30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملتمولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 23صفحہ 399 پر لکھتے ہیں :ذاکر پر سلام کرنا مطلقًا منع ہے اور اگر کوئی کرے تو ذاکر کواختیار ہے کہ جواب دے یا نہ دے۔ ہاں اگر کسی کے سلام یا جائز کلام کا جواب نہ دینا اس کی دل شکنی کا موجب(یعنی سبب) ہو تو جواب دے کہ مسلمان کی دلداری وظیفہ میں بات نہ کرنے سے اہم واعظم ہے۔
وئی اسلامی بھائی در س وتدریس یا علمی گفتگویا سبق کی تکرار میں ہے اس کو سلام نہ کریں ۔ (بہار شریعت،سلام کا بیان،جلد سوم ، حصہ۱۶،ص۴۶۲)
٭اجتماع میں بیان ہو رہا ہے،اسلامی بھائی بیان سن رہے ہیں آنے والا سلام نہ کرے۔
٭جوپیشاب، پاخانہ کر رہاہے ، یاپیشاب کرنے کے بعد ڈھیلا لئے جائے پیشاب سکھانے کے لئے ٹہل رہا ہے ، غسل خانے میں برہنہ نہا رہا ہے ، گانا گار ہا ہے ، کبوتراڑارہا ہے یاکھانا کھارہا ہے ان سب کو سلام نہ کریں ۔(المرجع السابق،ص۴۶۲)
٭ جن صورتوں میں سلام کرنا منع ہے اگر کسی نے کر بھی دیاتو ان پر جواب واجب نہیں ۔ (المرجع السابق ملخصاً)
٭کھانا کھانے والے کو سلام کردیا تو منہ میں اس وقت لقمہ نہیں توجواب دے دے ۔ (المرجع السابق ، ص۴۶۱ ملخصاً)
٭سائل(بھکاری) کے سلام کاجواب واجب نہیں ( جبکہ بھیک مانگنے کی غر ض سے آیا ہو)۔ (المرجع السابق،ص۴۶۱)
٭اکثر جگہ یہ طریقہ ہے کہ چھوٹا جب بڑے کو سلام کرتا ہے تو وہ جواب میں کہتاہے جیتے رہو۔یہ سلام کاجواب نہیں ہے۔ (المرجع السابق، ص۴۶۵)
’’ اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ ‘‘ کے گیارہ حُرُوف کی نسبت سے سلام کے 11 مدنی پھول
٭پیش کردہ ہر ہر مدنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبولعلٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین سے منقول مدنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو ’’ سنّتِ رسول ‘‘ نہیں کہہ سکتے ۔
{1} مسلمان سے ملاقات کرتے وقت اُسے سلام کرنا سنّت ہے ۔
{2} مکتبۃ المد ینہکی مطبوعہ بہارِ شریعت ، جلد سوم ، حصہ 16صَفْحَہ 469 پر لکھے ہوئے جُزیئے کا خلاصہ ہے: ’’ سلام کرتے وَقت دل میں یہ نیّت ہو کہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اِس کا مال اور عزت و آبرو سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور میں ان میں سے کسی چیز میں دَخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں ۔ ‘‘
{3} دن میں کتنی ہی بار ملاقات ہو، ایک کمرہ سے دوسرے کمرے میں بار بار آنا جانا ہو وہاں موجود مسلمانوں کو سلام کرنا کارِ ثواب ہے ۔
{4} سلام میں پہل کرنا سنّت ہے۔
{5} سلام میں پہل کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مُقَرَّب ہے۔
{6} سلام میں پہل کرنے والا تکبُّر سے بھی بَری ہے۔ جیسا کے میرے مکّی مدنی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ با صَفا ہے : پہلے سلام کہنے والا تکبُّر سے بَری ہے۔ (شُعَبُ الایمان ج۶ ص ۴۳۳حدیث:۸۷۸۶)
{7} سلاممیں پہل کرنے والے پر 90 رَحمتیں اور جواب دینے والے پر 10 رَحمتیں نازِل ہوتی ہیں (جامع الصغیر للسیوطی، الحدیث:۴۸۷،ص۳۶)
{8} اَلسَّلامُ عَلَیْکُم کہنے سے 10 نیکیاں ملتی ہیں ۔ ساتھ میں وَرَحمَۃُ اللّٰہ بھی کہیں گے تو 20 نیکیاں ہو جائیں گی ۔ اور وَ بَرَکَاتُـہٗ شامل کریں گے تو 30 نیکیاں ہو جائیں گی۔ بعض لوگ سلام کے ساتھ جنَّتُ المقام اور دوزخُ الحرام کے
الفاظ بڑھا دیتے ہیں یہ غلط طریقہ ہے۔ بلکہ مَن چلے تو مَعَاذَ اللّٰہ یہاں تک بک جاتے ہیں : آپ کے بچّے ہمارے غلام۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتا وٰی رضویہ جلد 22 صَفْحَہ409 پر فرماتے ہیں : کم از کم اَلسَّلامُ عَلَیْکُم اوراس سے بہتروَرَحمَۃُ اللّٰہ ملانا اور سب سے بہتر وَبَرَکَاتُـہٗ شامل کرنا اور اس پر زِیادَت نہیں ۔ پھرسلام کرنے والے نے جتنے الفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اعادہ تو ضَرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زیادہ کہے۔ اس نے اَلسَّلامُ عَلَیْکُم کہا تو یہ وَعَلَیْکُمُ السَّلام وَرَحْمَۃُ اللّٰہ کہے۔ اورا گر اس نے اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحمَۃُ اللّٰہکہا تو یہ وَعَلَیْکُمُ السَّلامُ وَرَحمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کہے اوراگر اس نے وبَرَکاتُہٗ تک کہا تویہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زِیادَت نہیں ۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم
{9} اِسی طرح جواب میں وَعَلَیکُمُ السَّلامُ وَرَحمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکاتُہٗ کہہ کر 30 نیکیاں حاصِل کی جا سکتی ہیں ۔
{10} سلام کا جواب فوراً اور اتنی آواز سے دینا واجِب ہے کہ سلام کرنے والا سُن لے۔
{$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع