صلہ رحمی کرنے والے کے لئے عالیشان محلات
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naikiyon ki Jazain Aur Gunahon ki Sazain | نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں

book_icon
نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں

میں اس کنوئیں کے قریب جاکر بیٹھ گیا ۔ آدھی رات کے وقت میں نے دیکھاکہ دو شخصوں کو لاکر اس کنوئیں میں اتارا گیا ۔ دونوں رورہے تھے ۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا : ’’تو کون ہے ؟‘‘دوسرے نے جواب دیا : ’’میں ایک ظالم شخص کی روح ہوں جو دنیا میں بادشاہ کاپہرے دار تھا اور حرام کھاتاتھا ۔ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھے اس کنوئیں میں پھینک دیااور اب مجھے اس میں عذاب دیاجائے گا ۔ ‘‘ دوسرے نے کہا : ’’مَیں عبد الملک بن مروان کی روح ہوں جو نافرمان اورظالم شخص تھا ۔ اب مجھے اس کنوئیں میں عذاب دینے کے لئے لایاگیاہے ۔ ‘‘ جب میں نے ان دونوں کی چیخ وپکار سنی تو گھبراہٹ کی شدت سے میرے بدن کے رَونگٹے کھڑے ہوگئے ۔ پھر میں نے اس کنوئیں میں جھانک کرباآوازِبلند پکارا : ’’اے فلاں !‘‘تو اس شخص کی آواز آئی : لَبَّیْکَ(یعنی میں موجود ہوں )اور وہ اس حالت میں تھاکہ اسے عذاب دیتے ہوئے ماراپیٹا جارہا تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا : ’’اے میرے بھائی ! وہ امانت کہاں ہے جو میں نے تیرے پاس رکھوائی تھی ؟‘‘ اس نے جواب دیا : ’’وہ امانت فلاں جگہ فلاں زینے کے نیچے مدفون ہے ۔ ‘‘پھر میں نے پوچھا : ’’اے میرے بھائی!کس گناہ کے سبب تجھے بدبختوں کے مقام پر لایاگیا؟‘‘ اس نے جواب دیا : میری بہن کے سبب ، اس لئے کہ میری ایک غریب بہن مجھ سے کہیں دور سرزمینِ عجم میں رہتی تھی ۔ میں اس کی پرواہ کئے بغیر  اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت میں مشغول ہوگیااور مکہ مکرمہ میں رہنے لگااوراس مدت میں نہ مجھے اس کی کوئی فکر ہوئی اور نہ میں نے اس کے بارے میں (کسی آنے والے سے ) کچھ پوچھا ۔ جب میں مرگیاتو  اللہ عَزَّوَجَلَّنے اسی بات پر میری پکڑ فرمائی اورمجھ سے فرمایا : ’’تو اس کو کیسے بھول گیا؟اس کے پاس کپڑے نہیں تھے اور تو کپڑے پہنے ہوئے زندگی گزارتاتھا، وہ بھوکی رہتی اور تو سیر ہوکر کھاتاتھا ۔ وہ پیاسی رہتی اور تو سیر ہوکر پیتاتھا ۔ ‘‘ پھرارشادفرمایا : ’’مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ! مَیں قطع رحمی کرنے والے پر رحم نہیں کروں گا ۔ اسے لے جاؤ اور ’’بِئْربَرْھُوْت‘‘میں ڈال دو ۔ ‘‘ تو ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھے اس کنوئیں میں ڈال دیااور آہ! اب مجھے عذاب دیا جارہاہے ۔ ‘‘اے میرے بھائی ! تم میری بہن کے پاس جاکر اس سے (میرے لئے ) معافی کی درخواست کرو اور اس عذاب سے میرے چھٹکارے کے لئے ’’ کچھ کرو ‘‘ممکن ہے  اللہ عَزَّوَجَلَّمجھ پر رحم فرمائے کیونکہ  اللہ عَزَّوَجَلَّکے ہا ں قطع رحمی کے علاوہ میراکوئی اور گناہ نہیں ہے ۔ ‘‘

            وہ بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’(پہلے میں )اس جگہ گیا(جہاں امانت مدفون تھی)اور اس کو کھودا ۔ اس سے ایک تھیلی نکلی جس میں میری امانت موجود تھی ۔ وہ اسی حالت میں تھی جیسی میں نے اپنے ہاتھ سے باندھی تھی ۔ پھرمیں اپنی امانت لے کر عجم کے شہر چلا گیا ۔ وہاں جاکر اس کی بہن کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کیں ۔ بالآخر! جب میری اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے اسے اول تاآخر ساراماجراکہہ سنایاتو وہ رونے لگی ۔ پھر میں نے اس کے بھائی کے چھٹکارے کے لئے اس سے کہاتووہ  اللہ  تعالیٰ کی بارگاہ میں محتاجی کی شکایت کرنے لگی ۔ میں نے کچھ دنیاوی مال اسے دے دیااور وہاں سے لوٹ آیا ۔ پس ہر مسلمان کو چاہئے کہ صلۂ رحمی کو اختیار کرے ۔ ‘‘

صلہ رحمی کرنے والے کے لئے عالیشان محلات :

(111)…حضورنبی ٔ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : میں نے جنت میں سونے ، موتی، یاقوت اور زبرجد کے محلات دیکھے جن کا باہر اندر سے اوراندرباہر سے دکھائی دیتاہے ۔ میں نے جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے پوچھا : ’’یہ محلات وٹھکانے کس کے لئے ہیں ؟‘‘ تو انہوں نے عرض کی : ’’اس شخص کے لئے جو صلہ رحمی کرے ، سلام کوعام کرے ، نرمی سے گفتگو کرے ، یتیموں پر نرمی کرے اوررات کوجب لوگ سو جائیں تووہ نمازپڑھے ۔ ‘‘

صابرشوہراورصابرہ بیوی کااجر :

(112)… نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحروبَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ خوشبودار ہے : ’’جس نے  اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کے بُرے اخلاق پر صبر کیاتو  اللہ عَزَّوَجَلَّاس شخص کو حضرت ایوب عَلَیْہِ السَّلَام کی طرح اَجر وثواب عطافرمائے گااور جس عورت نے اپنے شوہر کی بد اخلاقی پر صبر کیا تو  اللہ عَزَّوَجَلَّاس کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثل اَجر عطافرمائے گااور جس عورت نے اپنے شوہر پر ظلم کیااور اس سے ایسی بات کامطالبہ کرکے اس کو اذیت دی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتاتھا تو رحمت وعذاب کے فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے ہیں اور اس کاٹھکانا جہنم میں ہوگااورجس عورت نے اپنے شوہر کی اذیت وتکلیف پر صبر کیا اللہ عَزَّوَجَلَّاس کو حضرت آسیہ(فرعون کی مومنہ بیوی) اور حضرت مریم بنت عمران رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی طرح اجروثواب عطافرمائے گا ۔ بے شک اللّٰہ اَصْدَقُ الصَّادِقِیْنارشاد فرماتاہے : جس نے صلہ رحمی کی میں اس کی عمر میں اضافہ کروں گا ۔ اس کے مال میں برکت دوں گا ۔ اس کے گھر کو آباد کروں گا ۔ موت کی سختیاں اس پر آسان کردوں گااور جنت کے دروازے اس کو پکاریں گے : ہماری طرف آجاؤ ۔ ‘‘

رحمت سے محروم :

(113)…سَیِّدُالْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’قطع رحمی کرنے والے پر رحمت نازل نہیں ہوتی ۔ ‘‘

            ہم محرومی سے  اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگتے ہیں اوراس سے قبولیت ومغفرت کا اوردوزخ کی آگ سے امان کاسوال کرتے ہیں ۔ (اٰمِیْنَ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)

٭٭٭٭

نواں باب :

            والدین کے نافرمان کی سزا

{۲۸} اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتا ہے :

اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ ۱۵، بنیٓ اسرآئیل : ۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان : اگر تیرے سامنے ان میں ایک یادونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنااور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا ۔

والدین سے اچھے سلوک کاتاکیدی حکم :

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن