30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔([1])مزید تفصیل کے لیے اِحیاء العلوم، ج۵ ، ص ۲۵۵ سے اِخلاص کے باب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
(9)مخلص کی تعریف کا علم حاصل کیجئے: کیونکہ جب اس بات کا علم ہی نہیں ہوگا کہ مخلص کسے کہتے ہیں تو خود کیسے مخلص بنیں گے؟ ٭حضرت سیدنا یعقوب مکفوف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو ایسے چھپائے جیسے اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ سعادت مند ہے وہ شخص جس کا ایک قدم بھی صحیح ہوجائے کہ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی اور کی نیت نہ ہو۔ ‘‘ ([2])٭ حضرت سیدنا ابو علی دقاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں : ’’ اخلاص مخلوق کی نگاہوں سے بچنے کا نام ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اخلاص کی علامت یہ ہے کہ بندے کے لیے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف اور مذمت دونوں ایک جیسی ہوں ۔ ‘‘ ([3])
(10)اِخلاص نہ ہونے کے اُخروی نقصانات پر غور کیجئے: مثلاً کل بروزِ قیامت ایسے اَعمال منہ پر ماردیے جائیں گے جو اِخلاص کے ساتھ نہ کیے ہوں گے، چنانچہ کل بروزِ قیامت ایک شہید سے فرمایا جائے گا کہ تونے اس لیے قتال کیا تاکہ تجھے بہادر کہاجائے، سو تجھے کہہ لیا گیا، ایک عالم سے فرمایا جائے گا کہ تونے علم اس لیے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے، تجھے قاری کہا جائے، سو تجھے کہہ لیا گیا، ایک مال دار سے فرمایا جائے گا کہ تو نے اس لیے مال خرچ کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے سو تجھے کہہ لیا گیا، پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔([4])
(11)اخلاص سے متعلق اقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے: ٭حضرت سیدنا سہل تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اخلاص یہ ہے کہ بندے کا ٹھہرنا اور حرکت کرنا سب خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہو۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا ابو عثمان نیشاپوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں : ’’ اخلاص یہ ہے کہ فقط خالق کی طرف ہمیشہ متوجہ رہنے کی وجہ سے مخلوق کو دیکھنا بھول جائے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : ’’ اِخلاص اللہ عَزَّ وَجَلَّاور بندے کے درمیان ایک راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف مائل کرے۔ ٭حضرت سیدنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’ اَعمال میں خالص کون ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے عمل کرتا ہےاور پسند نہیں کرتا کہ اس پر کوئی اس کی تعریف کرے۔ ‘‘ ([5])
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’ شکر کی حقیقت نعمت کا تصور اور اُس کا اظہار ہے، جبکہ ناشکری نعمت کو بھول جانا اور اس کو چُھپاناہے۔ ‘‘ ([6])تفسیر صراط الجنان میں ہے: ’’ شکر کی تعریف یہ ہے کہ کسی کے اِحسان و نعمت کی وجہ سے زبان، دل یا اَعضاء کے ساتھ اس کی تعظیم کرنا۔ ‘‘ ([7]) خوشحالی میں شکر کرنے والا شاکر ہے جب کہ مصیبت میں شکر کرنے والا شکور ہے۔عطاء (یعنی دینے) پر شکر کرنےوالا شاکر ہے جبکہ منع (یعنی نہ دینے)پر شکر کرنے والا شکور ہے۔([8])
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ( لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(۷)) (پ۱۳، ابراھیم: ۷)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گااور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے ۔ ‘‘
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے ۔ شکر کی اصل یہ ہے کہ آدمی نعمت کا تصوّر اور اس کا اظہار کرے اور حقیقت شکر یہ ہے کہمُنْعِم (یعنی نعمت دینے والے)کی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اِعتراف کرے اور نفس کو اس کا خُوگر بنائے ۔ یہاں ایک باریکی ہے وہ یہ کہ بندہ جب اللہ تعالٰی کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم و اِحسان کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میں اللہ تعالٰی کی محبت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ مقام بہت برتر (اونچا)ہے اور اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ مُنْعِم کی محبت یہاں تک غالب ہو کہ قلب کو نعمتوں کی طرف التفات باقی نہ رہے، یہ مقام صدیقوں کا ہے ۔ اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ہمیں شکر کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین) ([9])
(حدیث مبارکہ)دنیا وآخرت کی بھلائیاں :
حضرتِ سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جسے چار چیزیں مل گئیں اسے دنیاوآخرت کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع