دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nabina Afrad ke Sharai Ahkaam | نابینا افراد کے شرعی احکام

: کیا نابینا پر جماعت لازم ہے؟

book_icon
نابینا افراد کے شرعی احکام
            
کرسکتا ہے لیکن اس سے دریافت نہیں کیا، خود غور کرکے کسی طرف کو پڑھ لی، تو اگر قبلہ ہی کی طرف منہ تھا، تو نماز ہوگئی، ورنہ نہیں۔“(1) اور اگر بتانے والا کوئی موجود نہیں تو تحری کرے اب چاہے غلط سمت کی تحری کرلی تب بھی اس کی نماز ہو جائے گی ۔ بہار شریعت میں ہے کہ ”اگر کسی شخص کو کسی جگہ قبلہ کی شناخت نہ ہو، نہ کوئی ایسا مسلمان ہے جو بتادے، نہ وہاں مسجديں محرابیں ہیں، نہ چاند، سورج، ستارے نکلے ہوں يا ہوں مگر اس کو اتنا علم نہیں کہ ان سے معلوم کرسکے، تو ایسے کے ليے حکم ہے کہ تحری کرے (سوچے، جدھر قبلہ ہونا دِل پر جَمے اُدھر ہی منہ کرے) اس کے حق میں وہی قبلہ ہے۔“(2)

کیا نابینا پر جماعت لازم ہے؟

جواب: نابینا پر جماعت واجب ہے یا نہیں اس کے متعلق تین صورتیں ہیں: (1) ایسا نابینا ہو جو بِلا مشقت مسجد تک نہ جا سکتا ہو، اگر چہ کوئی لے جانے والا موجود ہو تو اُس پر جماعت واجب نہیں، جیسا کہ بحر الرائق میں علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ ( متوفی 970 ھ ) فرماتے ہیں: ’’ انما لا تجب علی الاعمی ولو وجد من یقودہ لما عرف انہ لاعبرۃ بقدرۃ الغیر یعنی نابینا پر جماعت واجب نہیں اگرچہ کوئی مسجد تک لے جانے والا موجود ہو کیونکہ دوسرے کی قدرت کا کوئی اعتبار نہیں ۔“ (3) (2) جو نا بینا جماعت کی اقامت کہی جانے سے پہلے مسجد میں موجود ہو، اُس کے متعلق بعض علمائے کرام نے فرمایا کہ اگر یہ باوضو ہے تو اُس پر جماعت واجب ہے
[1] … رَدُّ المحتار ، 3 / 143 [2] … بہارِشریعت،3/489 [3] … البحر الرائق ، 1 / 605

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن