30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے کہے گی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی! مجھے کافی عرصے سے آپ کی ملاقات کا شوق تھا ۔ تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے ہیں جس نے ہم دونوں کو ایک جگہ اکٹھا فرمایا ۔ ‘‘بندہ ٔمومن کہے گا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تو مجھے کیسے جانتی ہے حالانکہ آج سے پہلے تونے مجھے کبھی نہیں دیکھا ؟‘‘ وہ کہے گی : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے آپ کے لئے پیدا فرمایا اورآپ کا نام میرے سینے پر لکھا اوریہ مکانات بناکر ان کے دروازوں پرآپ کا نام لکھ دیا اوریہ تمام حور و غلماں بھی آپ کے لئے پیدا کئے ہیں اور ان کے رخساروں پرآپ کانام اس خوبصورتی سے لکھ دیاہے کہ وہ نام چہرے پر تِل سے زیادہ خوبصورت لگتاہے اوریہ( سب) اس وقت ہواجب آپ دنیامیں اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتے ، نمازپڑھتے اور طویل دن میں روزہ رکھتے تھے ۔ پس اس وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ، خازنِ جنت حضرت رضوانعَلَیْہِ السَّلَام کو حکم فرماتاکہ’’ وہ ہمیں (یعنی حوروں کو)اپنے پروں پر اٹھاکر لے جائے تاکہ ہم آپ کادیدار کریں اور آپ کے اچھے اعمال دیکھیں ۔ ‘‘ تو حضرت رضوانعَلَیْہِ السَّلَام ہم سے فرماتے : ’’ یہ تمہاراسردار ہے ۔ ‘‘ اس وقت ہم نے آپ کودیکھا اور پہچان لیا اورجب کبھی ہمیں آپ کے دیدار کا شوق ہوتاتوہم محلات کے دروازوں سے نکل کرحضرت رضوانعَلَیْہِ السَّلَامسے کہتیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !ہم اپنے محلات میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گی جب تک اپنے سرداروں کادیدار نہ کرلیں ۔ ‘‘تووہ ہمیں آسمانِ دنیا کی طرف لے جاتے اور ہر حور اپنے سردار کودیکھ لیتی لیکن اُسے (یعنی سردار کو)اِس دیکھنے کاعلم نہ ہوتاتھا ۔ ‘‘
اگر وہ حوراپنے سردار کورات کی تاریکی میں نماز پڑھتادیکھتی تو خوش ہوکر کہتی : ’’اطاعت کئے جاؤتاکہ تمہاری خدمت ہواورکھیتی اُگائے جاؤتاکہ کاٹ سکو ۔ اے میرے سردار ! اللہ عَزَّوَجَلَّآپ کے درجات کوبلند فرمائے اور آپ کی اطاعت کوقبول فرمائے خداعَزَّوَجَلَّکی اطاعت میں فنا ہونے اورطویل عمر گزارنے کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّمجھے اورآپ کوملادے گا اورمیں آپ سے ملنے کے شوق میں آس لگائے بیٹھی ہوں ۔ پھرہم جنت میں اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ جاتی تھیں اور آپ ا س معاملے سے بے خبر دنیاہی میں ہوتے ۔ ‘‘اور دنیامیں کوئی بھی مومن ایسا نہیں جس کے لئے جنت میں خدّام اورحور وغلماں نہ ہوں جواسے دیکھتے ہیں اور وہ ان سے بے خبر ہوتاہے اورجب وہ اس کوعبادت میں دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور(عبادت سے ) غافل دیکھ کر غمگین ہوتے ہیں ۔
پھر جنتیوں کوان کے باغات سے پھل پیش کئے جائیں گے ۔ ایک اور فرشتہ داخل ہوگااس کے ساتھ ایک گٹھڑی ہوگی جس میں سونے کے نقش ونگار والے حُلّے ہوں گے ۔ جن پر ان کے عظیم نام لکھے ہوں گے ۔ وہ فرشتہ کہے گا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی !ان حُلّوں کودیکھئے اگر ان کی صورت پسند ہے تو ٹھیک ورنہ میں اسے آپ کی پسندیدہ صورت میں تبدیل کردوں ۔ ‘‘پھر دوسرا فرشتہ اپنے ساتھ مختلف قسم کے زیورات لے کرآئے گا ۔ دنیا کے زیورات تو شورپیداکرتے ہیں لیکن آخرت کے زیورات ایسی آواز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے جس سے سامعین کو راحت وخوشی ہوگی ۔ نعمتوں پرمومن اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے سجدۂ شکر بجالائے گا ۔ پھر وہ فرشتے جو نمازِ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے ہدیے لے کر آئے ہوں گے وہ اسے سلام کرتے ہوئے ہدیے پیش کریں گے ۔ جب فرشتے اس کوہدیے دے کر فارغ ہوں گے تو بندہ ٔمومن تمام خالی برتنوں کوجمع کرکے فرشتوں کے حوالے کرے گا ۔ یہ دیکھ کرفرشتے مسکراتے ہوئے اس سے کہیں گے : ’’تم ابھی تک خود کودنیامیں گمان کررہے ہوکہ ہدیہ کھاکر(یالے کر)برتن صاحبِ ہدیہ کودے دیاکرتے تھے ۔ دنیامیں تو ہدیہ دینے والے کو ان برتنوں کی قلّت کی وجہ سے ان کی محتاجی ہوتی تھی جبکہ یہ برتن ربِّ عظیم عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہیں جو غنی اور عزت وکرم والاہے ۔ اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آتی، نہ اس کے خزانے فنا ہونے والے ہیں اوراس کی ذات اقدس وہ ہے جوکسی چیزکو فرماتاہے : کُنْ(یعنی ہوجا) تو وہ ہو جاتی ہے ۔ پس یہ برتن اورجوکچھ اس میں ہے سب تمہارے لئے ہے کیونکہ تم دنیا میں روزانہ پانچ نمازیں اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں پیش کرتے تھے ۔ اب تم کو اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے جزا کے طور پر روزانہ پانچ ہدیے ملیں گے اورجو دنیامیں اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے فرائض ونوافل کی کثرت کرتاتھاتو حق تبارک وتعالیٰ کی طرف سے بطورِجزا اس کے عمل کے مطابق ان پانچ ہدایاسے زیادہ بھی عطا فرمائے جائیں گے ۔ ‘‘
اے میرے بھائی !جس نے رب تعالیٰ کی عبادت کی جنت میں اس کی خدمت کی جائے گی، جس نے کھیتی اُگائی وہی کاٹے گااور جوخسارے میں رہاوہ شرمندہ ہوگا ۔
صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی : ’’یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا جنت میں دن اور رات ہوں گے ؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’جنت میں کبھی بھی اندھیرانہ ہوگااور جس طرح آسمان، دنیاکی چھت ہے اسی طرح عرش، جنت کی چھت ہے اورعر ش نور سے لبریز ہے اور اس کی تخلیق سبز، سرخ، زرد اور سفید نور سے ہوئی ہے اورعرش کے نور کے رنگوں سے دنیااور آخرت میں موجودتمام نور وں کی زردی، سبزی، سرخی اور سفیدی قائم ہے اور دنیاکے سورج میں موجود نور، عرش کے نور سے رائی کے دانہ برابرہے ۔ لیکن( جنت میں )دن اور رات کی پہچان اس طرح ہوگی کہ رات کے وقت محلات کے دروازے بند ہو جائیں گے اورپردے لٹکادیئے جائیں گے اور مومن اپنی اَزواج کے ساتھ پردے میں اورحورعین کے ساتھ خلوت وتنہائی میں رات بسر کرے گااور بعض جنتی ایسے بھی ہوں گے جو تنہائی میں بخشش فرمانے والے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے مشاہدے میں مستغرق ہوں گے ۔ دن ہوتے ہی محلات کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۔ پردے اٹھادیئے جائیں گے اور پرندے چہچہاتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّکی تسبیح بیان کریں گے ۔ فرشتے جنتیوں کو سلام کریں گے ۔ پھر حق تبارک وتعالیٰ کے حکم سے تحائف لائیں گے اوران کی اولاد، بہن بھائی اوررشتے دار ان سے ملاقات کوآئیں گے ۔ ‘‘
افسوس ہے اس شخص پر جو جہنم میں گیااورایسی دائمی نعمتوں سے محروم ہو گیا ۔ جب مومن اپنے کسی دوست کودیکھنا چاہے گا تو ایسا تخت اس کو لے چلے گاجس کی رفتار (آنکھوں کو) اُچک لینے والی بجلی سے بھی زیادہ تیزہوگی اور جب دل میں کسی دوسرے دوست کو دیکھنے کی خواہش ہوگی تو وہ تخت اس کو اعلیٰ قسم کے گھوڑے کی رفتارمیں لے جائے گااوردونوں دوست جنت کے میدانوں میں ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے اور اس کے باغات میں ایک دوسرے سے گفتگو کرکے بے حد خوش ہوں گے پھر دونوں واپس اپنی جگہ اپنے محلات کی طرف لوٹ جائیں گے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع