30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نيک مسلمان کی وجہ سے اُس کے پڑوس کے 100 گھروں سے بَلا دُور فرما ديتا ہے۔ ([1])اگر دُنیا میں اچھے پڑوسی مل جائیں تو کہیں جاتے وقت گھر بار کی فکر نہیں ہوتی اور اگر بُرے پڑوسی ہوں تو پھر مضبوط تالے لگانے پڑتے ہیں کہ کہیں پیچھے گھر کا صفایا ہی نہ کردیں۔ بہو ، بیٹیوں کے مُعاملے میں بھی بُرے پڑوسیوں سے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ بہرحال اچھا بُرا پڑوس دُنیا و آخرت دونوں میں ہی اَہمیت رکھتا ہے۔
بعدِ تَدفین مَیِّت کو منتقل کرنا کیسا؟
سُوال : اگر کوئى مَیِّت کسى جگہ دَفن ہے اب اُسے وہاں سے نکال کر کسى وَلِىُّ اللہ کے قُرب مىں دَفن کرنا چاہیں تو کیا اِس کی اِجازت ہے؟
جواب : ایک بار تَدفین کے بعد بِلاعُذرِ شرعی قبر کھولنا حرام ہے۔ لہٰذا کسی بھی شخص کو اىک جگہ دَفن ہونے کے بعد اب کسی وَلِىُّ اللہ کے مزار شریف کے اِحاطے میں مُنْتَقِل نہیں کر سکتے ۔ ([2])
مزارات کے اِردگِرد کی قبریں مٹاکر راستہ بنانا کیسا؟
سُوال : کسی وَلیُّ اللہ کے مزار شریف کے اِردگِرد کی قبریں کاٹ کر راستہ بنانا کیسا؟نیز کیا زائرین اس راستہ پر چل سکتے ہیں؟
جواب : مزاراتِ اَولیا کے اِرد گِرد موجود قبروں پر فرش ڈال کر بالکل نام ونشان مٹا دینا یا بعض جگہ برائے نام کچھ علامت باقی رکھنا یہ دُرُست نہیں ، اِس لیے کہ مسلمان کی قبر پر چلنا ، بیٹھنا ، لیٹنا سب ناجائز ، ظلم اور حرام ہے ، ٹیک بھی نہیں لگاسکتے۔ ([3])فرش ڈالنے کے سبب ظاہرى قبر تو مِٹ جاتى ہىں لیکن حقىقى قبر جو زمىن کے اندر ہوتى ہے وہ باقى رہتی ہے۔ اب جتنے بھی لوگ فرش پر چل رہے ہیں تو یہ سارا گناہ قبریں مٹاکر فرش بنانے والوں پر ہوگا۔ ان مٹائی گئی قبروں میں بعض تو اَولیائے کِرام رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہم کی بھی ہو سکتی ہیں ، ظاہر ہے کہ وِلایت کے لیے شہرت شرط نہیں بلکہ بعض تو ایسے بھی ولی ہوتے ہیں جنہیں خود اپنا ولی ہونے کا پتا نہیں ہوتا۔ حضرتِ سَیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے بالکل قدموں میں ایک قبر شریف ہے جس پر فرش ڈال کر معمولی نشان باقی رکھا گیا ہے ، جس وقت لوگ داتا صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے مزار شریف پر پھول ڈالتے ہیں تو اس قبر پر پاؤں آتے ہیں۔ اب صَدیوں پُرانی وہ نجانے کس وَلِیُّ اللہ کی قبر ہے ، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ داتا صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے کوئی خلیفہ ہوں بلکہ مجھے اىک پُرانے اسلامى بھائى نے بتاىا کہ جب میں چھوٹا تھا تو یہاں داتا صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے مزار شریف کے اِردگِرد کئی اور قبریں بھی تھی لیکن بعد میں ماربل والا فرش ڈال کر ان کا نام ونشان مٹا دیا گیا۔ مَعَاذَاللّٰہ اب لوگ آزادانہ اس فرش پر چلتے پھرتے اور بیٹھ کر تلاوت کر رہے ہوتے ہىں حالانکہ ىہ سب کام حرام ہیں۔
محکمۂ اوقاف والوں کو چاہیے کہ اپنی ان زیادتیوں سے سچی توبہ کریں اور جہاں جہاں مزاراتِ مُبارَکہ کے اِردگِرد کی قبریں مٹائی ہیں تو انہیں دوبارہ تعمیر کروائیں یا کم از کم جس حصے میں قبریں واقع ہیں تو اس حصے کو چھوٹی دیوار لگاکر نمایاں کر دیں اور ساتھ کتبہ بھی لگادیں کہ “ اِس حصے میں قبریں ہیں لہٰذا جانا منع ہے۔ “ تاکہ لوگ وہاں جانے سے بچیں۔ اگر ایسا کرنے کا اِختیار رکھنے کے باوجود بھی وہ نہیں کرتے تو کل قیامت میں پھنس سکتے ہیں ، اِس لیے کہ اَولیائے کِرام رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم کے مزاراتِ مُبارَکہ کے اِردگِرد صَدیوں پُرانی قبروں میں مَدفون نہ جانے کون کون بُزُرگ ہستیاں ہوں۔ بالفرض اگر وہ اَہْلُ اللہ سےنہ ہوں تب بھی ان کے صَحِیْحُ الْعَقیْدَہ عاشقانِ اَولیا ہونے میں تو شک نہیں کیا جا سکتا۔ اَولیائے کِرام رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم سے محبت تھی جبھی تو ان کے پہلُو میں دَفن ہونے کی وَصیت کی۔
حضرتِ سَیِّدُنا ہاشِم ٹھٹھوی کا تعارف اور کرامت
سُوال : حضرتِ سَیِّدُنا مخدوم محمد ہاشِم ٹھٹھوى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کا کچھ تعارف کروا دیجئے۔ نیز سنا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے مزار شریف پر فقہ کی تکرار کرنے سے فقاہت میں اِضافہ ہو جاتا ہے ، کیا یہ بات دُرُست ہے؟ (سندھ کے شہر ٹھٹھہ کے قریب مکلی میں واقع حضرتِ سَیِّدُنا مخدوم ہاشِم ٹھٹھوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے مزار شریف کے ایک زائر کا سُوال)
جواب : اللہپاک شَیْخُ الْاِسْلام حضرتِ سَیِّدُنا مخدوم پىر محمد ہاشِم ٹھٹھوى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِکے مزار شریف پر کروڑوں رَحمتیں نازل فرمائے۔ مجھے ان کے مزار شریف پر حاضری کا کبھی شَرف نہیں ملا۔ یہ بہت بڑے عالِم اور فقیہ گزرے ہیں۔ متعدد کتب بھی تحریر فرمائی ہیں۔ بارگاہِ رِسالت میں ان کے مقام ومرتبے کا اَندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے مَدینَۃُ الْمُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں رَوضۂ اَنور پر حاضر ہو کر صلوٰة و سلام عرض کىا تو پىارے پىارے آقا ، مکى مَدَنى مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى آوازِ مُبارَکہ سنائى
[1] معجمِ اوسط ، باب العین ، من اسمه علی ، ۳ / ۱۲۹ ، حدیث : ۴۰۸۰۔
[2] اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : مَیِّت کو دَفن کر کے جب مٹی دے دی گئی تو وہ امانت ہو جاتا ہے اﷲ (پاک)کی ، اس کا کشف (یعنی کھولنا) جائز نہیں ۔ ( کیونکہ قبر میں مَیِّت)دو حال سے خالی نہیں۔ مُعَذَّب(یعنی عذاب میں مبتلا ہوا)ہے یا مُنْعَمْ عَلَیہ(یعنی اِنعام کا حقدار ہوا)۔ اگر مُعَذَّب ہے تو دیکھنے والا دیکھے گا اسے ، جس سے اسے رَنج پہنچے گا اور کر کچھ نہیں سکتا۔ اور اگرمُنْعَمْ عَلَیہ ہے توا س میں اس کی ناگواری ہے۔
(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۵۰۱)
[3] فتاویٰ ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، الفصل السادس ، ۱ / ۱۶۶۔ حضرتِ سَیِّدُناعمرو بن حزم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مجھ کو نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک قبر پر تکیہ لگائے دیکھا تو فرمایا : اِس قبر والے کو نہ ستاؤ ۔ (مشکاة المصابيح ، كتاب الجنائز ، باب دفن المیت ، ۱ / ۳۲۶ ، حدیث : ۱۷۲۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع