30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌعَنِ الْعُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مزید ارشاد فرمایا : پھر وہ بچھونوں ، قالینوں ، مختلف رنگ کے تکیوں ، حُلّوں اور برتنوں کی طرف دیکھیں گے تو جوکوئی کسی چیز کا ارادہ کرتے ہوئے اس پر نظر ڈالے گا تو اس کے پیچھے آنے والے فرشتے اس شے کواٹھالیں گے پھر ان کا گزرانسانی تصاویرپرہوگاتوجوصورت جنَّتی کی آنکھ میں اپنے چہرے سے زیادہ بھلی معلوم ہوگی تو ابھی وہ اسے دیکھتاہی ہوگا کہ اس کاچہرہ بھی اسی جیساہو جائے گااور جس صورت کو بھی چاہے گاوہ زیب وزینت اور حسن میں اس کی صورت ہوجائے گی اور (قدرتِ الٰہیہ سے ) وہ (سابقہ) صورت اس سے زائل ہو جائے گی ۔ پھر جنَّتی، بازار میں مختلف حُلُّوں اور پَروں کودیکھیں گے ۔ فرشتے کہیں گے : ’’ جسے بھی اُڑنے کی خواہش ہو وہ ان پَروں اورحُلّوں کو پہن کر اڑ سکتاہے ۔ ‘‘ چنانچہ، وہ اِن پَروں کو پہن لیں گے اوروہ جہاں چاہیں گے پر انہیں لے کر اُڑیں گے ۔
انوارِ الٰہی سے چمکتے دمکتے چہرے :
بازارکی سیرکے بعد وہ اپنے ٹھکانوں کو روانہ ہوجائیں گے اور جب اپنے محل میں داخل ہوں گے تو( ہرکسی کی )بیوی ا س سے کہے گی : ’’آج آپ کے حسن میں کس قدر اضافہ ہوگیااور آپ کانور کتنابڑھ گیا ہے ۔ ‘‘وہ کہے گا : ’’آج میں نے اپنے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ کا دیدار کیاتو میرے چہرے پر میرے ربِ کریم کانور واقع ہوا ۔ ‘‘پھر شوہر، بیوی سے کہے گا : ’’عظمت والے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! تمہارے چہرے کانور اور حسن بھی تو کچھ کم نہیں ۔ ‘‘زوجہ کہے گی : ’’میراچہرہ نور سے کیوں نہ جگمگائے کہ اس پر بھی میرے رب عَزَّوَجَلَّ کا نور واقع ہواہے ۔ ‘‘تویوں جنتیوں کے چہرے انوارِ الٰہی سے چمکتے دمکتے رہیں گے او ر یہ نعمتیں دَارُالْقَرَار (یعنی جنت) میں ان کے لئے دائمی اورابدی ہوں گی ۔
{۳۵} اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتاہے :
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ(۲۹) (پ۱۳، الرعد : ۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان : وہ جوایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کوخوشی ہے اور اچھاانجام ۔
طوبیٰ درخت اوراس میں موجود نعمتیں :
(128)…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے جس کی جڑمیرے گھر میں اور ٹہنیاں جنت کے محلات پر سایہ فگن ہیں ۔ جنت میں کوئی گھراورکوئی محل ایسانہیں جس پر اس کی ایک ٹہنی نہ ہو ۔ ہر ٹہنی تمام اقسام کے دنیاوی پھل اٹھائے ہوئے ہے اور ہر ٹہنی پر تمام دنیاوی کلیاں موجود ہیں مگر اس ٹہنی کے پھل اور کلیاں ، دنیاوی پھلوں اور کلیوں سے زیادہ خوبصورت ، عمدہ اور وافرمقدار میں ہیں ۔ طوبیٰ درخت میں انگور لگے ہوئے ہیں ۔ ہر خوشۂ انگور کی لمبائی ایک ماہ کی مسافت ہے اور اس کادانہ پانی سے بھرے ہوئے مشکیزے کی مانند ہے ۔ ‘‘ کسی نے عرض کی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیاایک دانہ مجھے ، میرے گھر والوں اور میرے خاندان کو کافی ہوگا؟‘‘ توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’بے شک ایک دانہ تجھے ، تیرے گھر والوں اور تیری قوم کے 10 افراد کے لئے کفایت کرے گا ۔ ‘‘
اور طوبیٰ درخت میں کھجوریں بھی ہیں ۔ ہر کھجور مشکیزے کے برابرہے ہر دو کھجوروں کا وزن ایک اونٹ جتناہے اوروہ سورج کی طرح چمکتی ہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مزیدارشاد فرمایا : ’’اس میں بِہی(سیب کے مشابہ ایک پھل)، سیب، انار، آڑو اورخوبانیاں بھی ہیں ۔ ہر دو پھلوں کاوزن اونٹ کے بوجھ کے برابر ہے ۔ اس درخت کوپیداکرنے والے کے علاوہ اس کے اوصاف حقیقتاً کوئی بھی نہیں جانتا ۔ جنت میں ہر مومن کے لئے اس درخت کی ایک ٹہنی ہوگی اور اس کانام اس ٹہنی پر لکھاہواہوگااوراس ٹہنی پر ہرقسم کے پھل موجودہوں گے ۔ حتی کہ وہ گھوڑوں کواپنی زینوں کے ساتھ ، اونٹوں کواپنی نکیلوں کے ساتھ اور خدمت گار مردوں اور عورتوں کواٹھائے ہوئے ہوگی ۔ ہر شاخ میں ہار، کنگن، انگوٹھیاں ، تاج اور اشیائِ خوردونوش سے بھرے ٹوکرے بھی ہوں گے اوریہ سب شاخ کے پتوں کی جگہ پر ہوں گے ۔ جب بھی کوئی مومن ایک ٹوکرا توڑے گااس کی جگہ دوٹوکرے اورآجائیں گے اور اگرایک پھل توڑے گاتواُس کی جگہ دوپھل اور لگ جائے گے ۔
طوبیٰ درخت کے نیچے بہت سے میدان ہیں ۔ اس کے سائے میں کوئی سوار اگر100سال تک چلتارہے توبھی اس کی مسافت ختم نہ ہوگی ۔ ان میدانوں میں شرابِ طہور، دودھ اور شہد کی نہریں ہیں ۔ ان نہروں میں چھوٹی او ر بڑی مچھلیاں ہیں جن کی جلدچاندی کی اور سنِّے (یعنی چھِلکے )دینار کی طرح سونے کے ہیں ۔ ان کاگوشت بغیر ہڈی اور بغیر کانٹے کے برف سے زیادہ سفید اورمکھن سے زیادہ نرم ہے ۔ ان نہروں میں سرخ یاقوت کی سواریاں ہیں جن پرسوار ہوکر اولیاء کرام اُن میدانوں میں اپنے محلات کی سیر کریں گے ۔
پہلے محل کی دیواریں سبز ، دوسرے کی زرد ، تیسرے کی سرخ او رچوتھے محل کی دیواریں سفید ہوں گی ۔ چاشت کے وقت سب محلات کے رنگ ایک ہی طرح کے ہوجائیں گے اورتمام محلات کارنگ ایسا ہی ہوگاجیساکہ ذکرکیاگیاہے ۔ جب ظہر کاوقت ہو گا تو ان محلات کی عمارتیں سونے ، چاندی ، یاقوت اور موتی کی ہوجائیں گی اور عصر کے وقت کوئی دیوار زرد توکوئی سفید ہو جائے گی ۔ یہ محلات اس کی قدرت سے رنگ بدلتے رہیں گے جوکسی چیزکو فرماتاہے : کُنْ(یعنی ہوجا)تووہ ہو جاتی ہے ۔ اہلِ جنت اس رنگ برنگی تبدیلی سے بڑے خوش ہوں گے اورجنت میں ہر مومن کے لئے ٹھکانے ، گھر اورعظیم الشان اَملاک ہوں گی ۔ ان پراوران کے دروازوں پرجنَّتی کا نام لکھاہو گا اوراُن میں اس کے لئے خدَّام اور حور وغلماں ہوں گے جو کلمہ طیبہ اورتکبیر کہتے ہوئے اس کا استقبال کریں گے اوروہ جنتی وہاں آنے پر بہت خوش ہو گا ۔
(خازنِ جنت حضرت ) رضوان(عَلَیْہِ السَّلَام)آکر اولیاء کرام کو تنہائی مہیا کریں گے ۔ ان میں سے ہر ولی کے لئے ایک خیمہ اور دلہن ہوگی جس کے جسم پر حُلَّے اور زیور ہوں گے ۔ وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع