دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

کرنے والے پراللہ عَزَّ وَجَلَّرحم فرماتا ہے۔([1])مزید فضائل کے لیے حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی مایہ ناز تصنیف  ’’ اِحیاء العلوم ‘‘ جلدسوم،  ص۹۹۹سے مطالعہ کیجئے۔

(2)عاجزی سے متعلق بزرگانِ دِین کے فرامین کا مطالعہ کیجئے: ٭امیر المؤمنین  سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ بندہ جب   اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لیے عاجزی اِختیار کرتا ہے تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی لگام بلند کرتا ہے اور   اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے مقرر فرشتہ کہتا ہے : اٹھ کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے بلندی عطا فرمائے۔ ‘‘  ٭ اُمّ المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :  ’’ تم لوگ افضل عبادت یعنی عاجزی سے غافل ہو۔ ‘‘  ٭سیدنا  یوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں :  ’’ زیادہ کوشش اور مجاہدے کی بنسبت تھوڑی عاجزی کافی ہے۔ ‘‘ ٭سیدنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے فرمایا:  ’’ عاجزی یہ ہے کہ تم حق کے سامنے جھک جاؤ اور اس کی پیروی کرو اور اگر بچے یا کسی بڑے جاہل سے بھی حق بات سنو تو اسے قبول کرو۔ ‘‘ ٭سیدنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں :  ’’ اصل عاجزی یہ ہے کہ تم دنیوی نعمتوں میں اپنے سے کمتر کے سامنے بھی عاجزی کا اظہار کرو حتی کہ تم یقین کرلو کہ تمہیں دنیوی اعتبار سے اس پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ۔ ‘‘ ([2])مزید فرامین کے لیے  ’’ احیاء العلوم ‘‘  جلد سوم،  ص۱۰۰۲سے مطالعہ کیجئے۔

(3)عاجزی نہ کرنے کے نقصانات پر غور کیجئے: ٭حضرت سیدنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں :  ’’ جس شخص کو مال،  جمال،  لباس یا علم دیا گیا پھر اس نے اس میں عاجزی اختیار نہ کی تو یہ نعمتیں قیامت کے دن اس کے لیے وبال ہوں گی۔ ٭ حضرت سیدنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں :  ’’ جو بندہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمت پر شکر ادا نہ کرے اور نہ ہی عاجزی کرے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس بندے سے اس کا دنیوی نفع بھی روک دیتا ہے اور اس کے لیے جہنم کا ایک طبقہ کھول دیتا ہے،  اب   اللہ عَزَّ وَجَلَّچاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کردے۔٭حضرت سیدنا زیاد نمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں :  ’’ زہد و تقویٰ اپنانے والا عاجزی کے بغیر بے پھل درخت کی طرح ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا ابوعلی جوزجانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں :  ’’   اللہ  عَزَّ وَجَلَّجس شخص کی ہلاکت کا ارادہ فرماتا ہے اس سے تواضع،  خیر خواہی اور قناعت کو روک دیتا ہے۔ ‘‘ ([3])

(4)تکبر کے اَسباب وعلاج کی معرفت حاصل کیجئے: کیونکہ تکبر عاجزی کی ضد ہے،  جب تک آپ تکبر کے اسباب کی معلومات حاصل کرکے ان کا علاج نہیں کریں گے تب تک آپ کی ذات میں عاجزی پیدا نہیں ہوگی۔تکبر کی تعریف،  اَسباب اور علاج جاننے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۳۵۲ صفحات پرمشتمل کتاب  ’’ باطنی بیماریوں کی معلومات ‘‘  صفحہ۲۷۵اور ۹۷صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ تکبر ‘‘  کا مطالعہ کیجئے۔

(5)تکبر کی علامات سے خود کو بچائیے: کہ اس طرح خودبخود عاجزی پیدا ہو جائے گی۔تکبر کی چند علامات یہ ہیں : ٭منہ پھلالینا،  ترچھی نظروں سے دیکھنا،  سرکو ایک طرف جھکانا،  ٭جب تک اس کے پیچھے چلنے والا کوئی نہ ہو وہ نہ چلے۔٭متکبر دوسروں کی ملاقات کے لیے نہیں جاتا۔٭متکبر اپنے قریب بیٹھنے والے سے نفرت کرتا ہے۔ ٭ متکبر مریضوں اور بیماروں کے پاس بیٹھنے سے بھاگتا ہے۔٭متکبر گھر میں اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا۔٭متکبر گھرکا سودا خود نہیں اٹھاتا۔٭ متکبر ادنیٰ لباس نہیں پہنتا۔ ٭ متکبر اپنے حسن وجمال اور طاقت وقوت پر فخر کرتا ہے۔ ٭متکبر اپنے علم پر بھی تکبر کرتا ہے۔([4])واضح رہے کہ یہ تکبر کی علامات ہیں لیکن جس میں یہ علامات پائی جائیں ضروری نہیں کہ وہ متکبر بھی ہو،  اِس لیے کسی بھی مسلمان کی ذات میں اِن علامات کے ہوتے ہوئے اسے متکبر سمجھنا یا اسے متکبر کہنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔

(6)اپنے صلاحیتوں کے قصیدے پڑھنے سے بچیے: ‏ یہ خود پسندی ہے جو باطنی بیماری ہے،  یہ ناجائز وممنوع وگناہ ہے،  جب بندہ خود پسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر عاجزی واِنکساری اس سے رخصت ہوجاتی ہے،  لہٰذا خود پسندی سے اپنے آپ کو بچائیے تاکہ عاجزی وانکساری پیدا ہوا۔ خود پسندی کی معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۵۲صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ باطنی بیماریوں کی معلومات ‘‘  صفحہ ۴۲ کا مطالعہ کیجئے۔

(7)محاسبۂ نفس کیجئے: عموماً بندے کے سامنے جب اس کی خوبیاں ہی بیان ہوں تو وہ تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے اور عاجزی نہیں کرتا کیونکہ عاجزی تو اپنی خوبیوں کو کم جاننے اور خامیوں کو زیادہ جاننے کا نام ہے۔لہٰذا محاسبۂ نفس کرے کہ اِس طرح اس کی خامیاں سامنے آجائیں گی اور اس کے لیے عاجزی کرنا آسان ہوجائے گا۔ حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں :  ’’ بندہ اس وقت تک عاجزی نہیں کرسکتا جب تک اپنے آپ کو پہچان نہ لے۔ ‘‘ ([5])

(8)ہرمسلمان کو اپنے سے اعلیٰ وبرتر جانیے: جب بندہ اپنے آپ کو کسی سے اعلیٰ وبرتر جانتا ہے تو تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے،  عاجزی اختیار نہیں کرسکتا،  لہٰذا ہرمسلمان کو اپنے سے اعلیٰ وبرتر جانیے کہ اس طرح دل میں عاجزی وانکساری پید ا ہوگی۔حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے فرمایا:  ’’ کیا تم جانتے ہو عاجزی کیا ہے؟ عاجزی یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے نکلو تو جس مسلمان کو دیکھو اسے اپنے سے اَفضل گمان کرو۔ ‘‘ ([6])

(9)زبان کا قفل مدینہ لگائیے: دِل کے جذبات کا اظہار زبان سے ہوتا ہے اسی لیے زبان کو دل کا ترجمان کہتے ہیں ،  یہی‏وجہ ہے کہ جن اَفراد کے دل عاجزی سے بھرپور ہوتے ہیں وہ زبان کا قفل مدینہ لگاتے ہیں یعنی فضول گفتگو سے بچتے ہوئے فقط کام کی گفتگو ہی کرتے ہیں ،  جبکہ عاجزی سے خالی دل رکھنے والا شخص سننے سے زیادہ دوسروں کو سنانے کی کوشش کرتا ہے دراصل یہ رویہ اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے لہٰذا اگر آپ اپنے اندر عاجزی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو زبان کا قفل مدینہ لگائیے۔

 



    [1] احیاء العلوم،  ج۳،  ص۱۰۰۱ ماخوذا۔

    [2] احیاء العلوم،  ۳ / ۱۰۰۲ملتقطاً۔

    [3] احیاء العلوم،  ۳ / ۱۰۰۴تا ۱۰۰۸ملتقطا۔

    [4] احیاء العلوم،  ۳ / ۱۰۴۶،  ۱۰۴۷ملتقطا۔

    [5] احیاء العلوم،  ۳ / ۱۰۰۷۔

    $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن