دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

(10)شکریہ کے ساتھ غلطی قبول کیجیے: ‏عاجزی وانکساری پیدا کرنے میں یہ بات نہایت ہی مددگار ہے،  بندہ جب اپنی غلطی کو شکریہ کے ساتھ تسلیم کرتا اور اس کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو اُس کا نفس خود بخود عاجزی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے،    اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے کبھی بھی اپنی خامیوں کا دفاع نہیں کرتے بلکہ اپنی غلطی کو قبول کرکے اس کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں ،  شیخ طریقت اَمیراہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو بھی دیکھا گیا ہے کہ آپ عاجزی وانکساری کے پیکر ہیں ،  ہرمدنی مذاکرہ کے شروع میں خود اعلان فرماتے ہیں کہ  ’’ اگر بھول کرتا پائیں تو میری اِصلاح فرمائیں ،  مجھے آئیں بائیں شائیں کرتا،  اپنے مَوقف پر بلا وجہ اَڑتانہیں بلکہ شکریہ کے ساتھ اپنی غلطی کو قبول کرتا پائیں گے۔ ‘‘ ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے غلطی قبول کرنے کی عادت بنائیں اِس کی برکت سے ہمارے لیے عاجزی کرنا آسان ہوجائے گا ۔

(11)دوسروں میں اچھائیاں ڈھونڈکر عاجزی کیجئے: تکبر سے بچنے اور عاجزی اختیار کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کی ذات میں اچھائیاں ڈھونڈکر دل میں عاجزی پیدا کیجئے،  مثلاً: ٭کسی جاہل کو دیکھے تو دل میں کہے: اس نے جہالت کی وجہ سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی ہے اور میں نے علم ہونے کے باوجود اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی ہے لہٰذا میرے مقابلے میں اس کا عذر زیادہ قابل قبول ہے۔ ٭ جب کسی عالم کو دیکھے تو یوں کہے:  ’’ یہ اُن باتوں کا علم رکھتا ہے جن کا مجھے علم نہیں لہٰذا میں کس طرح اِس کی برابر ی کرسکتا ہوں ۔ ‘‘ جب آدمی اپنے خاتمے کو پیش نظر رکھے گا تو اپنے آپ سے تکبر دُور کرنے اور عاجزی پیدا کرنے پر قادر ہوسکے گا۔([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (11)تَذْکِرَۂ مَوت

تذکرۂ موت کی تعریف :

 خوفِ خداپیدا کرنے،  سچی توبہ کرنے،  ربّ  عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کرنے،  دُنیا سے جان چھوٹنے،  قربِ الٰہی کے مراتب پانے،  اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت حاصل کرنے کے لیے موت کو یاد کرنا تذکرۂ موت کہلاتا ہے۔

آیت مبارکہ :

اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید میں اِرشاد فرماتا ہے: (كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-) (پ۱۷،  الانبیاء: ۳۵)‏ ترجمۂ کنز الایمان:  ’’ ہرجان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ ‘‘

(حدیث مبارکہ)لذتوں کو ختم کرنے والی موت کی یاد :

حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسولُ ﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ لذتوں کو ختم کرنی والی (موت) کو زیادہ یاد کیا کرو۔ ‘‘ ([2]) یعنی موت کو یاد کرکے لذتوں کو بدمزہ کردو تاکہ ان کی طرف طبیعت مائل نہ ہو اور تم یکسوئی کے ساتھ   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف متوجہ ہوجاؤ۔([3])

تذکرۂ موت کا حکم:

موت کو یاد کرنے کی چارصورتیں ہیں : (1) اگر کوئی شخص دُنیوی مال ودولت میں مگن ہوکر اس کے چھوٹ جانے کی وجہ سے موت کو یاد کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ موت کی مذمت میں مشغول ہوجاتا ہے اور اِس طرح موت کو یاد کرنا اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مزید دُور کردیتا ہے تو یہ تذکرۂ موت ناجائز اور ممنوع ہے۔البتہ اگر وہ اس لیے موت کویاد کرتا ہے تاکہ دنیوی نعمتوں میں اس کی دلچسپی نہ رہے اور لذتیں بدمزہ ہوجائیں تو یہ تذکرۂ موت شرعاًمذموم نہیں بلکہ باعث اجروثواب ہے ۔ (2) اگر کوئی شخص موت کو اس لیے یاد کرتا ہے تاکہ دل میں خوفِ خدا پیدا ہو اور یوں اسے سچی توبہ نصیب ہوجائے تو یہ تذکرۂ موت شرعاً جائز اور باعث اجر و ثواب ہے اور اگر یہ شخص موت کو اس خوف کی وجہ سے ناپسند کرتا ہے کہ کہیں سچی توبہ سے پہلے یا سامانِ آخرت کی تیاری سے پہلے موت نہ آجائے تو ایسا کرنا قابل گرفت نہیں ۔ (3)اگر کوئی شخص موت کو اس لیے یاد کرتا ہے کیونکہ موت اپنے محبوب ربّ  عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کا وعدہ ہے اور محبت کرنے والا محبوب سے ملنے کا وعدہ کبھی نہیں بھولتا اور عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ موت دیر سے آتی ہے لہٰذا یہ شخص موت کی آمد کو پسند کرتا ہے تاکہ نافرمانی کے اس گھر سے جان چھوٹے اور قربِ اِلٰہی کے مرتبہ پر فائز ہوسکے تو یہ تذکرۂ موت بھی جائز،  شرعاً محمود یعنی قابل تعریف اور باعث اجرو ثواب ہے۔([4]) (4) اگر اَحکامِ شرعیہ کے موافق زندگی گزارنے والا،  فرائض وواجبات وسنن کا پابند کوئی شخص اس لیے موت کو یاد کرتا اور اس کی تمنا کرتا ہے کہ موت کے وقت یا قبر میں میٹھے میٹھے آقا،  مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نصیب ہوگی تو یہ تذکرۂ موت بھی شرعاً محمود یعنی قابل تعریف اور باعث اجرو ثواب ہے۔

سکرات میں گر روئے محمد پہ نظر ہوہر موت کا جھٹکا بھی مجھے پھر تو مزہ دے

نبی کے عاشقوں کو موت تو انمول تحفہ ہےکہ اُن کو قبر میں دیدارِ شاہِ انبیاء ہوگا

ہے تمنا ئے عطار یا ربّ ان کے جلوؤں میں یوں موت آئے

جھوم کر جب گرے میرا لاشہ تھام لیں بڑھ کے شاہ مدینہ

(5)حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :  ’’ ہرحال میں موت کو یاد کرنے میں ثواب اور فضیلت ہےاور یہ ثواب اور فضیلت دنیا میں مگن شخص بھی موت



    [1] احیاء العلوم،  ۳ / ۱۰۷۶۔

    [2] ابن ماجۃ،  کتاب الزھد،  باب ذکر الموت والاستعداد،  ۴ / ۴۹۵،  حدیث: ۴۲۵۸۔

    [3] احیاء العلوم،  ۵ / ۴۷۷۔

    [4] احیاء العلوم،  ۵ / ۴۷۵ملخصا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن