30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(6)…مُحَاسَبَۂ نفس(فکرِمدینہ)
محاسبہ کا لغوی معنی حساب لینا، حساب کرناہے اور مختلف اعمال کرنے سے پہلے یا کرنے کے بعد ان میں نیکی وبدی اور کمی بیشی کے بارے میں اپنی ذات میں غور وفکر کرنا اور پھر بہتری کے لیے تدابیر اختیار کرنا محاسبۂ نفس کہلاتا ہے۔حجۃ الاسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ اَعمال کی کثرت اور مقدار میں زیادتی اور نقصان کی معرفت کے لیے جو غور کیا جاتا ہے اسے محاسبہ کہتے ہیں ، لہٰذا اگر بندہ اپنے دن بھر کے اعمال کو سامنے رکھے تاکہ اسے(نیک اعمال کی) کمی بیشی (کم یا زیادہ ہونے)کا علم ہوتو یہ بھی محاسبہ ہے۔ ‘‘ ([1])
اَعمال سے قبل اور بعد محاسبہ کی نفیس وضاحت:
حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں کہ مؤمن کے دل میں اچانک کوئی پسندیدہ خیال پیدا ہوتا ہے تو مؤمن کہتا ہے: ’’ خدا کی قسم! تو مجھے بہت پسند ہے، تو میری ضرورت بھی ہے، لیکن افسوس! تیرے اور میرے درمیان ایک رُکاوٹ ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر مؤمن اس پسندیدہ خیال کو ترک کردیتا ہے، اسی کا نام عمل سے پہلے محاسبہ ہے۔ پھر فرمایا کہ بعض اوقات مؤمن سے کوئی خطا ہوجاتی ہے تو وہ نفس کو مخاطب کرکے کہتا ہے: ’’ تونے کیا سوچ کر ایسا کیا؟ ‘‘ خدا کی قسم! ایسی خطا میں میرا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ خدا کی قسم! آئندہ میں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کبھی ایسی خطا نہیں کروں گا۔ ‘‘ ([2])
محاسبۂ نفس ، فکرمدینہ، دعوتِ اسلامی:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیک اعمال میں کمی بیشی کے اعتبار سے محاسبۂ نفس کرنے کو تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی اصطلاح میں ’’ فکرمدینہ کرنا ‘‘ کہتے ہیں ۔ شیخ طریقت، امیراہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے مریدین، طالبین، متعلقین، بلکہ دعوتِ اسلامی سے محبت کرنے والے تمام مسلمانوں کو محاسبۂ نفس یعنی فکرمدینہ کرنے کے لیے ’’ مدنی انعامات ‘‘ کا تحفہ عطا فرمایا ہے۔ ’’ مدنی انعامات ‘‘ دراصل مختلف سوالات پر مشتمل نیک اعمال کی معلومات وترغیبات کا ایسا مجموعہ ہے جس پر عمل کرکے دنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں حاصل کی جاسکتی ہیں ، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اسلامی بھائیوں ، اسلامی بہنوں ، مدنی منوں ، خصوصی اسلامی بھائیوں ، مدارس المدینہ اور جامعات المدینہ کے طلبا، اِن تمام کے لیے علیحدہ مدنی انعامات رسائل کی صورت میں مرتب فرمائے ہیں ، آپ بھی نیک اَعمال کو بجالانے، اُن پر استقامت اختیار کرنے، اپنی اور اپنے گھر والوں کی دینی وشرعی واخلاقی تربیت کرنے کے لیے مدنی انعامات کے رسائل حاصل کیجئے، اِن پر عمل کیجئے اور ڈھیروں ثواب کمائیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّاِرشاد فرماتا ہے: ( وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ(۲))(پ۲۹، القیامۃ: ۲)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر بہت ملامت کرے۔ ‘‘ اس آیت مبارکہ کے تحت حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ مؤمن ہمیشہ نفس کو جھڑکتا رہتا ہے کہ تونے فلاں بات کیا سوچ کر کہی؟ فلاں کھانا تونے کس لیے کھایا؟ فلاں مشروب تونے کس لیے نوش کیا؟ جبکہ کافر زندگی بسر کرتا رہتا ہے لیکن کبھی اپنے نفس کو نہیں جھڑکتا (یعنی اس کا محاسبہ نہیں کرتا)۔ ‘‘ ([3])
سروَرِ عالم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ سمجھ دار وہ شخص ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور آخرت کی بہتری کے لئے نیکیاں کرے اور عاجزوہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ تعالٰی سے آخرت کے اِنعام کی امید رکھے۔ ‘‘ ([4])
حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نقل فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہر عقل مند شخص پر لازم ہے کہ وہ نفس کے محاسبہ سے غافل نہ ہو اور نفس کی حرکات وسکنات اور لذات وخیالات پر سختی کرے کیونکہ زندگی کا ہر سانس اَنمول ہیرا ہے جس سے ہمیشہ باقی رہنے والی نعمت (یعنی جنت) خریدی جاسکتی ہے تو اِن سانسوں کو ضائع کرنا یا ہلاکت والے کاموں میں صَرف کرنا بہت سنگین اور بڑا نقصان ہے جو سمجھدار شخص کا شیوہ نہیں ۔ ‘‘ ([5])
(6)(حکایت)محاسبۂ نفس کرنے والاخوش نصیب:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۴۹صفحات پر مشتمل کتاب ’’ حکایتیں اور نصیحتیں ‘‘ ص۵۲پر ہے: حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر کَتَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں : ایک شخص برائیوں اور خطاؤں پر اپنے نفس کا محاسبہ کیاکرتا تھا۔ ایک دن اس نے اپنی زندگی کے سالوں کا حسا ب لگا یا تو سا ٹھ(60) سال بنے، پھر دنوں کا حسا ب کیا تو اکیس ہزار پانچ سو (21500)دن بنے تو اس نے ایک زوردار چیخ ماری اوربے ہو ش ہو کر گر پڑا، جب ہوش میں آیا تو کہنے لگا: ’’ ہائے افسوس! اگر روزانہ ایک گناہ بھی کیا ہو تو اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکے حضور اِکیس ہزار پانچ سو (21500)گناہ لے کر حا ضر ہوں گا تو ان گناہوں کا کیا حال ہوگا جن کا شمار ہی نہیں ؟ ہائے افسوس! میں نے اپنی دنیاآباد کی اور آخرت برباد کی اور اپنے پروردگار عَزَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع