دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

بھلائی مل گئی: (۱)شکر کرنے والادل (۲)ذکر کرنے والی زبان  (۳) آزمائش پر صبر کرنے والا بدن اور (۴)اپنے آپ اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرنے والی بیوی۔ ‘‘ ([1])

شکر کے مختلف اَحکام:

(۱) ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں پر شکر ادا کرنا واجب ہے۔ ‘‘ (یعنی دِل واِعتقاد میں اللہ کی طرف نعمت کی نسبت کرے اور نافرمانی میں خرچ نہ کرے۔)([2])اِنعاماتِ الٰہیہ (اللہ تعالٰی کی نعمتوں ) پر شکر ادا کرنا مؤمنین کا طریقہ اور ان کی ناشکری کرنا کفار و منافقین کا طریقہ ہے۔شکر ادا کرنا رِضائے الٰہی اور جنت میں لے جانے والا کام ہے جبکہ ناشکری کرنا ربّ تعالٰی کی ناراضی اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

(۲)انبیاء کرام پرجوانعامِ الٰہی ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور شکر بجا لانا (متعدد صورتوں میں )مسنون (یعنی سنت) ہے اگر کفار بھی قائم کرتے ہوں جب بھی اس کو چھوڑا نہ جائے گاجیسا کہ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور ان کی قوم کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرعون سے نجات دلائی،  وہ اس کے شکرانے میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے،  سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور فرمایا:  ’’ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی فتح کی خوشی منانے اور اس کی شکر گزاری کرنے کے ہم یہود سے زیادہ حق دار ہیں ۔  ‘‘ ([3])

(۳)جس روز اللہ تعالٰی کی خاص رحمت نازل ہو اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں منانا،  عبادتیں کرنا ،  شکرالٰہی بجا لانا طریقۂ صالحین ہے اور کچھ شک نہیں کہ سیدعالم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تشریف آوری اللہ تعالٰی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے،  اس لئے حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی ولادتِ مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکرالٰہی بجا لانا اور اظہارِ فرح اور سرور (خوشی)کرنا مستحسن (اچھا)و محمود (قابل تعریف)اور اللہکے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ۔([4])

(3)(حکایت)معذوری میں بھی شکر ادا کرنے والانیک شخص:

حضرت سیدنا امام اَوزاعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : مجھے ایک بزرگ نے یہ واقعہ سنایا کہ میں اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی  کی تلاش میں ہر وقت سر گرداں رہتا اور ان کی قیام گاہوں کو ڈھونڈنے کے لئے صحراؤں ،  پہاڑوں اور جنگلوں میں پھرتا تا کہ ان کی صحبت سے فیض یاب ہوسکوں ۔ ایک مرتبہ اسی مقصد کے لئے مصر کی طر ف روانہ ہوا ،  جب میں مصر کے قریب پہنچاتوویران سی جگہ میں ایک خیمہ دیکھا، جس میں ایک ایسا شخص موجود تھاجس کے ہاتھ،  پاؤں اور آنکھیں (جذام کی) بیماری سے ضائع ہوچکی تھیں لیکن اس حالت میں بھی وہ مردِعظیم اِن الفاظ کے ساتھ اپنے رب  عَزَّ وَجَلَّکی حمد وثناء وشکراداکررہا تھا:  ’’ اے میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ! میں تیری وہ حمد کرتا ہوں جو تیری تمام مخلوق کی حمد کے برابر ہو۔ اے میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ!  بے شک تُو تمام مخلوق کا خالق ہے اور تو سب پر فضیلت رکھتاہے،  میں اس انعام پر تیری حمد کرتا ہوں کہ تُو نے مجھے اپنی مخلوق میں کئی لوگوں سے افضل بنایا۔ ‘‘ وہ بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ جب میں نے اس شخص کی یہ حالت دیکھی تو میں نے کہا : ’’ خدا  عَزَّ وَجَلَّکی قسم!  میں اس شخص سے یہ ضرور پوچھوں گا کہ کیا حمد کے یہ پاکیزہ کلمات تمہیں سکھائے گئے ہیں یا تمہیں الہام ہوئے ہیں ؟ ‘‘  چنانچہ اسی اِرادے سے میں اس کے پاس گیا اور اسے سلام کیا ،  اس نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے کہا: ’’ اے مرد ِصالح ! میں تم سے ایک چیز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں کیا تم مجھے جواب دو گے؟ ‘‘  وہ کہنے لگا: ’’ اگر مجھے معلوم ہوا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ ضرور جواب دو ں گا۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ وہ کونسی نعمت ہے جس پر تُم   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد کررہے ہو اور وہ کونسی فضیلت ہے جس پر تُم شکر ادا کر رہے ہو؟  ‘‘ (حالانکہ تمہارے ہاتھ،  پاؤں اور آنکھیں وغیرہ سب ضائع ہوچکی ہیں پھربھی تم کس نعمت پر حمدبجا لارہے ہو ؟)   وہ شخص کہنے لگا : ’’ کیا تُو دیکھتا نہیں کہ میرے رب عَزَّ وَجَلَّنے میرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘  میں نے کہا : ’’ کیوں نہیں ،  میں سب دیکھ چکاہوں ۔ ‘‘  پھر وہ کہنے لگا:  ’’ دیکھو! اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّچاہتا تو مجھ پر آسمان سے آگ بر سادیتا جو مجھے جلاکر راکھ بنا دیتی،  اگر وہ پر وردگار  عَزَّ وَجَلَّچاہتا تو پہاڑوں کو حکم دیتا اور وہ مجھے تباہ وبر باد کر ڈالتے،  اگر   اللہ  عَزَّ وَجَلَّچاہتا تو سمندر کو حکم فرماتا جو مجھے غرق کردیتا یا پھر زمین کو حکم فرماتا تو وہ مجھے اپنے اندر دھنسا دیتی لیکن دیکھو،    اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے ان تمام مصیبتوں سے محفوظ رکھا پھر میں اپنے رب  عَزَّ وَجَلَّکا شکر کیوں نہ ادا کروں ،  اس کی حمد کیوں نہ کروں اور اس پاک پرور دگار  عَزَّ وَجَلَّسے محبت کیوں نہ کروں ؟ ‘‘ پھر مجھ سے کہنے لگا: ’’  مجھے تم سے ایک کام ہے،  اگر کر دو گے تو تمہارا احسان ہو گا۔ ‘‘  چنانچہ وہ کہنے لگا: ’’ میرا ایک بیٹا ہے جو نماز کے اوقات میں آتا ہے اور میری ضروریات پوری کرتا ہے اور اسی طرح افطاری کے وقت بھی آتا ہے لیکن کل سے وہ میرے پاس نہیں آیا،  اگر تم اس کے بارے میں معلومات فراہم کردو تو تمہارا احسان ہوگا۔ ‘‘  میں نے کہا:  ’’ میں تمہارے بیٹے کو ضرور تلاش کرو ں گا اور پھر میں یہ سوچتے ہوئے وہاں سے چل پڑا کہ اگر میں نے اس مردِ صالح کی ضرورت پوری کردی تو شاید اسی نیکی کی وجہ سے میری مغفرت ہوجائے۔ ‘‘  چنانچہ میں اس کے بیٹے کی تلاش میں ایک طر ف چل دیا ،  چلتے چلتے جب ریت کے دو ٹیلوں کے درمیان پہنچا تو وہاں کا منظر دیکھ کر میں ٹھٹھک کر ُرک گیا۔میں نے دیکھا کہ ایک درندہ ایک لڑکے کو چیر پھاڑ کر اس کا گو شت کھا رہا ہے،  میں سمجھ گیا کہ یہ اسی شخص کا بیٹا ہے،  مجھے اس کی موت پر بہت افسوس ہوا اور میں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَکہا اور واپس اسی شخص کے خیمے کی طر ف چل دیا ۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر میں نے اس پر یشان حال شخص کو اس کے بیٹے کی موت کی خبر فوراً ہی سنادی تووہ یہ خبر سن کر کہیں مر ہی نہ جائے،  آخرکس طرح اسے یہ غمناک خبر سناؤں کہ اسے صبر نصیب ہو جائے۔ چنانچہ میں اس شخص کے پاس پہنچا،  اسے سلام کیا،  اس نے جواب دیا ،  پھر میں نے اس سے پوچھا:  ’’ میں تم سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کیا تم جواب دو گے ؟ ‘‘  یہ سن کرو ہ کہنے لگا کہ اگر مجھے معلوم ہوا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ضرور جواب دو ں گا۔میں نے کہا : ’’ تم یہ بتاؤ کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے ہاں حضرت سیدنا ایوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مقام ومرتبہ زیادہ ہے یا آپ کا؟ ‘‘  یہ سن کر وہ کہنے لگا : ’’ یقینا حضرت سیدنا ایوب



   [1]   معجم اوسط،  ۵ / ۲۴۴،  حدیث: ۷۲۱۲۔

   [2]   خزائن العرفان،  پ۲،  البقرہ،  تحت الآیۃ: ۱۷۲۔

   [3]   خزائن العرفان،  پ۱،  البقرہ،  تحت الآیۃ: ۵۰ماخوذا۔

   [4]   خزائن العرفان،  پ۷،  المائدہ،  تحت الآیۃ: ۱۱۴۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن