30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ بھلائی میں غوروفکر کرنا اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے اور برائی پر نادم ہونا برائی چھوڑنے پر ابھارتا ہے۔ ‘‘ ([1])
(11)مشاہدات سے عبرت حاصل کیجئے: دن بھر ہماری نظروں سے کئی مناظر گزرتے ہیں ، ہم کئی مشاہدات کرتے ہیں ، اگر اِ نمشاہدات سے عبر ت حاصل کرنے کا ذہن بن جائے تو محاسبہ کرنے میں کافی آسانی ہوجائے گی۔مثلاً کوئی حادثہ دیکھ کر یہ سوچیں کہ خدانخواستہ اگر حادثہ میرے ساتھ پیش آجاتا تو میرا کیا بنتا؟ کیا میں نے قبر میں جانے کی تیاری کرلی تھی؟ کیا میں نے اپنے آپ کو حساب وکتاب کے لیے تیار کرلیا تھا؟ حضرت سیدنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی گفتگو میں اکثر ایک شعر سے مثال دیا کرتے تھے جس کا ترجمہ یوں ہے کہ ’’ جب اِنسان غوروفکر کرتا ہے تو اسے ہر شے سے عبرت حاصل ہوتی ہے ۔ ‘‘ ([2])
(12)محاسبہ کی عادت بنانے کے لیےمشق کیجیے: مشق کا مطلب ہے ایک کام کو باربار کرنا اور جب کسی کام کو باربار کیا جاتا ہے تو وہ قرار پکڑ جاتا ہے، اُس پر استقامت نصیب ہوجاتی ہے۔کبھی کبھار علیحدگی میں آنکھیں بند کرکے اپنے روز مرہ کے معمولات کے محاسبہ کی یوں مشق کیجیے: ’’ بھولے سے یا جان بوجھ کر صادر ہونے والے گناہوں کو یاد کیجئے کہ کل صبح سے لے کر اب تک جس اَنداز سے میں اپنا وَقت گزارچکا ہوں ، کیا یہ اندازایک مسلمان کو زیب دیتا ہے ؟افسوس! ٭نماز فجر باجماعت ادا کرنے میں سستی کی ٭رسولُ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی میٹھی میٹھی سنت داڑھی بھی منڈائی٭ والدین کی بے ادبی کی، ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آیا٭دن بھر بدنگاہی کی٭ جھوٹ، دھوکہ دہی اور خیانت کرکے مال کمایا ٭ مال کمانے میں اتنا مصروف رہا کہ دیگر نمازوں کا بھی خیال نہ رہا٭آوارہ دوستوں کی مجلس میں بیٹھ کر غیبت، چغلی، حسد، تکبر، بدگمانی جیسے باطنی امراض کا شکار ہوا ٭فلمیں ڈرامے، گانے باجے بھی سنے ٭الغرض یوں سارا وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نافرمانی میں گزار دیا۔اے نادان! تُو کب تک اسی مَنْحوس طرزِ زندگی کواپنائے رکھے گا؟کیا روزانہ یُونہی تیرے نامۂ اعمال میں گُناہوں کی تعداد بڑھتی رہے گی؟کیا تجھے نیکیوں کی بالکل حاجَت نہیں ؟کیا تجھ میں دَوْزَخ کے شدید ترین عذابات برداشت کرنے کی ہمت و طاقت ہے؟کیا تُو جنت سے محرومی کا دُکھ برداشتکر پائے گا؟یاد رکھ! اگراب بھی تُوخوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوا تو اچانک موت کی سختیاں تجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیں گی، لیکن اَفسوس ! اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی، پچھتانے کے سِوا کچھ حاصل نہ ہو گا ، لہٰذا اپنی اس قیمتی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے خدائے احکم الحاکمین عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت اور مؤمنین پر رحم وکرم فرمانے والے رسولِ کریم رءوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کی اتباع میں لگ جا، تجھے دنیا وآخرت کی بھلائیاں نصیب ہوں گی۔
دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو…پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(7)…مُرَاقَبَہ کرنا
مراقبہ کے لغوی معنی نگرانی کرنا، نظر رکھنا، دیکھ بھال کرنا کے ہیں ، اس کا حقیقی معنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکا لحاظ کرنا اور اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہونا ہے اور جب بندے کو اس بات کا علم (معرفت)ہوجائے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّدیکھ رہا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ دل کی باتوں پر مطلع ہے، پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، بندوں کے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور ہر جان کے عمل سے واقف ہے، اس پر دل کا راز اس طرح عیاں ہے جیسے مخلوق کے لیے جسم کا ظاہری حصہ عیاں ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ عیاں ہے، جب اس طرح کی معرفت حاصل ہوجائے اور شک یقین میں بدل جائےتو اس سے پیدا ہونے والی کیفیت کو مراقبہ کہتے ہیں ۔([3])
واضح رہے کہ عرفِ عام میں خلوت (علیحدگی) میں ، یا جلوت (بھیڑ )میں ، یا کسی بزرگ کے مزار پر سر جھکا کر دل میں خوفِ خدا کا تصور جمانا، یا فکر آخرت کرنا، یا ذِکرُاللہ کرنا، یا اوراد ووظائف پڑھنا، یا محبت الٰہی میں گم ہوجانا، یا اپنے شیخ کی باطنی توجہ کے ذریعے قلب کو زندہ کرنا، یا دل کی صفائی کرنا، یا بذیعہ استخارہ ربّ تعالٰی سے کسی معاملے میں معاونت چاہنا وغیرہ۔ اِن تمام صورتوں کو بھی مراقبہ سے ہی تعبیر کیا جاتا ہےلیکن یہاں یہ مراقبہ مراد نہیں ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: (وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠(۵۲)) (پ۲۲، الاحزاب: ۵۲)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ ‘‘
(حدیث مبارکہ)مراقبہ کی مبارک تعلیم:
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ایک طویل حدیث پاک مروی ہے کہ حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہ ِرِسالت میں حاضر ہوئے اور چند سوالات کیے، اُن میں سے ایک سوال یہ تھا کہ ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اِحسان کیا ہے؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ ([4])علامہ ابوالقاسم عبد الکریم ھوازن قشیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْمکا یہ فرمانا کہ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔مراقبہ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مراقبہ بندے کے اس بات کو جاننے (اور یقین رکھنے) کا نام ہے کہ ربّ تعالٰی اسے دیکھ رہا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع