30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دى : وَعَلَیْکُمُ السَّلَام یَا مُحَمَّد ہَاشِمُ الْتَتْوِی۔ ([1]) جس ہستی کو رَوضۂ انور سے سلام کا جواب آئے تو اس کى بزرگی مىں کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔
شَیْخُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا مخدوم پىر محمد ہاشِم ٹھٹھوى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے مزار شریف پر فقہ کی تکرار کرنے سے فقاہت میں اِضافہ ہونے والی بات بالکل دُرُست ہو سکتی ہے۔ مزاراتِ اَولیا سے اِس قسم کی بَرکتیں ملنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ جب اَہْلُ اللہ کی زندگی میں اُن کی بَرکتیں اور فیضان ملنا ہر ایک کو تسلیم ہے تو اِنتقال کے بعد وہ بَرکتیں منقطع تو نہیں ہوجاتی بلکہ کئی گنا بڑھ جاتی ہیں ، اِس لیے کہ بعدِ اِنتقال تو اَہْلُ اللہ اِنعام و اِکرام کی جگہ پر ہوتے ہیں ، ان کے دَرَجات میں مزید اِضافہ کر دیا جاتا ہے۔ وہ عام لوگوں کی طرح مٹی میں فنا ہوکر ختم نہیں ہو جاتے بلکہ ان کے مبارک جسم سَلامت رہتے ہیں لہٰذا جب وہ دُنیوی زندگی میں فائدہ پہنچا سکتے تھے تو اب بعدِ اِنتقال تو اور زیادہ نفع دے سکتے ہیں۔ ([2])
کسی شخصیت کو کسی بزرگ کی سیرت کا مظہر کب کہا جائے؟
سُوال : کسی شخصیت کو کسی بزرگ کی سیرت کا مظہر کہنے کے لیے کیا کیا اَوصاف دیکھے جائیں؟(کسی نے امیر اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو سیرتِ فاروقی کا مظہر کہہ دیا ، اس پر آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جو مَدَنی پھول اِرشاد فرمائے وہ جواباً پیشِ خدمت ہیں۔ )
جواب : کسی بزرگ کی سیرت کا مظہر اُسی شخص کو کہہ سکتے ہیں جس میں اُس بزرگ کے اکثر اَوصاف پائے جائیں ۔ اگر ایک آدھ وَصف دیکھ کر کسی بزرگ کی سیرت کا مظہر ٹھہرا دیا جائے تو یہ بہت زیادہ مبالغہ ہو جائے گا مثلاً مجھے اِس وجہ سے سیرتِ فاروقی کا مظہر کہنا کہ نمازِ فجر میں لوگوں کو جگانے کے لیے “ صَدائے مدینہ “ کا طریقہ اِیجاد کیا تو یہ دُرُست نہیں اِس لیے کہ جب “ صَدائے مدینہ “ جاری کی تھی تو اُس وقت مجھے یہ نہیں معلوم نہیں تھا کہ نمازِ فجر کے لیے جگانا حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا معمول تھا لہٰذا اِس ادا کو زندہ کرنے کی کوئی نیت بھی نہیں کی تھی۔ بالفرض اگر نیت ہوتی بھی جب بھی ایک وَصف کو لیکر سیرت کا مظہر تو نہیں کہہ سکتے ورنہ تو ہر داڑھی والا شخص سیرتِ مصطفےٰ کا مظہر کہلائے گا کہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی یہ ادا اُس میں پائی جارہی ہے بلکہ بزرگوں کی بعض اَدائیں تو کفار میں بھی پائی جاتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ اِیمان نہ ہونے کے سبب ان کو آخرت میں اَجر نہیں ملے گا۔ بہرحال مجھے سیرتِ فاروقی کا مظہر کہنے میں ایسا مُبالغہ ہے جس میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیئے جاتے ہیں اور ایسا کرنا دُرُست نہیں ۔ حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اتنی عظیم ہستی ہیں کہ کاش! ان کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں حتی کہ میری سانس ٹوٹ جائے ، ان کی جوتیوں میں اللہ پاک مجھے جگہ عطا فرما دے۔
وہ عمر جس کے اَعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش)
سُوال : نئے مہینے یا سال کے آنے پر کون سی دُعا پڑھنی چاہیے؟ ([3])
جواب : حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بن ہِشام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جب کوئی مہینا یا سال آتا تونبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے صحابہ یہ دُعا ایسے سیکھتے جیسے قرآنِ کریم سیکھتے تھے : اَللّٰهُمَّ اَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِيْمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ وَ جَوَازٍ مِّنَ الشَّيْطَان وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ یعنی اے اللہ! اسے ہم پر امن واِیمان ، سلامتی و اِسلام ، شیطان سے پناہ اور رَحمٰن (یعنی اپنی) رضا کے ساتھ داخل فرما۔ ([4])
سُوال : جَنَّت کسے کہتے ہىں ، وضاحت فرما دیجئے؟ (سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب : جَنَّت کے لفظى معنىٰ ہیں : باغ ۔ ہمارے عقیدے میں جو “ جَنَّت “ ہے وہ اللہ پاک کى نعمتوں کا بہت بڑا مقام ہے۔ جس مىں بہت سی اىسى نعمتىں ہىں جو نہ کسى آنکھ نے دىکھى اور نہ کسی کان نے ان کے متعلق سنا۔ ([5])* جَنَّت صرف انہیں اِنسانوں کو نصیب ہوگی جو دُنیا سے اِیمان کے ساتھ رُخصت ہوں گے۔ *جِنَّات میں بھى اگرچہ مسلمان ہىں
[1] انوار علمائے اہلِ سنت سندھ ، ص۷۱۴۔
[2] مُحَقِّق عَلَی الْاِطْلَاق ، خاتِمُ الْمُحَدِّثِیْن حضرتِ سیِّدُنا علّامہ شیخ عبدُالحق مُحَدِّث دِہلویرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نقل کرتے ہیں : سیدی احمد بن مَرزوق رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ جودیارِ مغرب کے عظیم ترین فقہاء اور عُلَماء و مَشائخ سے ہیں فرماتے ہیں کہ ایک دِن شیخ ابوالعباس حَضْرَمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے مجھ سے دَريافت كيا : زندہ کی اِمداد زياده قوی (یعنی مضبوط)ہے یا مَيِّت کی؟ میں نے کہا : کچھ لوگ زندہ کی اِمداد زیادہ قوی بتاتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ وفات یافتہ کی اِمداد زیادہ قوی ہے۔ اس پر شیخ نے فرمایا : ہاں!یہ بات دُرُست ہے اِس لیے کہ وفات یافتہ بزرگ اللہ پاک کے دَربار میں اس کے ہاں ہوتے ہیں۔ (اشعة اللمعات ، کتاب الجنائز ، باب زیارة القبور ، ۱ / ۷۶۲)
[3] یہ سُوال شعبہ “ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنَّت “ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیر اہلِ سنَّت)
[4] الاصابة ، حرف العين المهملة ، عبداللّٰہ بن ھشام ، ۴ / ۲۱۸ ، الرقم : ۵۰۲۲۔
[5] بخاری ، کتاب بدء الخلق ، باب ما جاء فی صفة الجنة وانها مخلوقة ، ۲ / ۳۹۱ ، حدیث : ۳۲۴۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع