30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگر باوضو نہیں تو اُس پر جماعت واجب نہیں، جیسا کہ فتاویٰ شامی میں علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ ( متوفی 1252 ھ ) فرماتے ہیں: ’’ لو اقيمت وهو حاضر في المسجد. واجاب بعض العلماء بأنه إن كان متطهرا فالظاهر الوجوب لأن العلة الحرج، وهو منتف یعنی اگر اِقامت کہی جانے کے وقت (نابینا ) مسجد میں موجود تھا تو اس کے بارے میں بعض علمائے کرام نے جواب دیا کہ اگر وہ پاک ہے تو ظاہر ہے کہ واجب ہے کیونکہ علّت حرج ہے اور وہ یہاں نہیں پائی جارہی ہے۔“ (1)
(3) ایسا نابینا جو بلِا تکلف مسجد پر آ ، جا سکتا ہے، جیسا کہ ہمارے دَور کے بعض نابینا ہیں، اُن پر جماعت بہرحال واجب ہے، جیسا کہ سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نابینا پر جماعت میں حاضر ہونے کے متعلق اَحادیث بطورِتاکید پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”اِس سلسلہ میں ہماری رائے یہی ہے، حقیقت حال سے اللہ ہی آگاہ ہے کہ حضرت اِبنِ اُمِّ مکتوم رضی اللہ عنہ پرچلنا دُشوار نہ تھا اور وہ بغیر کسی حرج کے راستہ پالیتے تھے جیسا کہ اَب بھی بہت سے نابینا لوگوں میں یہ مُشاہدہ کیاجاتاہے پھر میں نے زُرْقانی علیٰ المُؤطا کا مطالعہ کیا تو اُس میں بِعَینہٖ یہی بات منقول تھی کہ تمام اہلِ علم کی یہی رائے ہے کہ اُن پرتنہا چلنے میں دشواری نہ تھی جیسا کہ اب بھی بہت نابینا افراد پرتنہاچلنا دُشوار نہیں ہے ۔ “(2)
کیا نابینا پر جمعہ فرض ہے؟
جواب: جس طرح نابینا پر جماعت واجب ہونے کی تین صورتیں تھیں اِسی طرح جمعہ فرض ہونے کی بھی تین صورتیں بنتی ہیں :
[1] … رد المحتار ، 3 / 32
[2] … فتاویٰ رضویہ ، 7 /74
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع