30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ ہرمرداورہرعورت کوجداجدا سلام سے نوازے گا ۔ تمام نیک عورتیں طوبیٰ درخت کے نیچے سفید موتی کے محل میں حضرت سیِّدَتُنافاطمۃ الزہرارَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس بیٹھی ہوں گی ۔ ان کے لئے بھی ان کے مقام ومرتبہ کے مطابق کرسیاں رکھی جائیں گی ۔
ہم اللہ عَزَّوَجَلَّسے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اپنے فضل وکرم سے اس نعمت ِعظمیٰ سے سرفراز فرمائے ۔ (اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)
اللہ تبارک وتعالیٰ ہرمرداورعورت کوسلام کے بعد فرمائے گا : ’’میرے اولیاء اور مطیع وفرماں برداربندوں کو’’مَرْحَبَا‘‘اے میرے فرشتو! ان کی مہمان نوازی کرو ۔ ‘‘ فرشتے موتی کے دستر خوان پیش کریں گے جن پر مختلف اقسام کے کھانے ہوں گے ۔ جب وہ کھاچکیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرمائے گا : ’’میرے بندوں کو ’’مَرْحَبَا!‘‘ اے میرے فرشتو!ان کوپلاکرسیراب کرو ۔ ‘‘ ملائکہ سونے کے پیالے پیش کریں گے ۔ ہر پیالہ70 موتیوں سے جڑاہوگااور شیشے کے پیالے پیش کریں گے جو سرخ یاقوت سے جڑے ہوں گے ۔ ہر پیالے میں شرابِ طہور کی ایک علیحدہ قسم ہو گی ۔
{۳۸} اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتاہے :
وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا(۲۱) (پ ۲۹، الدھر : ۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اور انہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی ۔
ان میں سے ہر کوئی ایک ایک پیالہ لے کر شرابِ طہور نوش کرے گایہاں تک کہ سیر ہوجائے گاتو پیالہ اس سے کہے گا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی !اگر آپ نے مجھ سے دودھ نوش فرمالیاتو اب شرابِ طہور نوش فرمایئے اور اگر شرابِ طہورپی چکے ہیں تواب صاف ستھرا شہد نوش کیجئے ۔ ‘‘تو وہ اس سے پئے گایہاں تک کہ سیراب ہوجائے گا ۔ پھر ملائکہ کہیں گے : ’’ہمیں ہمارے ربعَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے کہ ہم ان پیالوں سے آپ کوانواع واقسام کی70ذائقوں کی شرابِ طہور سے سیراب کریں ۔ ‘‘ان میں سے ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے زیادہ لذیذ ہوگا ۔ جب وہ سیراب ہوجائیں گے تو اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرمائے گا : ’’میرے مطیع وفرماں بردار اورمجھ سے محبت کرنے والے بندوں کو’’مَرْحَبَا!‘‘اے میرے فرشتو! اب پھلوں سے ان کی تواضع کرو ۔ ‘‘فرشتے سونے کے طباقوں میں مختلف اقسام اور مختلف ذائقوں کے پھل پیش کریں گے ۔ جب وہ کھا چکیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرمائے گا : ’’میرے مطیع ومحبوب بندوں کو ’’مَرْحَبَا!‘‘ اے میرے فرشتو!انہیں خوشبو سے مہکاؤ ۔ ‘‘فرشتے عرش کے نیچے سے سفید مشکِ اَذفر لے کر اُسے جنتیوں پر چھڑک دیں گے ۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرمائے گا : ’’میرے مطیع وفرماں برداربندوں کو ’’مَرْحَبَا‘‘ ا ے میرے فرشتو!انہیں لباس پہناؤ ۔ ‘‘تو فرشتے نورِ رحمن سے چمکتے ہوئے سبز، زرد، سرخ اورسفیدرنگ کے جُبّے پیش کریں گے ۔ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی آنکھوں کی حفاظت نہ فرمائے تو اِس لباس کے نور سے ان کی بصارت ضائع ہو جائے ۔ ہر جنتی ایک ایک جُبّہ پہن لے گا ۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ ارشادفرمائے گا : ’’میرے فرماں بردار اورمجھ سے محبت کرنے والے بندوں کو ’’مَرْحَبَا!‘‘ اے میرے فرشتو! انہیں زیورات سے زینت دو ۔ ‘‘توفرشتے ہر قسم کے زیورات حاضر کردیں گے ۔
بعض حوروں کوان کے سرداروں سے روکے جانے کاسبب ان حوروں کا اُن کے تمام احوال کی اطلاع پاناہے ۔ چنانچہ، ایک حور دوسری سے کہتی ہے : ’’تم نے اپنے سردار کوکیا عمل کرتے ہوئے پایا؟‘‘جواب میں دوسری کہتی ہے : ’’میں نے ان کو نماز اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں گریہ وزاری کرتے ہوئے پایا ۔ ‘‘ توپہلی کہتی ہے : ’’میں نے تو اپنے سردار کونیندکے عالَم میں پایا ۔ ‘‘اس پر دوسری کہتی ہے : ’’میراسردار تو کثرت سے مجاہدے کرتاہے اورتیراسردار تو اِنتہائی غفلت میں ہے ۔ قریب ہے کہ تم بھی میرے سردار کی میراث بن جاؤ ۔ ‘‘توپہلی کہتی ہے : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّنہ کرے کہ میرا آقا مجھ سے جداہو، اللہ عَزَّوَجَلَّمیرے اور اس کے درمیان کبھی جدائی نہ ڈالے اورنہ اس کو محروم کرے ۔ ‘‘اب اگر بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت سے منہ موڑکر معصیت(یعنی گناہ) کا رخ کرتاہے تو اس کا نام محلات سے مٹادیاجاتاہے اوردوسرے جنتیوں کواس کے مراتب اورخدّام کا وارث بنا دیا جاتا ہے اوراگروہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی ہمیشہ اطاعت کرتارہے تو دائمی نعمتوں کا مستحق ہو جائے گا ۔
اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے بندو!حق تعالیٰ کے دروازے کوہمیشہ کے لئے تھام لو اور وقتاًفوقتاًتوبہ کرتے رہواور اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں گریہ وزاری کرتے رہوتا کہ جنت میں اپنے دوستوں کی ملاقات سے محظوظ ہوسکو ۔
وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَاِلَیْہِ الْمَرْجِعُ وَالْمَاٰبِ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ تَسْلِیْمًاکَثِیْرًاکَثِیْرًا
اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن
٭…٭…٭…٭
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع