دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay | نیک بننے اور بنانے کے طریقے

book_icon
نیک بننے اور بنانے کے طریقے

فرمانے والے رَسُوْلِ کَرِیْم رَؤُوْفٌ رَّحِیْم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سُنّتوُں کے اتباع میں ہے۔

            شیخِ طریقت ،  امیرِ اہلسنت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی     دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃنے ہمیں اپنی زندگی   اللہ رَبُّ الْعٰلمینعَزَّوَجَلکی اطاعت اور مؤمنین پر رَحْم وکَرَم فرمانے والے رَسوُلِ کَرِیْم رَؤُوْفٌ رَّحِیْم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی سُنّتوں کے اتباع میں گزارنے کے لئے ایک عظیم مدنی مقصد عطافرمایا ہے کہ ’’  مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے  ۔ ‘‘     اِنْ شَاءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنی اصلاح کی کوشش کے لئیمدنی انعامات پر عمل اور پوری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے اور یہی وہ عظیم مقصد ہے کہ اخلاص کے ساتھ اس پر عمل کرکے ہم  اللہ  عَزَّوَجَلَّکے نیک بندے بن سکتے ہیں اور دنیا و آخرت میں کامیابی پاسکتے ہیں۔

کچھ نیکیاں کما لے جلد آخِرت  بنا لے

کوئی نہیں بھروسا اے بھائی!  زندگی کا

          شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی اپنے تحریری بیان  ’’  میں سدھرنا چاہتاہوں  ‘‘  میں فرماتے ہیں :

          اللّٰہ تعالٰی پارہ ۱۵ سورۂ بنی اسرائیل آیت ۱۹ میں ارشاد فرماتا ہے :

( وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹))

میرےآقائے نعمت، اعلٰحضرت ، امامِ اہلسنّت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المرتبت، پروانۂ شمعِ رسالت،مُجَدِّدِدین و ملّت،پیرِطریقت،عالِمِ شَرِیْعَت،حامِیٔ سُنّت،ماحِیٔ بدعت، باعِثِ خیروبَرَکت، مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رَحْمۃُ الرحْمٰناپنے شُہرئہ آفاق تَرجَمَہ قرآن کنزُالایمانمیں اِس کا ترجَمہ یوں فرماتے ہیں : ’’ اور جو آخِرت چاہے اور اُس کی سی کوشِش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشِش ٹھکانے لگی۔ ‘‘

        آج ہماری حالت یہ ہے کہ اپنی  ’’ دُنیاوی کل ‘‘ (یعنی مُستَقبِل)    سُدھارنے کے لئے تو بَہُت غور و فکر کرتے، اُس کے لئے طرح طرح کی آسایشیں جمع کرنے کی ہر دم کوشش کرتے، خوب بینک بیلنس بڑھاتے ،  کاروبار چمکاتے، فیوچر  پروگرامز ترتیب دیتے اور نجانے کیا کیا منصوبے بناتے ہیں کہ کسی طرح ہماری یہ  ’’ دُنیاوی کل ‘‘  بہتر ہوجائے ،  ہمارا دنیاوی مستقبِل سَنوَر جائے ،  لیکن افسوس!  کہ ہم اپنی  ’’ اُخروی کل ‘‘  (یعنی آخِرت ) کو سُدھارنے کی فِکرسے یکسر غافِل اوراس کی تیاری کے مُعاملے میں بِالکل کاہِل ہیں ۔حالانکہ صِرْف اِس دُنیاوی کل ہی کے سُدھرنے کا اِنتِظار کرنے والے نہ جانے کتنے نادان انسانوں کی آہِ حسرت موت کی ہچکیوں سے ہم آغوش ہوجاتی ہے اور وہ روشن مُستقبل پاکر خوشیاں منانے کے بجائے اندھیری قبرمیں اُتر کر قَعْرِ افسوس میں جا پڑتے ہیں ۔فَقَط دُنیاوی زندگی سُدھار نے کے تفکُّرَات میں مُستَغرَق ہوکر اسی کے لئے مصروفِ تگ و دَو رہنا ،  اپنی  آخِرت کی بھلائی کے لئے فکروعمل سے غفلت برتنا، سابِقہ اَعمال پر اپنا اِحْتِساب کرتے ہوئے آئندہ گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کاعَزْم نہ کرنا سَراسَر نقصان و خُسران ہے اور سمجھدار وُہی ہے جس نے حسابِ آخِرت کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے خود کوسُدھار نے کیلئے اپنے نفس کا سختی سے مُحاسَبَہ کیا،گناہوں پر افسوس اور اِن کے بُرے اَنجام کا خوف محسوس کیا ۔ جیسا کہ ہمارے اَسلاف کا طرزِ عمل رہا۔  چُنانچِہ

          حُجَّۃُالْاسلامحضرتِ  سَیِّدُنا امام محمد غزالی   علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الوالی نَقْل فرماتے ہیں کہ حضرتِ  سَیِّدُنا اِبنُ الصّمَّہرَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے ایک بار ( ’’ فکرِ مدینہ ‘‘  کرتے ہوئے ) اپنی عمر شُمار کی تو وہ( تقریباً )ساٹھ برس بنی۔ ان ساٹھ برسوں کوبارہ  سے ضَرْب دینے پرسات سو بیس مہینے بنے۔سات سوبیس کو مزید تیس سے مَضْرُوب کیا تو حاصِلِ ضَرْب اکیس ہزار چھ سو آیا ۔جو آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی مبارَک عمر کے ایّام تھے ۔پھر اپنے آپ سے مُخاطِب ہوکر فرمانے لگے، اگرمجھ سے روزانہ ایک گناہ بھی سرزد ہوا ہو تو اب تک اکیس ہزار چھ سو گناہ ہوچکے!  جبکہ اِس مدّت میں ایسے ایّام بھی شامل ہوں گے جن میں یومیہ ایک ہزار تک بھی گناہ ہوئے ہوں گے ۔یہ کہنا تھا کہ خوفِ خدا سے لرزنے لگے پھریکایک ایک چیخ ان کے منہ سے نکل کر فَضا کی پَہنائیوں میں گم ہوگئی اور آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ زمین پر تشریف لے آئے۔ دیکھا گیا تو طائِرِ رُوح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرچکا تھا ۔(کیمیائے سعادت ،  ج ۲، ص ۸۹۱ )

            پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے کہ ہمارے بُزُرْگانِ دین رَحِمَہُمُ  اللہ  تَعَالٰی کااندازِ  ’’  فکرِ مدینہ ‘‘   کس قَدَر ا علیٰ تھا اور وہ کس طرح نفس کو سدھارنے کیلئے اس کا مُحاسَبَہ فرماتے اور ہردم نیکیوں میں مصروف رہنے کے باوُجُود خود کو گنہگار تصوُّر کرتے اور ہمیشہ اللّٰہ تعالٰیسے ڈرتے رہتے یہاں تک کہ فَرطِ خوف سے بعضوں کی روحیں پرواز کر جاتیں ۔مگر افسوس!  ہماری حالت یہ ہے کہ شب و روز گناہوں کے سَمُندر میں غَرق رہنے کے باوجوداِحساسِ نَدامت ہے نہ خوفِ عاقِبَت ۔

             ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ  اللہ  تَعَالٰی شب بیداریاں کرتے ،  کثرت سے روزے رکھتے ،  کثیر اَعمالِ خیر بجا لاتے مگر پھر بھی خود کو کمترین خیال کرتے ہوئے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے      گِریہ کناں رہتے ۔ 

اَمیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ  سیِّدُناعُمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ روزانہ اپنا اِحتِساب فرمایا کرتے اور جب رات آتی تو اپنے پاؤں پر دُرَّہ مار کر فرماتے: بتا، آج تو نے  ’’  کیاکیا ‘‘  کِیا ہے؟    (اِحیاء العُلوم،کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ،ج۵،ص۱۳۷)

            حضرتِ  سَیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکا اِس طرح اپنے نَفْس کو ملامت کرنا ،  اور اللہ عَزَّوَجَلَّکا خوف دلاکر اس کا مُحاسَبَہ کرنا ہماری تعلیم کے لئے تھا۔ چُنانچِہایک موقع پر حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اے لوگو!  اپنے اَعمال کا محا سبہ کرو اس سے پہلے کہ ان کا حِساب لیا جائے۔ ‘‘ (المرجع السابق)

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اپنے سابِقہ اَعمال کا حِساب کرنا مُحاسَبَہ کہلاتا ہے۔کاش ! روزانہ رات ’’  فکرِمدینہ ‘‘  کرتے ہوئے ہمیں اپنے نَفْس کے ساتھ تمام  دن کا حساب کرنے کی سعادت مل جایا کرے اور یوں ہمیں سرمایۂ اَعمال میں نَفْع و نقصان کی معلومات ہوتی رہے ۔ جس طرح شریکِ تِجارت سے حساب لینے میں بھرپور کوشش کی جاتی ہے اسی طرح نَفْس کے ساتھ بھی حِساب کِتاب میں بہت زیادہ اِحتِیاط ضَروری ہے کیوں کہ نَفْس بَہُت چالاک اور حِیلہ ساز ہے یہ ہمیں اپنی  سرکَشی بھی اِطاعت کے لِباس میں پیش کرتا ہے تاکہ بُرائی میں بھی ہمیں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن