30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَجَلَّکی نافرمانی کرتا رہا، میں دنیا میں تو آبادی سے بربادی کی طرف منتقل ہونا پسند نہیں کرتا تو بروزِقیامت بغیر ثواب وعمل کے حساب و کتاب کیسے دوں گا؟ اور عذاب کا سامنا کیسے کروں گا؟ ‘‘ پھر اس نے ایک زوردار چیخ ماری اورزمین پرگر گیا، جب حرکت دی گئی تو اس کی جان جانِ آفریں کے سپرد ہو چکی تھی۔
محاسبہ کرنے اور اس کا ذہن بنانے کے بارہ (12)طریقے:
(1) محاسبۂ نفس کی معرفت حاصل کیجئے: کہ جب تک کسی چیز کی معلومات نہ ہوں اس چیز تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے، جب محاسبۂ نفس کی معرفت ومعلومات حاصل ہوں گی تو محاسبۂ نفس کرنا بہت آسان ہوجائے گا، اس کے لیے حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیکی مایہ ناز تصنیف ’’ احیاء العلوم ‘‘ جلد۵، صفحہ۳۱۱سے مطالعہ بہت مفید ہے۔
(2)خوف خدا کے واقعات ملاحظہ کیجئے: کہ بندہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں کے خوفِ خدا سے بھرپور واقعات کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کا یہ مدنی ذہن بنتا ہے کہ وہ لوگ نیک پرہیزگار ہونے کے باوجود اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اتنا ڈرتے تھے، میں تو بہت ہی گنہگار ہوں مجھے تو ربّ تعالٰی سے بہت زیادہ ڈرنا چاہیے یوں رحمت الٰہی سے اسے محاسبۂ نفس نصیب ہو جائے گا۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں کے خوفِ خدا سے متعلق واقعات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۶۰صفحات پر مشتمل کتاب ’’ خوفِ خدا ‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
(3)بزرگانِ دِین کے محاسبہ کے واقعات کا مطالعہ کیجئے: ٭حضرت سیدنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں مروی ہے کہ کسی پرندے نے ان کی توجہ نماز سے ہٹا کر باغ کی جانب مبذول کروادی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے غوروفکر کیا اور اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے بطورِ کفارہ اپنا باغ راہ خدا میں صدقہ کردیا۔ ٭ حضرت سیدنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے لکڑیوں کا ایک گٹھا اٹھایا تو کسی نے کہا: ’’ اے ابویوسف! آپ کے بیٹے اور غلام اس کام کے لیے کافی تھے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ میں نفس کا امتحان لینا چاہتا تھا کہ کہیں وہ انکار تو نہیں کرتا۔ ‘‘ ٭سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہرات کے وقت پاؤں پر درہ مار کرنفس سے پوچھتے: ’’ آج تونے کیا عمل کیا؟ ‘‘ ([1])
(4) اپنے آپ کو بے باک اور جری ہونے سے بچائیے: کہ یہ چیزبندے کو تکبر وسرکشی پر مجبور کردیتی ہے اور بندہ کبھی بھی اپنا محاسبہ نہیں کر پاتا۔ عموماً دین کا علم نہ ہونا بے باک اور جری ہونے پر اُبھارتا ہے لہٰذا بندے کو چاہیے کہ علمائے اہلسنت ومفتیانِ عظام سے رابطے میں رہے، ہر معاملے میں ان سے شرعی رہنمائی حاصل کرے، دینی علوم حاصل کرنے کے لیے دینی کتب ورسائل کا مطالعہ کرے، اسلامی عقائد ، نماز ، روزہ، حج، زکوۃ وروز مرہ کے کثیر معاملات کے مختلف مسائل جاننے کے لیے ’’ بہارِشریعت ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
(5)حسابِ قیامت کو یاد کیجئے: کہ آج اگر میں نے دنیا میں اپنا محاسبہ کرکے نیک اَعمال کرنے اور برے اَعمال سے بچنے کی کوشش نہ کی تو کل بروزِ قیامت بارگاہِ الٰہی میں کیسے حساب دوں گا؟ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ اپنے نفس کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور وزن کیے جانے سے پہلے اپنے عمل کا خود وزن کرو اور بہت بڑی پیشی کے لیے تیار ہو جاؤ۔ ‘‘ (1) حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ دنیا میں نفس کا محاسبہ کرنے والوں کا حساب آخرت میں آسان ہوگا جبکہ محاسبہ نہ کرنے والوں کا حساب بروز قیامت سخت ہوگا۔ ‘‘ ([2])
(6) ہر کام کے کرنے سے قبل غور کیجئے: کہ یہ اچھے اور برے عمل کو پرکھنے کے لیے ایک بہترین محاسبہ ہے، ایک شخص نے رسول اکرم شاہ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں عرض کی کہ مجھے نصیحت فرمائیے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جب کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے انجام میں غور وفکر کرلو، اگر انجام اچھا ہو تو اسے کرلو اور اگر برا ہو تو نہ کرو۔ ‘‘ ([3])
(7)محاسبۂ نفس کے لیے وقت مقرر کرلیجئے: محاسبۂ نفس کی عادت بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے لیے وقت مقرر کرلیا جائے، کیونکہ جس کام کے لیے کوئی وقت مقرر کرلیا جائے تو اسے کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔
(8) ہر صبح اور رات محاسبۂ نفس کیجئے: صبح اس طرح محاسبہ کیجئے: ’’ اے نفس! یاد رکھ میری تمام جمع پونجی یہی زندگی ہے اگر یہ ضائع ہوگئی تو میرا تمام مال ضائع ہوجائے گا اور مجھے اخروی تجارت اور اس کے نفع سے محروم ہونا پڑے گا، اے نفس! تو یہ سمجھ کہ تجھے موت آگئی تھی لیکن تجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا گیا ہے لہٰذا اسے غنیمت جان اور آج کسی گناہ میں مشغول نہ ہونا، اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت میں گزارنا۔ ‘‘ رات کو سونے سے قبل دن بَھر کیے جانے والے تمام اَعمال پر غوروفکر کیجئے کہ آج میں نے کون کون سے نیک اعمال کیے؟ نیز نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر کون کون سے گناہ کیے؟ پھرنیک اعمال میں کمی ہو تو نفس سے اس بات کا عہد لیجئے کہ اب اِن نیک اَعمال میں اضافہ کروں گا، اسی طرح اگر گناہ کیے ہیں تو اُن سے سچی پکی توبہ کیجئے، ہوسکے تو صلاۃ التوبہ بھی ادا کیجئے، پھر نفس سے اس بات کا عہد لیجئے کہ آئندہ ان گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
(9) محاسبہ کرنے کے فوائد، نہ کرنے کے نقصانات پر نظر رکھیے: اپنا یوں مدنی ذہن بنائیے کہ میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّسے کچھ پوشیدہ نہیں ، عنقریب مجھ سے حساب ہوگا، مجھے تمام خیالات ولمحات کا بھی حساب دیناہے، بہتر یہی ہے کہ میں اپنی ہر سانس وحرکت اور ہر لحظہ ولمحہ نفس پر کڑی نظر رکھوں کیونکہ جس نے حساب وکتاب سے پہلے خود اپنا محاسبہ کرلیا بروز قیامت اس کا حساب آسان ہوگا اور سوال کے قت وہ جواب دے سکے گا نیز اس کا انجام وٹھکانہ بھی اچھا ہوگا اور جو آدمی اپنا محاسبہ نہیں کرتا اسے حشر کے میدان میں زیادہ دیر رکنا پڑسکتا ہے نیز اس کی برائیاں اسے غضب ورُسوائی میں مبتلا کردیں گی۔
(10)اچھی باتوں کی سوچ اور بری باتوں پر ندامت اختیار کریں : کہ اس طرح اچھی باتوں پر عمل کی ترغیب اور بُری باتوں کو چھوڑنے کی توفیق ملتی ہے۔ حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع