30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہے گا : اللہ عَزَّوَجَلَّتم پر سلام بھیجتاہے اور تم سے فرماتاہے : ’’تم دنیامیں میری طرف صبح کی نماز بھیجا کرتے تھے تو میں قبول فرمالیاکرتاتھاحالانکہ میں نے تمہیں جزا نہ دکھائی تھی ۔ ‘‘ (پھرفرشتہ کہے گا) اور اب یہ ہدیہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے تمہاری طرف نمازِ صبح کی جزا کے طورپر بھیجا ہے ۔ پھر وہ فرشتہ سونے کادستر خوان بچھائے گااس پر70 طشتریاں ہوں گی ۔ دس سونے کی ، دس چاندی کی ، دس یاقوت کی ، دس زمرد کی ، دس موتی کی، دس مرجان کی اور دس عقیق کی ۔ ہر طشتری میں ایسا کھاناہوگاکہ دوسرے کھانے سے مشابہت نہ رکھتا ہوگا اور اس پر برف سے زیادہ سفید روٹی ہوگی ۔ یہ سب اُس ذات کی قدرت سے ہوگاجوکسی چیزکو فرماتاہے : کُنْ(یعنی ہوجا)تووہ ہو جاتی ہے ۔ وہ طَشتریاں ریشم کے سبز رومالوں سے ڈھکی ہوں گی ۔
پھر ایک اورفرشتہ آئے گا ۔ اس کے پاس سونے کا طباق ہوگا جس میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے پھل ، شاہی تاج ، ہار، کنگن، پازیب اورانگشتریاں ( یعنی انگوٹھیاں ) ہوں گی ۔ ہر جنتی کو دس انگشتریاں دی جائیں گی جن کے نگینوں پر سبز نور سے ایک عبارت لکھی ہو گی ۔ انگوٹھے کی انگشتری کے نگینے پر لکھاہوگا : ’’اے بندے ! میں تجھ سے راضی ہوں ۔ ‘‘ دوسری انگلی کی انگوٹھی کے نگینے پر لکھاہوگا : ’’تم میرے لئے ہو اور میں تمہارے لئے ۔ ‘‘ تیسرے پر : ’’تم میرے قُرب سے کبھی نہ اکتاؤ گے ۔ ‘‘ چوتھے پر : ’’ہمیشہ رہنے والے گھر میں تم میرے قُر ب سے لذت اٹھاؤگے ۔ ‘‘ پانچویں پر : ’’تم نے دنیا میں کھیتی بوئی اور آخرت میں کاٹی ۔ ‘‘چھٹے نگینے پر : ’’تم نے میری خاطر لمبے لمبے سجدے کئے جب کہ لوگ غافل تھے ۔ ‘‘ ساتویں نگینے پر : ’’آج تمہارے لئے میرے مشاہدے اور دیدار کی خوش خبری ہے ۔ ‘‘آٹھویں نگینے پر :
{۳۲}
لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ(۶۱) (پ۲۳، الصّٰفٰت : ۶۱)
ترجمۂ کنزالایمان : ایسی ہی بات کے لئے کامیوں کوکام کرنا چاہئے ۔
نویں نگینے پر :
{۳۳}
سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)(پ۱۳، الرعد : ۲۴)
ترجمۂ کنزالایمان : سلامتی ہوتم پر تمہارے صبر کابدلہ تو پچھلا گھر کیاہی خوب ملا ۔
اور دسویں نگینے پر :
{۳۴}
سَلٰمٌ- قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ(۵۸) (پ۲۳، یٰس : ۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان : ان پر سلام ہوگا مہربان رب کا فرمایا ہوا ۔
لکھا ہوا ہوگا ۔ ‘‘
حضرت جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامہر مرد وعورت کو دس دس انگوٹھیاں پہنائیں گے اور تین تین کنگن بھی پہنائیں گے جن میں ایک سونے کا، دوسراچاندی کااور تیسرا موتیوں کاہوگا ۔ ہر کنگن پر سبز نور سے لکھاہوگا : ’’لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّہوں ۔ آج تم بغیردربان اور بغیر وزیر کے اپنی حاجتیں میری بارگاہ میں پیش کرو ۔ اے میرے بندو! طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ(۷۳) (پ ۲۴، الزمر : ۷۳) ترجمۂ کنز الایمان : تم خوب رہے تو جنت میں جاؤہمیشہ رہنے ۔ ‘‘
پھر ان کے سروں پر عزت کاشاہی تاج رکھاجائے گااور جنت کے زیورات دنیاکے زیورات کی طرح بھاری نہ ہوں گے اور دنیاکے زیور سے تو شور کی آواز آتی ہے جبکہ جنت کازیوردھیمی دھیمی اورخوش کن آواز میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی تسبیح بیان کرے گا جس سے سننے والے خوشی سے جھوم اٹھیں گے ۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا : ’’میرے اطاعت گزار بندوں کو ’’مَرْحَبَا‘‘اے میرے فرشتو! ان کو خوشی کے نغمے سناؤ ۔ ‘ ‘ چنانچہ ملائکہ جائیں گے اوراُن کے لئے جنت کی گانے والی حورِعین کو لائیں گے اور ٹہنیوں اور درختوں پر سیٹیاں نصب کریں گے ہردرخت کی ہر ٹہنی پر 70ہزارجنَّتی ساز ہوں گے ۔ عرش کے نیچے سے ہواچل کر ان جنتی سازوں میں داخل ہو گی تو ان سے ایسے نغمے سنے جائیں گے جن سے اچھے نغمے سننے والوں نے نہ سنے ہوں گے ۔
پھر اللہ عَزَّوَجَلَّحورِعین سے فرمائے گا : ’’میرے بندوں کو خوشی کے نغمے سناؤ کیونکہ یہ میری رضاکے لئے دنیامیں گانوں کی آواز سے اپنے کانوں کوبچاتے تھے ۔ میرے ذکر اور میرے کلام (یعنی قرآنِ مجید)کوسن کر لطف اندوز ہواکرتے تھے تو تُم ان کو اپنی آواز میں میری حمدوثنا سناؤ ۔ ‘‘حورعین گائیں گی اور ساز بھی ان کے ہم آواز ہوکر بجتے ہوں گے ۔ لوگ مقامِ قرب میں اسے سن کر خوشی سے مست وبے خود ہو جائیں گے ۔ جب وجد وسرور سے افاقہ ہوگااور سیر ہوجائیں گے تو عرض کریں گے : ’’اے ہمارے ربعَزَّوَجَلَّ! ہم دنیامیں تیراذکر اورتیرا پیاراکلام پسند کیا کرتے تھے ۔ ‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّفرمائے گا : ’’ہاں !بے شک میرے پاس تمہارے لئے وہ سب کچھ ہے جس کی تمہیں جنت میں خواہش ہے اور تم اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہوگے ۔ ‘‘
پھر اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرمائے گا : ’’اے داؤد(عَلَیْہِ السَّلَام)!تو و ہ عرض کریں گے : ’’لَبَّیْکَ یَارَبَّ الْعَالَمِیْن ( یعنی اے تمام جہانوں کے مالک میں حاضرہوں ) ۔ ‘‘ پھرارشادفرمائے گا : ’’اے داؤد(عَلَیْہِ السَّلَام)! میں تمہیں حکم دیتاہوں کہ تم منبر پر کھڑے ہوکر میرے محبوب بندوں کو ’’زبورشریف‘‘ کی دس سورتیں سناؤ ۔ ‘‘ چنانچہ ، حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام منبر پر تشریف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع