30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجھے کیوں قتل کیاتھا؟‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی ماں سے فرمائے گا : ’’تُونے اس کوکیوں قتل کیا تھا ۔ کیا تو یہ سمجھتی تھی کہ مَیں اسے رزق نہیں دوں گا؟بے شک مَیں نے کسی بھی جان کا قتلِ ناحق حرام کیا تھا ۔ (پھر فرشتوں سے فرمائے گا)اے میرے فرشتو!اس کو(دوزخ کے نگران فرشتے ) مالک(عَلَیْہِ السَّلَام ) کے سِپُرد کردو تاکہ وہ اسے ’’جُبُّ الْاَحْزَان‘‘ میں قیدکر دے ۔ ‘‘سخت ومضبوط فرشتے اس کو پکڑلیں گے کیونکہ فرشتے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے یہ تو وہی کرتے ہیں جس کاانہیں حکم دیاجاتاہے ۔ فرشتے اس عورت کی گردن میں طوق اور زنجیریں ڈال کر منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم کی طرف لے جائیں گے اور حضرت مالکعَلَیْہِ السَّلَام اُس کو ’’جُبُّ الْاَحْزَان‘‘ میں پھینک دیں گے ۔ یہ آگ سے بھرا ایک گہراکنواں ہے ۔ اس آگ کانام’’نَارُ الٓابَار‘‘ہے ۔ جب جہنم سرد ہونے پر آتا ہے تواس کنوئیں کا منہ کھول دیاجاتاہے ۔ جہنم اس کی حرارت سے پھر بھڑکنے لگتا ہے ۔ اس میں درندے ، بھیڑیئے ، سانپ اور بچھو ہیں جوجہنمیوں کوکاٹتے اور ڈستے ہیں اور اس میں عذاب کے فرشتے ہیں ، جن کے ہاتھوں میں آگ کے نیزے ہیں ۔ وہ ان سے قاتلوں کو گھائل کرتے رہیں گے ۔ اس عورت کو اس گڑھے میں پچاس ہزار سال تک عذاب دیاجاتارہے گایہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے بارے میں جو چاہے گا فیصلہ فرمادے گا([1]) ۔
ہم اللہ عَزَّوَجَلَّکے غضب اور عذاب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں ۔
(92)…تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک سب سے بڑا گناہ اس جان کوقتل کرنا ہے جس کا قتل اللہ عَزَّوَجَلَّنے حرام فرمادیاہے اور کسی جان کو ناحق اَذیت دیناحلال نہیں اگرچہ چڑیا ہی ہو کہ اگر کوئی شخص اس سے کھیلا یہاں تک کہ وہ مرگئی اوراسے حاجت کے لئے ذبح نہ کیا تو وہ قیامت کے دن کانوں کو پھاڑ دینے والی کڑک کی مثل آواز سے بارگاہ الٰہی میں عرض گزار ہوگی : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! اس سے پوچھ کہ اس نے بلاوجہ مجھے اَذیت کیوں دی اور مجھے قتل کیوں کیاتھا؟‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا : ’’مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! مَیں تیرا حق ضرور دلاؤں گااور سن لو! کوئی ظالم مجھ سے نہ بچ سکے گا ۔ مَیں ہر اس شخص کو عذاب دوں گاجس نے ناحق کسی جان کو اَذیت دی اور مَیں ہر مظلوم کو ظالم سے پورا پورا بدلہ دلاؤں گا ۔ ‘‘
پھر اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرمائے گا : ’’مَیں ہی بدلہ دینے والابادشاہ ہوں ۔ مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! آج کے دن کسی پر ظلم نہ ہوگااور آج کے دن کوئی ظالم مجھ سے نہ بچ سکے گااگرچہ ایک طمانچہ ہو یاہاتھ کی مار ہویاہاتھ کو مروڑا ہو اورمَیں سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کو بھی بدلہ دلاؤں گااور لکڑی سے ضرور پوچھوں گا کہ تُو نے لکڑی کو خراش کیوں لگا ئی؟ اور پتھر سے ضرور پو چھوں گا کہ تُو نے پتھر کو تکلیف کیوں دی؟‘‘
اور وہ شخص کہ جس پر مظلوم کاحق ہے اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک کہ اپنی نیکیوں سے اس کاحق ادانہ کردے اور اگراس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہوں کابوجھ اس کے سر ڈال کر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔
(93)… اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’سب سے بڑا گناہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور کسی جان کوناحق قتل کرناہے اور جیسے میں ، مشرک کی شفاعت نہیں کروں گااسی طرح قتلِ ناحق کرنے والے کی بھی شفاعت نہیں کروں
گا اورجس طرح مشرک جہنم میں ہمیشہ رہے گااسی طرح قاتل بھی جہنم میں ہمیشہ رہے گا(البتہ اگر قاتل کاخاتمہ ایمان پرہواتومرادطویل مدت ہے )اور جس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّمشرکین پر سخت غضب فرمائے گا اسی طرح قاتل پربھی غضبِ شدید فرمائے گا اور جس طرح قیامت کے دن مشرک پر لعنت فرمائے گااسی طرح قاتل پربھی لعنت فرمائے گا اور جب قاتل پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی لعنت پڑے گی تو وہ جہنم کے مختلف طبقات پر قتل کیا جاتارہے گایہاں تک کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں دھنس جائے گااور اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس طرح مشرکین کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھاہے اسی طرح قاتل کے لئے بھی بڑاعذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ‘‘
{۲۲}(ارشادِباری تعالیٰ ہے : )
وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳) (پ ۵، النساء : ۹۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کابدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیااور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھابڑاعذاب ۔
سوائے اس قاتل کے جو توبہ کرلے ۔ چنانچہ، ارشادِباری تعالیٰ ہے :
{۲۳}
وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ(۶۸) یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ
[1] سوال:حمل اگر ٹھہر جائے تو اس کو کسی مجبوری کی وجہ سے ضائع کروانا جائز ہے یا نہیں ؟جواب: شرعاً حکم یہ ہے کہ شدید عذرثابت ہوجانے پرچارماہ سے قبل اسقاطِ حمل جائزہے چنانچہ فقہاء کرام نے عذر کی متعدد صورتیں بیان فرمائی ہیں مثلاً عورت بہت کمزور ہے کہ بچہ جننا اس کے لئے جان لیوا ہے۔ یا پہلے بچے پر دودھ کے بند ہوجانے کی وجہ سے ہلاکت کا خوف ہے وغیرہا تو حمل ٹھہر جانے کے بعد اس میںجان پڑنے سے پہلے پہلے ضرورتاً اسے ساقط کرنا جائز ہے جس کی مدت ایک سو بیس( 120)دن بیان کی گئی ہے جبکہ جان پڑ جانے کے بعد ساقط کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ محض معمولی کمزوری ،بچہ جننے میں دشواری ، پہلے بچے کا دودھ پینایا یہ کہنا کہ مالی حالت اچھی نہیں ہر گز ہر گز اسقاطِ حمل کے لیے عذر نہیں بن سکتا اور نہ ان وجوہ سے اسقاطِ حمل جائز کہ ہرچیز کارزق اللّٰہ تعالیٰ کے ذمہ ہے جوخَیْرُالرَّازِقِیْن ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے :{ وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا) ترجمۂ کنزالایمان:اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر نہ ہو ۔(پ۱۲،ھود:۶)علامہ ابن عابدین شامی عَلَیْہِ الرَّحْمَہاس حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:’’قَالُوْا:یُبَاحُ لَھَااَنْ تُعَالِجَ فِیْ اِسْتِنْزَالِ الدَّمِ مَادَامَ الْحَمْلُ مُضْغَۃً اَوْعَلَقَۃً وَلَمْ یُخْلَقْ لَہٗ عُضْوٌوَقَدَّرُوْاتِلْکَ الْمُدَّۃَ بِمِائَۃٍ وَعِشْرِیْنَ یَوْمًا وَجَازَلِاَنَّہٗ لَیْسَ بِاٰدَمِیٍّ فقہائے کرام نے ارشاد فرمایا ہے کہ عورت کے لیے جائز ہے کہ علاج کے طور پر اسقاطِ حمل کروائے جب تک کہ حمل مضعہ یا علقہ رہے اور اس کے اعضاء نہ بنے ہوں اور فقہائے کرام نے اس کی مقدار 120 دن مقرر کی ہے۔ اور یہ اس لیے جائز ہے کہ ابھی وہ حمل (خلقتاً) آدمی نہیں۔‘‘لیکن یاد رہے کہ یہ رخصت صرف عذر کی حالت میں ہے جیسا کہ درمختار میں ہے:’’وَجَازَ لِعُذْرٍیہ عذر کی صورت میں ہی جائز ہے۔‘‘(درمختارمع ردالمحتار، کتاب الحظروالاباحۃ، باب الاستبراء،۹/ ۶۱۵، مطبوعہ ملتان پاکستان)
سیّدی اعلیٰ حضرت مجد د دین وملت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں :جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں :جان پڑجانے کے بعد اسقاطِ حمل حرام ہے اور ایسا کرنے والا گویا قاتل ہے اور جان پڑنے سے پہلے اگر کوئی ضرورت ہے تو حرج نہیں(فتاوی رضویہ،۲۴/ ۲۰۷، مکتبہ رضویہ کراچی )۔(ازدار الافتا اہلسنّت پاکستان دعوتِ اسلامی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع