے لیے موت ہی کافی ہے۔٭نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے۔ ٭موت کو زیادہ یاد کرنے اور اس کی زیادہ تیاری کرنے والے لوگ عقل مند ہیں ۔([3])
(2) موت سے متعلق اقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے: چند اقوال یہ ہیں : ٭ حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ موت نے دنیا کو رسوا کر کے کسی عقل مند کے لیے کوئی خوشی نہ چھوڑی۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ مؤمن موت سے بہتر کسی غائب چیز کا انتظار نہیں کرتا، نیز فرمایا کرتے کہ میری موت کی خبر کسی کو مت دینا اور مجھے تیز تیز میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی طرف لے چلنا۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْنکے سامنے جب موت کا ذکر کیا جاتا تو آپ کے جسم کا ہرحصہ سن ہوجاتا۔٭حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَسِیْب روزانہ رات کے وقت علماء کو جمع کرتے پھر آپس میں مل کر قبروآخرت اور موت کے بارے میں گفتگو کرتے پھر سب یوں روتے گویا ان کے سامنے جنازہ موجود ہے۔
٭حضرت سیدنا ابراہیم تیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ دو چیزوں نے مجھ سے دنیا کی لذتیں چھڑادیں ، ایک موت کی یاد نے اور دوسرا بارگاہِ الٰہی میں کھڑنے ہونے نے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’ جو شخص موت کو پہچان لیتا ہے اس پر دنیا کی مصیبتیں اور غم ہلکے ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘ ([4])
(3)موت کو اپنے سامنے سمجھتے ہوئے یاد کیجئے: امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ موت کو یاد کرنے کا فائدہ اس طریقے سے پہنچ سکتا ہے کہ موت کو اپنے سامنے سمجھتے ہوئے یاد کرے اور اس کے علاوہ ہرچیز کو اپنے دل سے نکال دے جیسے کوئی شخص خطرناک جنگل میں سفر کا ارادہ کرے یا سمندری سفر کا ارادہ کرے تو بس اسی کے بارے میں غور وفکر کرتا رہتا ہے، لہٰذا جب موت کی یاد کا تعلق دل سے براہِ راست ہوگا تو اس کا اثر بھی ہوگا اور علامت یہ ہوگی کہ دنیا سے دل اتنا ٹوٹ چکا ہوگا کہ دنیا کی ہر خوشی بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ ‘‘ ([5])
(4) موت کی یاد پختہ کرنے والے اَقوال کا مطالعہ کیجئے: تین اقوال یہ ہیں : ٭ حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ جب تم مردوں کو یاد کرو تو اپنے آپ کو بھی انہی میں شمار کرو۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ خوش قسمت ہے وہ شخص جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔ ‘‘ ٭ حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر فرماتے ہیں : ’’ تم اس بات میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے کہ روزانہ صبح شام کسی نہ کسی کو بارگاہِ الٰہی کے لیے تیار کرتے رہو اور اسے گڑھے میں ڈال دیتے ہو حالانکہ مٹی اس کا تکیہ بن جاتی ہے، دوست احباب پیچھے رہ جاتے ہیں اور اسباب ختم ہوجاتے ہیں ۔ ‘‘ ([6])
(5)جنازوں میں شرکت کیجئے: یہ بھی موت کو یاد کرنے اور اس کی یاد کو پختہ کرنے نیز آخرت کی تیاری کرنے میں بہت معاون ہے، جب کوئی جنازوں میں شرکت کرتا ہے تو اسے اپنی موت یاد آجاتی ہے، اس کا دل نرم ہوجاتا ہے، دل کی سختی دور ہوجاتی ہے، اسے نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت ہونے لگتی ہے، وہ یہ تصور کرتا ہے کہ آج اس شخص کا جنازہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع