30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیِّدُناابراہیم بن اَدہم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے د ل میں سوچا: ’’ جب ایک روٹی سے بھی گزارہ ہوسکتا ہے تو پھر میں اتنی دنیالے کر کیا کروں ؟ ‘‘ ([1])
قناعت کا ذہن بنانے اور اسے اختیار کرنے کے آٹھ (8)طریقے:
(1)قناعت کے فضائل کا مطالعہ کیجئے: قناعت کے فضائل پر مشتمل چھ روایات ملاحظہ کیجئے: ٭اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جسے اسلام کی طرف ہدایت حاصل ہوئی اس کی روزی بقدرِ کفایت ہےاور وہ اس پر قناعت کرتا ہے۔٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک پسندیدہ بندہ وہ فقیر ہے جو اپنی روزی پر قناعت اختیار کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے راضی رہے۔٭قیامت کے دن ہر شخص چاہے امیر ہو یا غریب اس بات کی تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں صرف بقدرِ کفایت روزی دی جاتی۔٭کل بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّمنتخب اور چنے ہوئے لوگوں کو طلب فرمائے گا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عطا کردہ رِزق پر قناعت کرنے اور اُس کی تقدیر پر راضی رہنے والے ہوں گے۔ ٭ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آلِ محمد کے لیے بقدرِ کفایت رِزق (یعنی قناعت) کی دعا فرمائی۔([2])٭قناعت ایسا خزانہ ہے جو فنا نہیں ہوتا۔([3])
(2)قناعت سے متعلق اَقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے: ٭علامہ ابوالقاسم عبدالکریم بن ھوازن قشیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں کہ محتاج لوگ مُردہ ہیں سوائے اس شخص کے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّقناعت کی عزت سے زندہ رکھے۔٭حضرت سیدنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں کہ قناعت ایک فرشتہ ہے جو صرف مؤمن کے دل میں رہتا ہے۔٭حضرت سیدنا ابوبکر مراغی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ عقل مند وہ ہے جو دُنیوی اُمور کی تدبیر قناعت اور لیت ولعل سے کرے اور آخرت کی تدبیر حرص اور جلدی سے کرے اور دینی معاملات کی تدبیر علم اور کوشش سے کرے۔ ٭حضرت سیدنا ابوعبداللہ بن خفیف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مفقود چیز کی اُمید کو ترک کرنا اور موجود چیز کے ساتھ مال داری اختیار کرنا قناعت ہے۔ ٭ حضرت سیدنا وہب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ عزت اور مالداری دونوں دوست کی تلاش میں نکلیں تو دونوں کی قناعت سے ملاقات ہوگئی تو وہ ٹھہر گئیں ۔ ٭ حضرت سیدنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا کہ جو شخص قناعت اختیار کرتا ہے وہ اہل زمانہ سے آرام پاتا ہے اور تمام لوگوں سے سبقت لے جاتا ہے۔ ٭ حضرت سیدنا کتانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ جو شخص حرص کو قناعت کے بدلے میں فروخت کردے وہ عزت اور مروت کے ساتھ کامیابی حاصل کرتا ہے۔([4])
(3)ربّ تعالٰی پر کامل یقین رکھیے: دنیا و آخرت میں کامیابی کا بنیادی اُصول ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کامل یقین ‘‘ ہے، کیوں کہ بے یقینی کا ایک لمحہ کامیابی کے حصول کےلیے سالہا سال کی جانے والی محنت پر پانیپھیر دیتا ہے جبکہ بسا اوقات ساری زندگی ناکام ہونے والے شخص کو لمحہ بھر کا یقین کامیابی سے ہمکنا ر کروادیتا ہے لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت پر یقین رکھیے کیوں کہ آپ کے یقین کی قوت قناعت کا جذبہ بیدار کرنے میں بے حدمعاوِن ثابت ہوگی ۔
(4)حسابِ قیامت سے خود کو ڈرائیے: اگرچہ ضرورت وحاجت سے زائد مال کمانا مباح ہے لیکن یاد رکھیے جس کا مال جتنا زیادہ ہوگا بروزِ قیامت اس کا حساب کتاب بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا، زیادہ مال ودولت والے کو کل بروزِقیامت دشواری کا سامنا ہوگا، جبکہ قلیل مال والے لوگ جلدی جلدی حساب کتاب سے فارغ ہوجائیں گے، لہٰذا حسابِ قیامت سے خود کو ڈرائیے، اس سے بھی قناعت اختیار کرنے میں بھرپور مدد ملےگی۔
(5)قناعت کی دعا کیجئے: کہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے، دعا عبادت کا مغز ہے، یوں دعا کیجئے: یَااللہ عَزَّ وَجَلَّحضور نبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک قناعت کے صدقے مجھے بھی قناعت کی دولت سے مالا مال فرما۔ آمین
(6)قناعت پسند وں کی صحبت اختیار کیجیے: کہ صحبت اثر رکھتی ہے، عموماً دیکھا گیا ہے جب بندہ فضول خرچ اور عیاش لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو وہ بھی فضول خرچی جیسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے اور پھر اپنی عیاشیاں پوری کرنے کے لیے حرام وناجائز طریقے سے مال کمانے لگ جاتا ہے، جس سے قناعت رخصت ہوجاتی ہے، لہٰذا قناعت پسند لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے کہ اس سے آپ کو بھی قناعت کی دولت نصیب ہوگی۔قناعت پسند انسان متقی ہوتا ہے اور متقی کی صحبت نعمت الٰہی ہے جیسا کہ حضرت سیدنا احمد بن رفاعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ صاحب تقویٰ کی ہم نشینی بندے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکینعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے۔ ‘‘ ([5])
(7)مال ودولت کی حرص کا خاتمہ کیجیے: دنیوی مال ودولت کی حرص مؤمن کے لیے نہایت خطرناک ہے، اگر اس کی روک تھام نہ کی جائے تو بسا اوقات یہ دنیوی بربادیوں کے ساتھ ساتھ اُخروی ہلاکتوں کی طرف بھی لے جاتی ہے، لہٰذا اسے ختم کرنے کے لیے قناعت اختیار کیجئے۔حضرت سیدنا ابراہیم مارستانی رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا فرمان ہے: ’’ جس طرح قصاص کے ذریعے اپنے دشمن سے انتقام لیا جاتا ہے اسی طرح قناعت اِختیار کرکےاپنی حرص سےانتقام لو۔ ‘‘ ([6])
(8) قناعت کے اجزاء کو حاصل کیجئے: جب اس کے اجزاء حاصل ہوجائیں گے تو قناعت بھی خود بخود حاصل ہوجائے گی۔ قناعت تین چیزو ں سے مرکب ہے: عمل، صبر، علم۔ (۱)پہلی چیز عمل ہے یعنی معیشت میں اِعتدال او رخرچ میں کفایت اِختِیار کرنا۔ جو شخص قناعت میں بزرگی چاہتا ہے اُسے چاہئے کہ کم خرچ کرے۔ حدیثِ پاک میں ارشاد ہے: ’’ اَلتَّدْبِیْرُ نِصْفُ الْمَعِیْشَۃِ یعنی تد بیر سے کام لینا نصف معیشت ہے۔ ‘‘ ([7]) (۲) دوسری چیز صبر ہے کہ بندہ اپنے نفس پر صبر کرے اور خواہشات کو کم کرے تاکہ وہ کسی دوسرے حال میں بھی حاجت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع