30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے جنگ نہ کی ہوگی تو وہ بچہ اپنے والد (کی مغفرت) کے لئے جھگڑے گا اور اس کو سیراب کرے گا ۔ بے شک مسلمانوں کے تمام بچے حوض کے اِرد گرد حور و غلماں کے ساتھ ہوں گے ۔ ان پرریشمی جُبّے اور نوری رومال ہوں گے ۔ ان کے ہاتھوں میں چاندی کی صراحیاں اور سونے کے پیالے ہوں گے اور وہ اپنے والدین کو سیراب کریں گے ۔ مگر وہ شخص جس نے اپنے بچوں کی موت پر اللہ عَزَّوَجَلَّسے شکوہ کیا ہو گا اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے بچوں کواسے سیراب کرنے کی اجازت نہیں دے گا ۔ ‘‘
ایک روایت میں ہے : مسلمانوں کے بچے قیامت کے دن موقف(یعنی میدان محشر)میں اکٹھے ہوں گے ۔ اس وقت اللہ عَزَّوَجَلَّفرشتوں سے فرمائے گا :
’’انہیں جنت میں لے جاؤ ۔ ‘‘جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑے ہوں گے تو خازنِ جنت حضرت رضوانعَلَیْہِ السَّلَام کہیں گے : ’’مرحبا!خوش آمدید! اے مسلمانوں کے بچو!تم سب جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی حساب نہیں ۔ ‘‘وہ پوچھیں گے : ’’ہمارے ماں باپ کہاں ہیں ؟‘‘خازنِ جنت عَلَیْہِ السَّلَامکہیں گے : ’’تمہارے والدین تمہاری طرح نہیں ہیں اس لئے کہ ان پرگناہ ، مؤاخذے (یعنی لوگوں کے مطالبے ) اور برائیاں ہیں ۔ ان سے ان افعال کا حساب ومؤاخذہ ہوگا ۔ ‘‘بچے کہیں گے : ’’انہوں نے تو ہمارے مرجانے پر صبرکیاتھاتاکہ آج کے دن انہیں اَجر وثواب عطاکیاجائے ۔ ‘‘ خازنِ جنت عَلَیْہِ السَّلَاماس پرکوئی جواب نہ دیں گے توبچے جنت کے دروازے پر کھڑے ہوکر ایک چیخ ماریں گی اللہ عَزَّوَجَلَّسب کچھ جاننے کے باوجودفرمائے گا : ’’یہ چیخ کیسی ہے ؟‘‘ تو ملائکہ عرض کریں گے : ’’اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ!مسلمانوں کے بچے کہتے ہیں کہ ہم اپنے والدین کے بغیر جنت میں نہیں جائیں گے ۔ ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرمائے گا : ’’انہیں ان کے والدین کے ساتھ جنت میں داخل ہونے دو ۔ ‘‘چنانچہ، سب بچے اپنے اپنے والدین کا ہاتھ پکڑکر جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔
خوشخبری ہے صبرکرنے والوں کے لئے اورخرابی ہے بے صبری کرنے والوں کے لئے کہ وہ کیسے اپنی بے صبری اور کم ہمتی سے اَجروثواب کوکھودیتے ہیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنی رضاوالے کاموں کی توفیق عطافرمائے اور ہمیں اپنے فیصلوں پر شکوہ وشکایت سے بچائے اورہمیں اپنے فضل واحسان سے اپنامحب اوردوست بنائے ۔ اس کی بارگاہ میں دعاہے :
{۱۶}
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۲۳)(پ۸، الاعراف : ۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اے رب ہمارے ہم نے اپناآپ برا کیاتو اگرتُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے ۔
٭…٭…٭…٭
زکوۃ[1]ادا نہ کرنے والے کی سزا
{۱۷} اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے :
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ (پ ۱، البقرۃ : ۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اور نماز قائم رکھواور زکوٰۃ دو ۔
{۱۸}
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ(۳) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ(۴)(پ۹، انفال : ۳، ۴)
ترجمۂ کنزالایمان : وہ جونماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لئے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔
مال آگ کی سلاخیں بن جائے گا :
(84)…سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے : ’’مسلمان جب مالک نصاب ہوجائے اور سونے کانصاب بیس 20 مثقال (یعنی ساڑھے سات تولے تقریباً87گرام 48ملی گرام سونا ) ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ نصف مثقال(یعنی اڑھائی فیصد تقریبا2گرام 187ملی گرام سونا ) زکوٰۃ اداکرے اورجو چاند ی کے دو سو د ر ہم کامالک ہوجائے تو اس پر اس کی زکوٰۃ واجب ہے جبکہ وہ اس کے قبضے میں ایک سال سے ہوں اوراس پر سال گزر جائے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہے اور اگر وہ اس مال کی زکوٰۃ ادانہیں کرتا تو(قیامت کے دن) سارا مال آگ کی سلاخیں بن جائے گا ۔ ‘‘
{۱۹} اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے :
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(۳۵) (پ۱۰، التوبہ : ۳۴، ۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ کہ جوڑ کررکھتے ہیں سونااور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گاجہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کررکھا تھااب چکھومزااس جوڑنے کا ۔
[1] زکوۃ کے فضائل وفوائداوراحکام ومسائل جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے ’’مکتبۃ المدینہ ‘‘کی مطبوعہ 149 صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضان زکوۃ ‘‘کامطالعہ فرمالیجئے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع