30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{47} پانچواں کلمہ اِسْتِغْفَار
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ م اَذْنَبْتُہٗ عَمَدًا اَوْ خَطَأً سِرًّا اَوْعَلَانِیَۃً وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنَ الذَّنْبِ م الَّذِیْٓ اَعْلَمُ وَ مِنَ الذَّنْبِ م الَّذِیْ لَآ اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَ سَتَّارُ الْعُیُوْبِ وَغَفَّارُالذُّنُوْبِ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ط
ترجمہ : میں اللہ سے معافی مانگتاہوں جو میرا پروردگار ہے ہرگناہ سے جو میں نے جان بوجھ کر کیا یا بھول کر۔ چھپ کر کیا یا ظاہر ہوکر اورمیں اس کی بارگاہ میں توبہ کرتاہوں اس گناہ سے جس کو میں جانتاہوں اوراس گناہ سے بھی جس کو میں نہیں جانتا،(اے اللہ ! )بیشک تو غیبوں کا جاننے والا اورعیبوں کا چھپانے والا اورگناہوں کابخشنے والا ہے اورگناہ سے بچنے کی طاقت اورنیکی کرنے کی قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے جو سب سے بلند عظمت والا ہے ۔
{48} چھٹا کلمہ ردِّ کفر
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْْٓ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّ اَنَآ اَعْلَمُ بِہٖ وَ اَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ بِہٖ تُبْتُ عَنْہُ وَ تَبَرَّأْتُ مِنَ الْکُفْرِوَ الشِّرْکِ وَ الْکِذْبِ وَ الْغِیْبَۃِ وَ الْبِدْعَۃِ وَ النَّمِیْمَۃِ وَ الْفَوَاحِشِوَ الْبُھْتَانِ وَ الْمَعَاصِیْ کُلِّھَا وَ اَسْلَمْتُ وَ اَقُوْلُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط
ترجمہ : اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتاہوں اس بات سے کہ میں کسی شے کو تیرا شریک بناؤ ں جان بوجھ کر اوربخشش مانگتاہوں تجھ سے اس(شرک)کی جس کو میں نہیں جانتا اورمیں نے اس سے توبہ کی اورمیں بیزار ہوا کفر سے اورشرک سے اورجھوٹ سے اورغیبت سے اوربدعت سے اورچغلی سے اوربے حیائیوں سے اوربہتان سے اورتمام گناہوں سے اورمیں اسلام لایا اور میں کہتاہوں اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمدصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ کے رسول ہیں ۔
کفن پر لکھنے کی دُعائیں
جو یہ دعا میت کے کفن پر لکھے اللّٰہ تعالیٰ قیامت تک اس سے عذاب اٹھالے۔ وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْأَلُکَ یَا عَالِمَ السِّرِّ یَا عَظِیْمَ الْخَطَرِ یَاخَالِقَ الْبَشَرِ یَا مُوْقِعَ
الظَّـفَرِ یَا مَعْرُوْفَ الْاَ ثْرِ یَاذَا الطَّوْلِ وَ الْمَنِّ یَاکَاشِفَ الضَّرِّ وَ الْمِحَنِ یَا اِلٰـہَ
الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ فَرِّجْ عَنِّیْ ھُمُوْمِیْ وَاکْشِفْ عَنِّیْ غُمُوْمِیْ
وَصَلِّ اَللّٰھُمَّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ سَلِّمْ
جو یہ دعاکسی پرچہ پر لکھ کر سینہ پر کفن کے نیچے رکھ دے اسے عذابِ قبر نہ ہو نہ مُنکَر نکیر نظر آئیں اور وہ دعا یہ ہے :
لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُلَـہُ الْمُلْکُ وَلَـہُ الْحَمْدُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ (فتاوی رضویہ مخرجہ ج۹ ص۱۰۸ ، ۱۱۰)
مدنی پھول : بہتر یہ ہے کہ یہ پرچہ (بلکہ عہد نامہ اورشجرہ وغیرہ )میت کے منہ کے سامنے قبلہ کی جانب (قبر کی اندرونی دیوار میں )طاق کھود کر اس میں رکھیں ۔(بہارشریعت ج۱حصہ۴ص۸۴۸)(مدنی پنج سورہ ص۲۲۳)
میٹھے میٹھے اسلا می بھا ئیو !
سلا م کر نا ہمارے پیا ر ے آقا،تا جدا ر مد ینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بہت ہی پیار ی سنت ہے۔ بدقسمتی سے آج کل یہ سنت بھی ختم ہو تی نظر آرہی ہے ۔ اسلامی بھائی جب آپس میں ملتے ہیں تو اَلسَّلَا مُ عَلَیْکُمْسے ابتدا کرنے کے بجائے ’’ آداب عرض ‘‘ ، ’’ کیا حال ہے ؟ ‘‘ ، ’’ مزاج شریف ‘‘ ، ’’ صبح بخیر ‘‘ ، ’’ شام بخیر ‘‘ وغیرہ وغیرہ عجیب وغریب کلمات سے ابتدا کرتے ہیں ، یہ خلافِ سنت ہے ۔ رخصت ہوتے وقت بھی ’’ خدا حافظ ‘‘ ’’ گڈبائی ‘‘ ’’ ٹاٹا ‘‘ وغیرہ کہنے کے بجائے سلام کرنا چاہئے۔ ہاں رخصت ہوتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکے بعد اگر خدا حافظ کہہ دیں تو حرج نہیں ۔سلام کی چند سنّتیں اور آداب ملاحظہ ہوں :
٭ سلام کے بہترین الفاظ یہ ہیں ’’ اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ یعنی تم پر سلامتی ہواور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ ( ماخوذ فتاویٰ رضویہ،ج۲۲،ص۴۰۹)
٭ سلام کرنے والے کو اس سے بہتر جواب دینا چاہئے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ- (پ ۵،النسا:۸۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہترلفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو ۔
٭سلا م کے جواب کے بہترین الفا ظ یہ ہیں :
وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗیعنی اور تم پر بھی سلامتی ہواور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔(ماخوذ فتاوی رضویہ،ج۲۲،ص۴۰۹)
٭سلام کرنا حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی بھی سنت ہے ۔(مراٰۃ المناجیح ، ج۶،ص۳۱۳)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور سید دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیدنا آدم علٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلاۃ والسَّلامکو پیدا فرمایا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ او رفرشتو ں کی اس بیٹھی ہوئی جماعت کو سلام کرو۔ اور غور سے سنو! کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں ۔ کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہے۔حضرت سیدنا آدم علیہ السلام نے فرشتو ں سے کہا : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ تو انہوں نے جواب دیا ، ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ ‘‘ اور انہوں نے ’’ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ ‘‘ کے الفاظ زائد کہے ۔ ‘‘ ( صحیح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع