30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہرجنَّتی محل کے کمرے بڑے بڑے ہیں ۔ ہر کمرے کے 70دروازے ہیں ۔
ہردروازے کے دونوں پٹ سونے کے ہیں ۔ ہر دروازے پر ایسا درخت ہے جس کاتناسرخ مرجان کاہے ۔ اس میں 70ہزارٹہنیاں ہیں ۔ ہر ٹہنی70ہزار موتیوں سے بھری ہوئی ہے ۔ بعض موتی انڈے کے برابر ۔ بعض چنے کے برابر اور دوسرے بعض اس سے بھی چھوٹے ہیں ۔ جنتی چھوٹے بڑے موتیوں میں سے جو بھی لیناچاہیں گے توڑ لیں گے ۔ جب بھی جنتی کوئی موتی توڑے گاتو اس کی جگہ دو موتی اور نکل آئیں گے ۔ کوئی درخت زمرد سے لداہواہوگاتو کوئی یاقوت سے بھرا ہوگا ۔ جنتیوں کو جس کی چاہت ہو گی اسے لے کر( بطورِ زیور) پہنیں گے اور ان درختوں پر سبز پر ندے ہوں گے ۔ ہر پرندہ اُونٹ کے برابر ہو گا او راس درخت کی ٹہنیوں پر بیٹھا اللہ عَزَّوَجَلَّکی تسبیح کرتا ہوگااور کہتاہوگا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی ! جنت کے پھلوں سے کھاؤاور اس کی نہروں سے پیؤکہ یہ سب اپنی ہی ملکیت ہے ۔ ‘‘
پھر اللہ عَزَّوَجَلَّکی قدرت سے وہ پرندہ دسترخوان پر پیش ہوجائے گا اور مختلف اقسام میں اس کاکچھ حصہ بھناہوا، کچھ تلاہوا، کچھ میٹھااور کچھ نمکین وترش پکا ہوا ہو گا ۔ مؤمنین مردوعورت اور حور عین اس میں سے کھائیں گے یہاں تک کہ اس کی ہڈیاں باقی رہ جائیں گی ۔ پھروہ پرندہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قدر ت سے پہلے کی طرح ( زندہ)ہوجائے گا اور ٹہنی پر بیٹھ کر اللہ عَزَّوَجَلَّکی تسبیح بیان کرناشروع کر دے گااور وہ حُلّے (یعنی لباس) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اولیاء کے اشتیاق میں ہیں کہ کب وہ ان کو پہنیں گے او ربے شک محلات اورتمام جواہر اسی ذات کے بنائے ہوئے ہیں جوکسی شے کوفرماتاہے : ’’کُنْ یعنی ہوجا ۔ ‘‘ تووہ ہوجاتی ہے ۔ جنت کے محلات میں کوئی جوڑ توڑ نہ ہو گا ۔ مومن70سال تک ان(محلات) میں عیش وعشرت کی زندگی بسر کرے گا ۔ ایک محل سے دوسرے محل، ایک باغ سے دوسرے باغ مزے کرتا، گھومتا رہے گا ۔
سرخ یاقوت کے گھوڑے اورسفیداونٹ :
جنت الفردوس کے گھوڑے سرخ یاقوت کے ہیں ۔ ان کی زینیں سبز زمرد کی ، پَر سونے کے اور رانیں چاندی کی ہیں اور جنتی گھوڑے کے دو ہاتھ اور دو پاؤں ہوں گے ۔ وہ کہے گا : ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی !مجھ پر سوار ہوجائیے ۔ ‘‘ اگر جنَّتی چلنے کاارادہ کرے گاتووہ چلے گااوراُڑنے کاارادہ کرے گاتووہ اُڑنے لگے گا ۔ اسی طرح اُونٹنیاں او راعلیٰ نسل کے سفید اونٹ بھی ہوں گے ۔ جب مومن ان گھوڑوں میں سے کسی پر سوار ہوگاتو وہ باقی سواریوں پر فخر کرے گااورمومن اپنی بیویوں اور خادماؤں میں سے جسے چاہے گااپنے ساتھ سوار کرے گا ۔ وہ گھوڑا انہیں سیر کراتے ہوئے ایک ساعت میں 70سال کی مسافت طے کرکے جنت کے وسط میں پہنچ جائے گا ۔ پھر وہ سونے اور موتی کاایک ایسامحل دیکھیں گے جس میں جواہر(یعنی موتیوں ) کاایک درخت ہوگاجوعمدہ پوشاکیں (یعنی لباس)اٹھائے ہوئے ہوگا ۔ اس کے پتے زیورات(یعنی سونے چاندی) کے ہوں گے ۔ اس میں بے شمار پھل ہوں گے ۔ ہرپھل مشکیزے کے برابر ہوگااور وہ شہدسے زیادہ میٹھے ہوں گے ۔ جب وہ اس پھل کو کھائیں گے تو بیج باقی رہ جائے گاہر بیج میں سے ایک باندی یا غلام نکلے گا ۔ اس کے رخسار پر اس کے مالک کانام ایسے لکھاہوگاکہ چہرے پر تل سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا ۔ وہ باندی کہے گی : ’’آپ پر سلامتی ہو اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی !مَیں تو عرصۂ دراز سے آپ کے اشتیاق میں تھی ۔ ‘‘
پھر وہ ان محلات کے درمیان دودھ اورصاف شفاف شہد کی نہریں دیکھیں گے ۔ ان نہروں پر یاقوت ، مرجان اور موتی کے خیمے ہیں جن میں خدّام اور حُورو غِلماں کی کثرت ہے ۔ وہ سب کہیں گے : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی !ہم طویل عرصے سے آپ کے مشتاق ہیں ۔ ‘‘مومن اپنی بیویوں کے ساتھ نعمتوں اورلذتوں میں رہے گا ۔ وہ بیوی کے حسن وجمال سے لطف اندوز ہوگااوربیوی اس کے حسن وجمال سے لطف اندوز ہوگی ۔ شوہر کا نام بیوی کے اوربیوی کانام شوہر کے سینے پر لکھاہوگاجوتل سے زیادہ خوبصورت لگے گا ۔ اور اَنوارو تجلیات کی وجہ سے شوہر اپنا چہرہ بیوی کے چہرے اور سینے کے نور میں دیکھے گااوربیوی اپناچہرہ شوہرکے چہرے اور سینے کے نور میں دیکھے گی ۔
جنَّتی اسی حال میں ہوں گے کہ ان کے رب تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے ہدیے آئیں گے اور فرشتے کہیں گے : ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَااَوْلِیَائَ اللّٰہِ!(یعنی اے اللہ تعالیٰ کے دوستو!تم پر سلامتی ہو)یہ ہدیہ تمہارے ربعَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے ۔ ‘‘
{۳۶} اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے :
سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴) (پ۱۳، الرعد : ۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان : سلامتی ہوتم پر تمہارے صبر کابدلہ تو پچھلاگھر کیاہی خوب ملا ۔
خدّام دستر خوان لائیں گے ۔ بعض موتی کے ، بعض یاقوت اور بعض سونے کے ہوں گے ۔ ان پر ایسے برتن ہوں گے جن میں مختلف اقسام کے کھانے ہوں گے ۔
{۳۷}(ارشادباری تعالیٰ ہے : )
وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ(۲۱) (پ۲۷، الواقعہ : ۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اورپرندوں کا گوشت جو چاہیں ۔
ان دستر خوانوں پر موتیوں سے جڑے سبز رومال ہوں گے ۔ جنَّتی اور اس کی بیوی(جودنیامیں تھی)ایک ساتھ کھاناکھائیں گے کیونکہ(جوہدیہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے آئے گا)وہ نصف تو شوہر کے لئے ہوگااور نصف بیوی کے لئے ہوگا کیونکہ اس نے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت میں زندگی گزاری تھی ۔
اوروہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے دیدار سے لذت حاصل کریں گے اوروہ دسترخوان اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی ، اس کی زوجہ، حوروغلماں اورخدّام کے لئے کافی ہوں گے ۔ نہ ان میں سے کچھ کم ہوگا اورنہ ان میں تغیُّر واقع ہوگا ۔ ان کے سروں کے اوپر سے ٹہنیوں پر پرندے ایسی آواز میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی حمدوثنا اور بزرگی بیان کریں گے جس سے جنتی وجد میں آجائیں گے اور سننے والوں نے اس سے زیادہ اچھی آواز نہ سنی ہوگی ۔ فرشتے دائیں اور بائیں جانب آکر ان سے گفتگوکرتے ہوں گے اور ان کو ربعَزَّوَجَلَّ کی بشارتیں سنائیں گے ۔ وہ کھاناکھائیں گے مگر ان کاکھانابغیر بھوک کے (محض لذّت کے لئے )ہوگااورجب وہ سیر ہوجائیں گے تو انہیں بول و براز کی حاجت نہ ہوگی بلکہ سیر ہونے کے بعد ان کو مُشک سے زیادہ خوشبودار اور پاکیزہ پسینہ آئے گا جسے ان کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع