دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

٭ صبر کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کیا جائے۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:  ’’ جو تم سے قطع تعلق کرے اس سے صلہ رحمی سے پیش آؤ،  جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو۔ ‘‘  اور حضرت سیدنا عیسیٰ رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں تم سے کہتا ہوں کہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دو بلکہ جو تمہارے ایک گال پر مارے اپنا دوسرا گال اس کے آگے کردو،  جو تمہاری چادر چھینے تم کمربند بھی اسے پیش کردو اور جو تمہیں ایک میل ساتھ چلنے پر مجبور کرے تم اس کے ساتھ دو میل تک چلو۔ ‘‘  ان تمام ارشادات میں تکالیف پر صبر کرنے کا فرمایا گیا ہے اور یہی صبر کا اعلیٰ مرتبہ ہے۔([1])

(4)(حکایت) بچھو کے کاٹنے پر صبر:

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۵۶صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فیضانِ ریاض الصالحین ‘‘  جلداول،  صفحہ۳۱۶ پر ہے: حضرت سیدنا سری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے صبر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے صبر سے متعلق بیان شروع کر دیا۔ اسی دوران ایک بچھو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی ٹانگ پر مسلسل ڈنک مارتا رہا لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  پرسکون رہے۔ آپ سے پوچھا گیاکہ اس موذی (یعنی تکلیف دینے والے)  کو ہٹایا کیوں نہیں ؟ فرمایا:  ’’ مجھے   اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا آرہی تھی کہ میں صبر کا بیان کروں لیکن خود صبر نہ کروں ۔ ‘‘ ([2])

صبر کی عادت بنانے کے سات (7)طریقے:

(1)صبر کے فضائل کا مطالعہ کیجئے: ‏کیونکہ کسی بھی نیک کام یا اچھے عمل کے فضائل پیش نظر ہوں تو اس پر عمل کرنے کا جلدی ذہن بن جاتاہے،  صبر تو وہ‏باطنی خوبی ہے کہ جس کے فضائل قرآن و حدیث میں بکثرت بیان فرمائے گئے ہیں ۔صبر کی معلومات،  اَقسام،  آیات،  فضائل وتفصیلی روایات کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتب اِحیاء العلوم(جلدچہارم)،  فیضانِ ریاض الصالحین(جلد اول)،  مکاشفۃ القلوب،  منہاج العابدین،  جنت میں لے جانے والے اَعمال وغیرہ کامطالعہ بہت مفید ہے۔

(2)بارگاہِ اِلٰہی میں صبر کی دعا کیجیے: ‏ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے،  جب مؤمن اپنا ہتھیار ہی استعمال نہیں کرے گا تویقیناً اس کے خطرناک دشمن نفس وشیطان اس پر حملہ آور ہوتے رہیں گے اور مصیبتوں پر صبر وشکر کی بجائے ناشکری وبے صبری جیسے مذموم اَفعال صادر ہوتے رہیں گے۔

‏ (3)اپنی ذات میں عاجزی پیدا کیجئے: ‏کہ کسی کی طرف سے ملنے والی تکلیف پر بے صبری اور انتقامی کاروائی کا ایک سبب تکبر بھی ہے،  جب بندہ اپنی ذات میں عاجزی وانکساری پیدا کرے گا تو انتقامی کاروائی کا ذہن ختم ہوجائے گا اور لوگوں سے ملنے والی تکالیف پر صبر نصیب ہوگااور رحمت الٰہی سے اس صبر پر اجر ملے گا۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ

(4)جلد بازی نہ کیجئے: ‏ہماری زندگی میں کئی کام ایسے ہیں جن میں جلدبازی کی وجہ سے صبر رخصت ہوجاتا ہے،  بلکہ اس جلد بازی کی وجہ سے بسا اوقات شدید نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے،  لہٰذا جلد بازی کی عادت کو دور کیجئے،  صبر سے کام لیجئے۔

(5)معاف کرنے کی عادت اپنائیے: جب کسی کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو نفس اس سے بدلہ لینے پر اُبھارتا ہے جس کی ضد عفوو درگزر یعنی معاف کردینا ہے،  جب بندہ معاف کردینے کی عادت اپنائے گا تو تکالیف پہنچنے پر اسے خود بخود صبر بھی نصیب ہوجائے گا۔

(6)مصیبت میں نعمتوں کو تلاش کیجیے: ‏ یہ بزرگان دین کا طریقہ ہے اور اس سے صبر کرنے میں معاونت ملتی ہے،  ہر مصیبت میں کوئی نہ کوئی نعمت مخفی(چھپی) ہوتی ہے،  مثلاً بسا اوقات ایک چھوٹی مصیبت کسی بڑی مصیبت کو ٹالتی ہے،  کوئی مصیبت کسی گناہ کے لیے کفارہ بن جاتی ہے،  مصیبتیں درجات میں بلندی کا باعث بھی ہوتی ہے،  دُنیوی مصیبتیں اُخروی مصیبتوں سے نجات بھی دلاتی ہیں ،  یقیناً یہ تمام صورتیں ربّ تعالٰی کی بڑی نعمتیں ہیں جو مصیبت میں پوشیدہ ہیں ۔امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے جس مصیبت میں بھی مبتلا کیا اس میں مجھ پر چار نعمتیں تھیں : (۱) وہ آزمائش میرے دین میں نہ تھی۔ (۲) اس سے بڑھ کر مصیبت نہ آئی۔ (۳) میں اس پر راضی ہونے کی دولت سے محروم نہ ہوا۔ (۴) مجھے اس پر ثواب کی امید رہی۔ ‘‘ ([3])

(7)اپنے سے بڑی مصیبت والے کو دیکھیے: کیونکہ جسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ یہی سمجھتا ہے شاید مجھے سب سے زیادہ یا بڑی مصیبت پہنچی ہے اور یہی بات بسا اوقات اسے بے صبری میں مبتلا کردیتی ہے،  جب وہ اپنے سے بڑی مصیبت والے کو دیکھے گا تو شکر کرے گا اور اسے صبر کی نعمت نصیب ہوگی۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (5)…حُسنِ اَخلاق

حسن اَخلاق کی ایک پہلو کے اعتبار سے تعریف: ‏

 ’’ حسن ‘‘  اچھائی اور خوبصورتی کو کہتے ہیں ،   ’’ اَخلاق ‘‘  جمع ہے  ’’ خلق ‘‘  کی جس کا معنی ہے  ’’ رویہ،  برتاؤ،  عادت ‘‘ ۔یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے یا اچھے برتاؤ یا اچھی عادات کو حسن اَخلاق کہا جاتا ہے۔امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :  ’’ اگر نفس میں موجود کیفیت ایسی ہو کہ اس کے باعث عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ اچھے اَفعال ادا ہوں تو اسے حسن



   [1]   اِحیاء العلوم،  ۴ / ۲۱۵۔

   [2]    اِحیاء العلوم،  ۴ / ۲۱۵۔

     [3] احیاء العلوم،  ۴ / ۳۷۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن