30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باجوں سے بچنے والوں کے لئے خوشخبری :
(122)…حضورنبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ معظم ہے : ’’قیامت کے دن عرش کے نیچے سے ندا کی جائے گی : ’’کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیامیں اپنی سماعت کو لہو ولعب ، باجوں اور بیکار باتوں سے بچایاکرتے تھے کہ آج میں ان کو اپنی حمدوثناء سناؤں اور خبر دوں کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی غم ۔ ‘‘
شب قدرمیں بھی نظررحمت سے محروم :
(123)…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’مجھے باجوں کو توڑنے کے لئے بھیجا گیا ہے اور بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّلَیْلَۃُالْقَدْر(یعنی شبِ قدر) میں بھی باجے بجانے والوں پر نظررحمت نہیں فرماتا ۔ ‘‘نیز شَبَابَۃ(یعنی سیٹی بجانا)بھی حرام ہے ۔
موسیقی کی آوازسنیں توکیاکریں ؟
(124)…حضرت سیِّدُنانافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ میں امیرا لمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ جارہاتھاکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کسی چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیوں سے کانوں کو بند فرمالیااور راستے سے ایک طرف ہٹ کر تیز تیز چلنے لگے پھر(کچھ دور جاکر ) دریافت فرمایا : ’’اے نافع! کیا بانسری کی آواز آنابند ہوگئی ؟‘‘ میں نے عرض کی : ’’جی ہاں ! ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی انگلیاں کانوں سے ہٹا لیں اوردوبارہ راستے پر آگئے اور فرمایا : ’’میں نے سَیِّدُالْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اسی طرح کرتے دیکھاہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بانسری کی آواز کبھی بھی نہیں سنی ۔ ‘‘
سیٹی اورتالی بجانے کی ممانعت :
{۲۹} اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتا ہے :
وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةًؕ-(پ۹، انفال : ۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور کعبہ کے پاس اُن کی نماز نہیں مگرسیٹی اورتالی ۔
مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’مُکَاء، منہ سے سیٹی بجانااور تَصْدِیَۃتالی بجانااور گاناہے ۔ ‘‘ اور فرماتے ہیں کہ’’ زمانہ جاہلیت میں جب عید کا دن ہوتاتو(کافر) لوگ عبادت گاہوں میں گانے گاتے اور سیٹیاں بجایا کرتے تھے تو حق تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس فعل کی مذمت فرمائی اور ان کو درد ناک عذاب کی وعید سنائی ۔ ‘‘
باجا بجانے اورسننے والا ملعون ہے :
(125)… شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نشان ہے : ’’باجا بجانے والے اور سننے والے دونوں ملعون ہیں ۔ جس نے دنیا میں گانے باجے سنے وہ جنت میں خوش کرنے والی آوازوں کوسننے سے ہمیشہ محروم رہے گامگر یہ کہ وہ توبہ کرلے ۔ (پھرارشاد فرمایا : خوش الحانی میں )حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَام کی آواز900 مزامیر کی آوازوں کے برابر ہوگی ۔ جس دن اللہ تبارک و تعالیٰ کادیدار ہو گا اس دن وہ اپنی آواز سنائیں گے تو اُس خو ش کن آواز کے لئے اس دنیاوی آواز کو سننا ترک کردو ۔ ‘‘
{۳۰} اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتاہے :
لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ(۳۵)(پ۲۶، ق : ۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان : ان کے لئے ہے اُس میں جو چاہیں اورہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے ۔
٭…٭…٭…٭
موت، خوبصورت مینڈھے کی شکل میں :
(126)…حضورنبی ٔ اکرم، نورِمجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : جب قیامت کے دن جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے توموت کو خوبصورت مینڈھے کی شکل میں لایاجائے گااو ر ایک منادی ندا کرے گا : ’’اے جنتیو! چڑھ آؤ اور اے جہنمیو ! چڑ ھ آؤ ۔ ‘‘تو اہل جنت اور اہل جہنم سب چڑھ آئیں گے ۔ ان سے کہا جائے گا : ’’کیا تم جاننا چاہتے ہو یہ کیاہے ؟‘‘ تو وہ کہیں گے !کیوں نہیں ۔ ‘‘کہاجائے گا : ’’یہ موت ہے ۔ ‘‘پھر اس مینڈھے کو جنت ودوزخ کے درمیان ذبح کردیاجائے گااور منادی ندا کرے گا : ’’اے جنتیو!تم جنت میں ہمیشہ ر ہوگے ۔ اب کوئی موت نہیں اور اے جہنمیو!تم دوزخ میں ہمیشہ رہوگے ۔ اب کوئی موت نہیں ۔ ‘‘اس وقت جہنمیوں کو بہت زیادہ حسرت ہوگی اور وہ روتے ہوئے (جہنم کی طرف)لوٹ جائیں گے اور جنتی بہت خوش ہوں گے اور اپنے محلات کی طرف لوٹ جائیں گے ۔
[1] گانے باجے کی ہولناکیوں ، تباہ کاریوں اورگانوں کے کفریہ اشعارکے متعلق علم سیکھنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ امیراہلسنّت بانی ٔ دعوت اسلامی حضرتِ علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارؔقادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ کے رسالے ’’ گانے باجے کی ہولناکیاں (بیاناتِ عطاریہ حصہ اول، صفحہ111 تا157) ‘‘اور’’گانوں کے 35کفریہ اشعار‘‘(بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم، صفحہ358 تا390 ۔ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ512 تا524)‘‘کامطالعہ فرمالیجئے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع