30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَپاہج یا پاؤں کٹا ہوا یا مفلوج یا مریض یا نقیہ یا نہایت بوڑھا کہ چل نہیں سکتے یا اندھا جِسے اَٹکل نہیں یا رات کو شبکور(جس کو رات میں نظر نہ آتا ہو) یا کمر وغیرہ کے درد کے باعث چلنے سے معذور(1) اسکے پاس اگر نوکر یا غلام یا بیٹا پوتا کوئی ایسا نہیں جس پر اس کی خدمت لازم ہو نہ ایسا کہ اس کے کہنے سے لادے نہ اُجرت پر لانے والا یا (2)اجیر ہے مگر یہ اُجرت پر قادر نہیں یا(3) قادر ہے مگر مال دوسری جگہ (پر رکھا ہوا ہے)اور وہ(اجیر) اُدھار پر راضی نہیں یا(4) اُجرتِ مِثل سے بہت زیادہ مانگتا ہے (تو وہ نابینا اب)تیمم کرے اور(نماز پڑھے، اس نمازکا) اعادہ نہیں (کرے گا)۔ علما نے ان معذوروں کا ذِکر جمعہ و جماعت میں فرمایا ہے : وقیدت الاعمی بمن لایھتدی تبعالما حقق العلامۃ الشامی رحمہ اللّٰہ تعالٰی یعنی اندھے کے لیے میں نے یہ قید لگائی ”جِسے اَٹکل نہیں“ یعنی خود راہ نہیں طے کر پاتا۔ یہ قید علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے اتباع میں ہے۔(1)
نابینا نماز کے لئے قبلہ کی طرف چہرہ کیسے کرے؟
جواب:اگر کوئی بتانے والا موجود ہے تو اس سے پوچھ کر نماز کے لیے قبلہ کی سمت کا تعین کرنا لازم ہے لیکن اگر نہ پوچھا اور تحری کر کے نماز پڑھی تو دو صورتیں ہیں: (1) درست سمت میں پڑھی تو ہوگئی (2)درست سمت میں نہ پڑھی تو نہ ہوئی ۔ جیسا کہ فتاویٰ شامی میں علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” انہ لا یتحری مع القدرۃ علی ھذا حتی لو کان بحضرتہ من یسألہ فتحری ولم یسألہ ان اصاب القبلۃ جاز لحصول المقصود و الا لا یعنی کرنے پر قدرت ہو تو تحری کرنا جائز نہیں لہٰذا اگر کوئی موجود ہے کہ اس سے دریافت
[1] … فتاوی رضویہ،3/ 478
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع