30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھے گا۔‘‘(مجمع الزوائدج۱۰ص۲۵۲حدیث۱۷۲۹۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد
اوکاڑہ (پنجاب، پاکستان) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے : میری زندگی کے گزشتہ22سال گناہوں کی دنیا میں بسر ہوئے، بچپن ہی سے غلط دوستوں کی صحبت مل گئی جس نے میری زندگی کوتباہ وبربادکرکے رکھ دیا، عادات اس قدربگڑگئیں کہ پڑھائی کی طرف بالکل توجہ نہ دیتا بلکہ عشقیہ وفِسْقِیہ رسائل و کہانیاں پڑھنے اور فل میں ، ڈرامے دیکھنے میں مگن رہتا۔ رسالوں میں اپنے نام سے کہانیاں اور اشعار چھپوا کر خوش ہوتا، حتیّٰ کہ بری صحبت اورغیراخلاقی عادات کی نحوست ایسی چھائی کہ میں عشق مجازی کے پھندے میں گرفتارہوگیا۔ اب میری حالت یہ ہوگئی کہ دن ہو یا رات بس ’’اُسی‘‘ کے خیالات دل ودماغ پرچھائے رہتے اور مَعَاذَ اللّٰہ گھنٹوں موبائل فون پر’’اُس‘‘ سے بات کرتا۔ الغرض شیطان نے ایسا بہکایا کہ میں اُس کی خاطر پیسہ اورزندگی کے گراں قدر لمحات کو خوب برباد کرتا رہا مگر سوائے ذلت و رسوائی کے میرے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ میرے دوستوں نے نہ صرف میرا ساتھ چھوڑ دیا بلکہ مجھے برا بھلا کہنے لگے۔ میں بے حد پریشان رہنے لگا مجھے احساس ہوا کہ یہ رنگینیاں صرف ایک دھوکا تھیں ۔ ایسے وقت میں جبکہ میں بالکل ٹوٹ چکا تھا دعوتِ اسلامی نے مجھے ایک نئی پاکیزہ زندگی عطا کی، ہوایوں کہ ایک دن میں سکون کی تلاش میں تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں جا پہنچا۔ اجتماع میں ہونے والے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے میرے بے قرار دل کو سکون نصیب ہو گیا، وہاں ہونے والی رِقت انگیز دعا کے دوران میں نے آہوں اور سسکیوں میں ڈوبی آواز کے ساتھ گڑگڑا کر رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے سچے دل سے توبہ کی اوریہ دعاکی کہ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے نیک اور سنّتوں کا پابند بنا دے۔ اب میں باقاعدہ ہر ہفتے پابندی سے اجتماع میں شرکت کرنے لگا اور اس طرح آہستہ آہستہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوتا چلا گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مدنی ماحول کی بدولت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے وہ عزت ومقام دیاہے جس کا کبھی تصور بھی نہیںکیا تھا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے مرتے دم تک دعوت ِاسلامی کے پاکیزہ ماحول میں استقامت عطا فرمائے۔
اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
بھیرہ (ضلع گلزارطیبہ (سرگودھا) پنجاب) کے ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے : دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہونے سے قبل میرا اُٹھنا بیٹھنا بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ تھا۔کم و بیش 13 برس اُن کی صُحبتِ سراپا ضَلالت میں رہ کر میرے عقائد بھی مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُنہی جیسے ہو چکے تھے اور عملی حالت بھی کچھ اچّھی نہ تھی، چِہرے پر داڑھی بھی سنّت کے مطابِق نہیںبلکہ خشخشی تھی۔میرے جنرل اسٹور کے قریب واقع مسجِد میں ایک دینی طالِبِ علم اسلامی بھائی فیضانِ سُنّت کا دَرس دینے اور مدرَسۃُ المدینہ (برائے بالِغان) پڑھانے آیا کرتے تھے۔ غالِباََ صَفَرُالْمُظَفَّر ۱۴۲۰ھ بمطابق جون 1999ء کا واقِعہ ہے کہ شہر سطح پر دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع کی ہمارے یہاں دھوم تھی۔ اُنہی دنوں وُہی دینی طالِبِ علم ایک دوسرے اسلامی بھائی کے ہمراہ میری دکان پر تشریف لائے، اُنھوں نے مجھے سلام کیا میں چونکہ دعوتِ اسلامی والوں کو گمراہ سمجھنے کی وجہ سے ا نہیںنفرت کی نگاہ سے دیکھتاتھا، اِس لیے ان کے سلام کا جواب نہ دیا اورNO LIFT کرواتے ہوئے دکان کے سامان کی صفائی میں مشغول ہوگیا۔اُنھوں نے تھوڑا سا تَوَقُّف کیا (یعنی کچھ رُکے) پھر بڑے نرم لہجے میں مُسکراتے ہوئے شہر میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتِماع کی دعوت پیش کی، جسے قَبول کرنے سے میں نے نہ صِرف انکار کیابلکہ ا نہیں بُرا بھلا کہناشروع کردیا۔ میرے اِس رَوَیّے کی وجہ سے اُن کے چِہروں پر اُداسی چھاگئی مگر ان کے صبر و تحمُّل پہ لاکھوں سلام ! بے چارے زَبان سے کچھ نہ بولے۔ان کا یہ انداز خاصا مُتأَثِّر کُن تھا۔ جب شام کو دوکان بند کر کے گھر گیا اور رات کے کھانے سے فارِغ ہوا تو مجھے ان دونوں عاشقانِ رسول کا دعوت دینا یاد آ گیا میں نے سوچا کہ چل کے دیکھوں تو سہی یہ لوگ اپنے اجتِماع میں کرتے کیا ہیں ! چُنانچِہ میں یوں ہی دیکھنے کیلئے چلا گیا اور میں دیکھنے تو کیا گیا، میرا سویا ہوا نصیب انگڑائی لیکر جاگ اُٹھا! اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دَورانِ اجتماع مجھے جاگتی آنکھوں سے مدینے کے تاجور، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے روضۂ انورکی روح پرور سنہری جالیوں کی زیارت ہو گئی! اس اجتماع میں سردارآباد (فیصل آباد)سے تشریف لائے ہوئے مبلِّغ دعوتِ اسلامی نے سنّتوں بھرا بیان فرمایا۔ اجتماع کے بعد اُنہوں نے شفقت بھرے انداز میں مجھ پر انفرادی کوشش کی جس کے نتیجے میں مَدَنی قافلے میں سفرکی میں نے نیَّت کرلی اور جلد ہی مجھے عاشقانِ رسول کے ساتھ 3دن کے لیے مَدَنی قافلے میں سنّتوں بھرے سفرکی سعادت نصیب ہو گئی ۔ ہمارا مَدَنی قافِلہ ایک مسجد میں ٹھہرا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ پہلی ہی رات مجھ گنہگار پرکرم بالائے کرم ہو گیا۔ کیا دیکھتاہوں کہ مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبھَاالصلوتھ وسلام کا صحن ہے اور میں جھاڑو دے رہا ہوں ۔اِتنے میں سُنہری جالیاں کھلتی ہیں اور اُمّت کے غمخوار، مکّی مَدَنی سرکار، غیبوں پر خبردار بِاِذنِ پَروَردَگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ باہَر تشریف لائے اور میرانام لے کر ارشاد فرمایا : ’’اپنا اندر (باطن)بھی صاف کرو۔‘‘ اِس خواب سے میرے دل میں مَدَنی انقلاب برپا ہو گیا! حالانکہ قبل ازیں میں مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّیاتُ النَّبی کا مُنکِر تھا اور مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا یہ بھی عقیدہ تھا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں دیکھتے سنتے نہیںاورنہ ہی ہماری باطِنی حالت سے آگاہ ہیں ۔ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پر حق آشکار(یعنی ظاہر) ہو گیا کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مارے نام تو کیا، دلوں کی کیفیت سے بھی خبردار ہیں ۔ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ میں نے عقائدِ باطِلہ سے سچّی توبہ کرلی۔ وہ دن اورآج کادن میرے چِہرے پر ایک مُٹّھی داڑھی ہے، سر پر عمامے کا تاج اورجسم پرسنّت کے مطابق مَدَنی لباس رہتا ہے اور ہمارا ساراگھرانا مَدَنی رنگ میں رنگ چکا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شان دیکھئے کہ جس عاشقِ رسول نے مجھے دوکان پر آ کر دعوت دی تھی اور جنہوں نے بعدِاجتماع مجھ پر اِنفِرادی کوشِش فرمائی تھی وہ ترقّی کرتے کرتے دعوت ِاسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع