30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگ تمناکریں گے کہ’’کاش!ہم بھی مصائب وآلام میں مبتلا ہوئے ہوتے اور ہمارے گوشت قینچیوں سے کاٹے جاتے تاکہ ہمارے لئے بھی ان کے ساتھ حصہ ہوتا ۔ ‘‘پھر جب وہ صابربندے جنت کے پاس پہنچ کر اس کادروازہ کھٹکھٹا ئیں گے تو(خازنِ جنت)حضرت رضوان عَلَیْہِ السَّلَام آکر پوچھیں گے : ’’یہ کون ہیں ؟‘‘ فرشتے ان سے کہیں گے : ’’دروازہ کھولئے ۔ ‘‘ حضرت رضوان عَلَیْہِ السَّلَام اِستِفسار کریں گے : ’’ان کاحساب کس وقت ہوا، انہوں نے کب نجات پائی حالانکہ ابھی تو چندلوگ ہی قبروں سے اُٹھے ہیں اور ابھی تک تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے اعمال نامے بھی نہیں کھلوائے اور نہ ہی میزان رکھاہے ؟‘‘ملائکہ کہیں گے : ’’یہ صبر کرنے والے ہیں ان پر حساب نہیں ۔ اے رضوان !ان کے لئے جنت کادروازہ کھول دو تاکہ یہ چَین وسکون کے ساتھ اپنے مَحلاَّت میں بیٹھیں ۔ ‘‘ تب حضرت رضوان عَلَیْہِ السَّلَام ان کے لئے جنت کادروازہ کھولیں گے تووہ اپنے جنتی گھروں میں داخل ہوجائیں گے ۔ خُدَّام کلمہ پڑھتے اور تکبیر کہتے ہوئے خوشی ومسَّرت سے ان کا استقبال کریں گے ، اور وہ 500سال تک جنت کے بلند درجات پر فائز رہیں گے اور مخلوق کے حساب سے فارغ ہونے تک ان کا مشاہدہ کرتے رہیں گے تو صبر کرنے والوں کے لئے خوشخبری ہے ۔ ‘‘
صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی : ’’یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کون سی چیز میزان کو بھاری کردے گی؟‘‘آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’صبراورجس کاصبرجتنازیادہ ہوگااس کے لئے پُل صراط اتناہی چوڑا ہو گا ۔ ‘‘
(80)…تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، مَحبوبِ رَبُّ العزت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے : ’’ہر انسان پُل صراط کو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز نہ پائے گا صرف ہلاک ہونے والے ہی پُل صراط کو اس حالت میں پائیں گے ۔ یقیناًلوگ پُل صراط کو اپنے اعمال کے مطابق پائیں گے مصائب پرصبراور عبادات پراستقامت کے مطابق کسی کے لئے تو وہ جزیرے کی چوڑائی کے برابر ہوگا، کسی کے لئے ایک ہاتھ کے برابر اور کسی کے لئے چار انگل کے برابر ہوگاجبکہ کسی کے لئے بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگااوریہ اسی کے لئے ہوگاجس نے صبر کو اختیار نہ کیاہوگا ۔ جس میں صبر نہیں اس کا کوئی دین نہیں ۔ ‘‘
(81)… اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : جب کوئی بچہ فوت ہوجاتاہے اور ملائکہ اس کی روح کو لے کر (آسمان کی طرف )بلند ہوتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّسب کچھ جاننے کے باوجوداِسْتِفْسَار فرماتاہے : ’’اے میرے فرشتو!جب تم نے میری بندی سے اس کابچہ، اس کے دل کاٹکڑالیاتو میری بندی کوکیساپایا؟‘‘فرشتے عرض کرتے ہیں : ’’اے ہمارے ربعَزَّوَجَلَّ! وہ تیری آزمائش پر راضی اور تیری نعمتوں کا شکر اداکر رہی تھی ۔ ‘‘تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتاہے : ’’میری بندی کے لئے میرے عرش کے نیچے سونے کاگھر بناؤاوراس کانام بَیْتُ الصَّبْر رکھو ۔ ‘‘اور ایک دوسری حدیث میں ہے : ’’اس گھرکانام بَیْتُ الْحَمْد رکھو ۔ ‘‘
(82)…حُسنِ حضورنبی ٔ اکرم، نورِمجسم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’جس نے اپنے ایک بچے کے مرجانے پر صبر کیا اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے لئے اس کے نامۂ اعمال میں اُحد پہاڑ کے وزن کے برابر اَجر لکھ دیتا ہے اورجس نے دو بچوں کے مرجانے پر صبر کیاتو اللہ عَزَّوَجَلَّ(قیامت میں ) اسے ایسانور عطافرمائے گاجو اُس کے آگے آگے ہوگا اورمحشر کی ظلمت وتاریکی میں اس کے لئے روشنی کرے گا اورجس نے اپنے تین بچوں کے مرجانے پر صبر کیاتو جہنم کو عبور کرتے وقت اُس کے لئے اِس کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور جس نے اپنی ایک آنکھ کے ضائع ہونے پر صبر کیا تووہ شخص سب سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّکا دیدار کرے گااور اللہ عَزَّوَجَلَّ نابیناؤں کو خلعت ِخاص سے نوازے گا اور تمام مصیبت زدوں سے پہلے ان کے لئے جھنڈے لہرائے جائیں گے اور جس نے اپنی دونوں آنکھوں کے ضائع ہونے پر صبرکیاہوگا اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے لئے عرش کے نیچے گھر بنائے گاجس میں وہ نعمتیں ہوں گی جن کی کوئی تعریف نہیں کر سکتا ۔
اورجو نمازکے اہتمام کے لئے وضووغسل کی مشقت پرصبرکرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے اس کے جسم کے ہر بال کے عوض ایک نیکی لکھ دے گااور اللہ عَزَّوَجَلَّاِس وضواورغسل میں ٹپکنے والے پانی کے ہر قطرہ سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جو قیامت تک اللہ عَزَّوَجَلَّکی تسبیح کرتا رہے گااور اس کا اَجر اس (وضو اور غسل کرنے والے ) کے لئے ہوگااور جس نے لوگوں کے تکلیف دینے پر صبر کیا اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے جہنم اور اس کے دھوئیں کی تکلیف کو روک دے گااور جہنم کا ایک دروازہ ’’بَابُ التَّشَفِّیْ‘‘ہے اس میں وہی داخل ہوگا جس نے اپنے غصے پر قابونہ پایااور جس نے اپناغصہ دبایااوراپنا حق اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے چھوڑ دیاوہ جب پُل صراط سے گزرے گاتو اللہ عَزَّوَجَلَّاس پر وہ دروازہ بند کر دے گا اور اللہ عَزَّوَجَلَّاسے اَذیّت دینے والے کی نیکیاں اِس کے نامۂ اعمال میں منتقل فرمادے گااور اِس کے گناہ اُس کے نامۂ اعمال میں منتقل کر دے گااور اللہ عَزَّوَجَلَّکیاہی اچھافیصلہ فرمانے والاہے ۔
اورجو اپنے چھوٹے بچوں کی موت پر صبر کرے اور رضا ئے الٰہیکے لئے اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِط(یعنی ہم اللہ عَزَّوَجَلَّکے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ، کوئی طاقت ہے نہ قوت مگر اللہ عَزَّوَجَلَّکی مدد سے جو سب سے بلند عظمت والا ہے ۔ )کہے ، ملائکہ اس کے لئے استغفار کرتے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّاس سے راضی ہو جاتا ہے اور اس چھوٹے بچے کوباپ کے لئے وقت پرکام آنے والا بنادیتاہے جو اسے قیامت کے بڑی پیاس والے دن حوض پر سیراب کرے گا ۔ ‘‘
(83)…شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’قیامت کے دن لوگ قبروں سے بھوکے پیاسے اُٹھیں گے توجس شخص نے گرمی کے دنوں میں نفلی روزے رکھے ہوں گے اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے لئے جنت کے کھانے اور جنتی مشروبات بھیجے گا ۔ اس کاروزہ آئے گااور حوض سے لوگوں کو ہٹاتے ہوئے جام بھر بھرکر اسے خوب سیراب کرے گااور جس شخص کابچہ نابالغی کی حالت میں فوت ہو گیااوراُس نے اِس پر صبر کیاہوگااور اللہ عَزَّوَجَلَّکو ناراض کر نے والے الفاظ بول کراس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع