30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لىکن جنَّت بطورِ اِنعام صرف حضرتِ آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کى اَولاد کے لىے ہے۔ ([1])* جَنَّت مىں داخل ہونے والا پھر کبھى بھى اس سے نکالا نہیں جائے گا۔ ([2])*یاد رہے کہ جَنَّت پر اِىمان لانا ضَرورىاتِ دِىن مىں سے ہے۔ اگر کوئی جَنَّت کا اِنکار کرے اور کہے کہ جَنَّت کچھ نہیں یہ خام خیالی کی باتیں ہیں تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس نے موت سے پہلے توبہ نہ کی تو ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ نماز ، روزہ اور دِیگر نیک اَعمال اُسے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اللہ پاک اپنے محبوبِ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحِیْم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے صَدقے ہم گناہگاروں کو بِلاحساب جَنَّت مىں داخلہ نصىب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ([3])
کیا جِنَّات بھی بَلا میں داخل ہیں؟
سُوال : بَلا سے کیا مُراد ہے ، کیا جِنَّات بھی بَلا میں داخل ہیں ؟ ([4])
جواب : ہر آفت ومصیبت اور پریشانی کو بَلا کہہ سکتے ہیں۔ جو جِنَّات تنگ کریں ، مال چُرا لیں یا ستائیں تو انہیں بھی بَلا کہنا دُرُست ہے اگرچہ وہ مسلمان ہوں یا کافر البتہ جو نیک مسلمان جِنَّات بالکل بھی نہیں ستاتے تو انہیں بَلا نہیں کہہ سکتے۔ عاملوں کی اِصطلاح میں ناپاک جن اُسے بولتے ہىں جو کافر ہو اور پاک جن اسے کہتے ہىں جو مسلمان ہو اگرچہ وہ ستاتا اور لوٹ مار کرتا ہوں لیکن مسلمان ہونے کے سبب اسے پاک جِن ہی بولتے ہیں۔ اِنسانوں میں بھی ڈکیتی چوری یا دِیگر گناہ کرنے والے مسلمان عقیدے کے لحاظ سے پاک ہی کہلائیں گے اگرچہ اَعمال کے اِعتبار سے پاک نہ ہوں ۔
لکھنے میں حُرُوف کے دائرے کھلے رکھنا
سُوال : ىکم مُحَرَّمُ الْحَرام کو جو 130 مَرتبہ “ بِسْمِ اللہ شرىف “ لکھنی ہوتی ہے ، اس کے لکھنے کا طریقہ بتا دیجئے۔ (احمد آباد ، ہند سے سُوال)
جواب : جب بھی پہننے ، پینے یا لٹکانے کیلئے بطورِ تعویذ کوئی آیت یا عبارت لکھیں تو دائرے والے حُرُوف کے دائرے کُھلے رکھنے ہوں گے مَثَلًا “ اﷲ “ میں “ ہ “ اور رحْمٰن ، اور “ رَحِیْم “ دونوں میں “ م “ کا دائِرہ کُھلا ہو۔ لکھنے میں تشدید ، کھڑا زبر اور دیگر اِعراب لگانے ضَروری نہیں جیساکہ “ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ میں ہے اور اگر لگادیئے جب بھی حرج نہیں۔
سُوال : مُبارَک باد کِن مواقع پر دی جائے؟ نیز مُبارَک باد دینے والے کو جواب میں کیا اَلفاظ کہے جائیں؟
جواب : کسی بھی مسلمان کو کوئی اچھى چىز یا خوشی نصیب ہوئی تو اسے مُبارَک باد دے سکتے ہیں مثلاً اَولاد کی پیدائش ، منگنى وشادی ، کاروبار مىں نفع ، نىا مکان لىنا وغیرہ وغیرہ۔ حدیثِ پاک میں نکاح پر مُبارَک باد اور دُعا دینے کے اَلفاظ ملتے ہیں۔
مُبارک باد کے جواب میں کوئی آمین کہتا ہے ، کوئى : خىر مبارک ، کوئی : جى آپ کو بھى مُبارَک ہو۔ اِس طرح کے جوبھی اَلفاظ کہے جائیں سب دُرُست ہیں۔ چونکہ مُبارَک باد دینا یا وُصول کرنا کوئی شرعی اِصطلاحات نہیں لہٰذا اِس کے لیے شریعت میں خاص اَلفاظ بھی مُقَرَّر نہیں۔ مُبارَک دینے کا مطلب سامنے والے کو دُعا دینا ہے یعنی آپ کو بَرَکت نصیب ہو اور جواب میں آمین کہنے کا مطلب ہے کہ ایسا ہی ہو یا خیر مبارک کہنے کا مطلب ہے : اچھا ، بہت خوب ، وَاِیَّاکُم یعنی آپ کو بھی ایسا نصیب ہو۔
بڑھاپے سے متعلق ایک اِیمان اَفروز حدیث
سُوال : مسلمان کی عمر جب 40 سال ہوجائے تو کیا اُس کے لیے حدیث شریف میں کوئی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے ؟
جواب : فتاویٰ رضویہ میں یہ رِوایت ہے کہ جب مسلمان کی عمر 40 برس کی ہوتی ہے اللہ پاک جُنُون ، جُذام اور بَرص کو اُس سے پھیر دیتا ہے اور 50 سال والے پر حساب میں نرمی اور 60 برس والے کو توبہ وعبادت نصیب ہوتی ہے۔ 70 سال والے کو اللہ پاک اور اُس کے فَرِشتے دوست رکھتے ہیں۔ 80 برس والے کی نیکیاں قبول اور بُرائیاں مُعاف ، 90 برس والے کے سب اگلے پچھلے گناہ مَغفور (یعنی بخش دیئے) جاتے ہیں ، وہ زمین میں اللہپاک کا قیدی کہلاتا ہے اور وہ اپنے گھر والوں کا شفیع (یعنی شفاعت کرنے والا) کیا جاتا ہے۔ ([5])اِس رِوایت میں بوڑھوں کے لیے بہت تسلی ہے ، اللہ پاک بوڑھے اَشخاص کو بھی شُکرگزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
اُستاد کو عُرف کے مُطابق طلبا پڑھانے کے لیے دیئے جائیں
[1] اعلیٰ حضرت ، امام اہل سنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ایک قول یہ بھی ہے کہ (جِنَّات)جنَّت کے آس پاس مکانوں میں رہیں گے ، جنَّت میں سیر کو آیا کریں گے۔ (عمدة القاری ، کتاب بدء الخلق ، باب ذکر الجن وثوابھم وعقابھم ، ۱۰ / ۶۴۵) ( پھر فرمایا : ) جنَّت تو جاگیر ہے آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ، اُن کی اَولاد میں تقسیم ہو گی۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۵۳۶)
[2] پارہ 14 سورۃُ الحجر کی آیت نمبر 48 میں اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا : ﴿ لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ(۴۸) ﴾ترجمۂ کنزالایمان : نہ انہیں اس میں کچھ تکلیف پہنچے نہ وہ اس میں سے نکالے جائیں۔
[3] جنَّت کے بارے میں مزید معلومات حاصِل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 152 تا 162 سے “ جنَّت کا بیان “ کا مُطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنَّت)
[4] یہ سُوال شعبہ “ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنَّت “ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیر اہلِ سنَّت)
[5] مسند امام احمد ، انس بن مالک بن النضر ، ۴ / ۴۳۴ ، حدیث : ۱۳۲۷۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع