30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَخلاق کہتے ہیں اور اگر عقلی اور شرعی طور پر ناپسندیدہ برے اَفعال ادا ہوں تو اسے بداَخلاقی سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ ‘‘ ([1])
حسن اَخلاق میں شامل نیک اعمال:
حقیقت میں حسن اَخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے، اس میں کئی نیک اعمال شامل ہیں چند اعمال یہ ہیں : معافی کو اختیار کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا، جاہلوں سے اعراض کرنا، قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرنا، محروم کرنے والے کو عطا کرنا، ظلم کرنے والے کو معاف کردینا، خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، نرم مزاجی، بردباری، غصے کے وقت خود پر قابو پالینا، غصہ پی جانا، عفو ودرگزر سے کام لینا، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، مسلمان بھائی کے لیے مسکرانا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں میں صلح کروانا، حقوق العباد کی ادائیگی کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا، دعائے مغفرت کرنا، کسی کی پریشانی دور کرنا، کمزوروں کی کفالت کرنا، لاوارث بچوں کی تربیت کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، بڑوں کا احترام کرنا، علماء کا ادب کرنا، مسلمانوں کو کھانا کھلانا، مسلمانوں کو لباس پہنانا، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا ، مشقتوں کو برداشت کرنا، حرام سے بچنا، حلال حاصل کرنا، اہل وعیال پر خرچ میں کشادگی کرنا۔ وغیرہ وغیرہ۔مزید تفصیل کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ’’ حسن اخلاق ‘‘ اور ’’ احیاء العلوم ‘‘ جلدسوم، صفحہ۱۵۳ تا ۱۶۴ کا مطالعہ کیجئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے: (وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴))(پ۲۹، القلم: ۴)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے ۔ ‘‘ اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: حضرت اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خُلْق قرآن ہے۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مجھے مَکارِمِ اَخلاق و محاسنِ افعال کی تکمیل وتتمیم (مکمل وپورا کرنے)کے لئے مبعوث فرمایا ۔([2])
ترے خُلْق کو حق نے عظیم کہا…تر ی خِلْق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا! …تیرے خالق حسن و ادا کی قسم
(حدیث مبارکہ) میزان عمل میں سب سے وزنی شے:
حضرتِ سیِّدُناابودَرْداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے: ’’ قیامت کے دن مؤمن کے میزان میں حسنِ اَخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہو گی۔ ‘‘ ([3])
حسن اخلاق کے مختلف پہلو ہیں اسی وجہ سے بعض صورتوں میں حسن اخلاق واجب، بعض میں سنت اور بعض صورتوں میں مستحب ہے۔
(5)(حکایت)نوا سۂ رسول کا کمال حسن اَخلاق :
ایک شامی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاحاضر ہوا تو میں نے خچر پر سوار ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ اس جیسا خوبصورت، پروقاراورخوش لباس شخص میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھااورنہ ہی اس کی سواری سے عمدہ سواری کبھی دیکھی تھی، میرا دل اس شخص کی جانب کھنچا جارہا تھا۔جب میں نے ان کے متعلق دریافت کیا تو پتہ چلا کہ یہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضی شیرخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے بڑے فرزند حضرت سیدناامامِ حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں ۔ میرا دل آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکےبغض و عداوت سے بھر گیا، مجھے مولا علی شیرخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے حسد ہو گیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیٹا بھی(شان وشوکت کے لحاظ سے) آپ ہی کی مثل ہے۔میں نے آگے بڑھ کر پوچھا: ’’ کیا تم فرزند ِعلی ہو؟ ‘‘ امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جواب دیا: ’’ جی ہاں ! میں سیدنا علی المرتضی شیرخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا بیٹا ہوں ۔ ‘‘ یہ سنتے ہی میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا علی المرتضی شیرخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو سب وشتم کرنے (یعنی برا بھلا کہنے)لگا۔
جب میں خاموش ہوا توسیدنا امامِ حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے کچھ کہنےیا میری سرزنش کرنے کی بجائے حُسنِ اَخلاق کا بہترین مُظَاہَرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ لگتا ہے تم حاجت مند ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ جی ہاں ! میں حاجت مند ہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ہمارے پاس آجاؤ، اگر تمہیں رہائش کی حاجت ہوئی تو ہم تمہارے قیام کا انتظام کر دیں گے، اگر مال کی حاجت ہوئی تو مالی اعتبار سے خیر خواہی میں ذرہ بر ابر کمی نہیں چھوڑیں گے، اس کے علاو ہ بھی تمہیں کسی چیز کی ضرورت پڑی تو تمہارے ساتھ ضرور تعاون کریں گے۔ ‘‘ حضرت سیدنا امامِ حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس کمالِ حسن اَخلاق کو دیکھ کر اس شامی کے دل میں آپ کی محبت گھر کرگئی۔ وہ شامی شخص کہتا ہے: ’’ جب میں حضرت سیدنا امامِ حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے جدا ہوا تو روئے زمین پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے بڑھ کر مجھے کوئی محبوب نہ تھا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے حسن اَخلاق نے مجھے بہت متاثر کیا ، آپ کا شکریہ ادا کرنے کے سوا میرے لیے کوئی چارہ نہ رہا اور مجھے اپنے بُرے رویے پر انتہائی شرمندگی ہوئی۔([4])
حسن اَخلاق اپنانے کے دس (10)طریقے:
(1)اچھی صحبت اِختیار کیجئے: کہ صحبت اثر رکھتی ہے، جو بندہ جیسی صحبت اختیار کرتا ہے ویسا ہی بن جاتا ہے، اچھوں کی صحبت اچھا اور بروں کی صحبت برا بنادیتی ہے، بداَخلاقوں کی صحبت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع