دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay | نیک بننے اور بنانے کے طریقے

book_icon
نیک بننے اور بنانے کے طریقے

طرح کی باتیں نہ کی جائیں کہ دو سروں کی سمجھ میں نہ آئیں ، الفاظ بھی سادہ صاف صاف ہوں ، مشکل ترین الفاظ بھی استعمال نہ کئے جائیں کہ اس طر ح اگلے پر آپ کی علمیت کی دھاک تو بیٹھ جائے گی مگر مدعا خاک بھی سمجھ نہ آئے گا ۔

            ٭اپنی زبان کو ہمیشہ بُری باتوں سے روکے رکھیں ۔حضرت سیدناعقبہ بن عامر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں میں نے عرض کیا،      یارسولَ  اللّٰہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ! نجات کیا ہے؟  فرمایا : ’’  اپنی زبان کوبر ی باتو ں سے روک رکھو۔ ‘‘ (جامع الترمذی ، کتاب الزہد ، باب ماجاء فی حفظ اللسان ، الحدیث ۲۴۱۴،ج۴،ص۱۸۲)

            ٭میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اگر ہم نے زبان کو صحیح استعمال کیا تو اس کا جو کچھ فائدہ ہوگا وہ سارا ہی جسم پائے گا اور اگریہ سیدھی نہ چلی کسی کو گالی وغیرہ دے دی تو زبان کو کوئی تکلیف ہو یا نہ ہو پٹائی دیگر اعضاء کی ہوگی ۔حضرت سیدنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکار مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’  جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے اعضا ء جھک کر زبان سے کہتے ہیں : ہمارے بارے میں اللّٰہ تعالٰی سے ڈر !  کیونکہ ہم تجھ سے متعلق ہیں ۔ اگر تو سیدھی رہے گی ،  ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی ہم بھی ٹیڑھے

ہوجائیں گے۔ ‘‘      (المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث ۱۱۹۰۸،ج۴،ص۱۹۰)

            ٭ آپس میں ہنسی مذاق کی عادت کبھی مہنگی پڑجاتی ہے حضرت عمر بن

 عبد العزیز  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:  ’’  آپس میں ٹھٹھا مذاق مت کیا کر وکہ اس طر ح (ہنسی ہی ہنسی میں ) دِلوں میں نفر ت بیٹھ جاتی ہے ۔ اوربُر ے افعال کی بنیادیں دِلوں میں استوار ہوجاتی ہیں۔ ‘‘ (کیمیائے سعادت، رکن سوم مہلکات ، باب پیداکردن ثواب خاموشی ، ج۲،ص۵۶۳ )

’’ ایک چپ ہزار سکھ ‘‘  کے بارہ حُرُوف کی نسبت سے بات چیت کرنے کے 12 مدنی پھول

   ٭پیش کردہ ہر ہر مدنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبولعَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المبین سے منقول مدنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو  ’’ سنّتِ رسول  ‘‘  نہیں کہہ سکتے ۔

 {1} مسکرا کر اور خندہ پیشانی سے بات چیت کیجئے۔

  {2} مسلمانوں کی دلجوئی کی نیّت سے چھوٹوں کے ساتھ مُشفِقانہ اور بڑو ں کے ساتھ مُؤدَّ با نہ لہجہ رکھئے   اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّثواب کمانے کے ساتھ ساتھ دو نوں کے نزدیک آپ مُعزَّز رہیں گے۔

  {3} چلاّ چلاّ کر بات کرنا جیسا کہ آجکل بے تکلُّفی میں اکثر دوست آپس میں کرتے ہیں سنّت نہیں ۔

 {4} چاہے ایک دن کا بچّہ ہو اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اُس سے بھی آپ جناب سے گفتگو کی عادت بنایئے ۔ آپ کے اخلاق بھیِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  عمدہ ہوں گے اور بچّہ بھی آداب سیکھے گا۔

  {5}  بات چیت کرتے وقت پردے کی جگہ ہاتھ لگانا، انگلیوں کے ذَرِیعے بدن کا میل چُھڑانا، دوسروں کے سامنے با ربار ناک کوچھونا یاناک یا کان میں انگلی ڈالنا ،  تھوکتے رہنا اچھی بات نہیں ،  اس سے دو سرو ں کوگِھن آتی ہے۔

 {6} جب تک دوسرا بات کر رہا ہو ، اطمینان سے سنئے۔ اس کی بات کاٹ کراپنی بات شرو ع کر دینا سنّت نہیں ۔

  {7}  بات چیت کرتے ہوئے بلکہ کسی بھی حالت میں قہقہہ نہ لگائیے کہ سر کار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا ۔

  {8} زیادہ باتیں کرنے اور بار بار قہقہہ لگانے سے ہیبت جاتی رہتی ہے ۔

  {9 } سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمان عالیشان ہے:  ’’ جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اسے دُنیا سے بے رغبتی اور کم بولنے کی نعمت عطا کی گئی ہے تو اس کی قربت وصحبت اختیار کرو کیونکہ اسے حکمت دی جاتی ہے۔ ‘‘ (سُنَن ابن ماجہ ج۴ص۴۲۲حدیث ۴۱۰۱)

 {10}  فرمانِ مصطفٰیصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  :  ’’  جو چُپ رہا اُس نے نَجات پائی ۔‘ ‘ (سُنَنُ التِّرْمِذِیّج۴ ص۲۲۵ حدیث ۲۵۰۹) مراٰۃ المناجیح میں ہے :حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ  سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الوالی فرماتے ہیں : گفتگو کی چار قسمیں ہیں : (۱) خالِص مُضِر(یعنی مکمَّل طور پر نقصان دِہ) (۲) خالِص مفید(۳) مُضِر(یعنی نقصان دِہ) بھی مفید بھی(۴) نہ مُضِر نہ مفید۔ خالص مُضِر(یعنی مکمَّل نقصان دِہ ) سے ہمیشہ پرہیز ضَروری ہے، خالِص مفید کلام(بات) ضَرور کیجئے ، جو کلام مُضِر بھی ہو مفید  بھی اس کے بولنے میں احتیاط کرے بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے

کلام میں وَقت ضائِع کرنا ہے ۔ا ن کلاموں میں امتیاز کرنا مشکل ہے لہٰذا خاموشی بہتر ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۴۶۴)

  {11} کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصدبھی ہونا چاہیے اور ہمیشہ مخاطب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے ۔

 {12} بدزبانی اور بے حیائی کی با تو ں سے ہر وقت پرہیز کیجئے ،  گالی گلوچ سے اجتناب کر تے رہئے اور یاد رکھئے کہ کسی مسلمان کو بِلا اجازتِ شَرعی گالی دینا حرام ِقَطعی ہے۔ (فتاوی رضویہ،ج۲۱،ص۱۲۷) اور بے حیائی کی بات کرنے والے پر جنّت حرام ہے ۔حُضُور تا جدارِ مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’  اس شخص پر جنّت حرام ہے جو فُحش گوئی (بے حیائی کی بات ) سے کام لیتا ہے ۔‘ ‘  ( کتابُ الصَّمْت مع موسوعۃالامام ابن ابی الدنیا، ج۷،ص۲۰۴ الحدیث:۳۲۵)

  سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن