30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نابینا کو پانی کی طہارت کا علم کیسے ہو؟
جواب:اس کی دو صورتیں ہیں: (1) کوئی بتانے والا ہے (2) کوئی بتانے والا نہیں۔
(1) پہلی صورت میں اِس پر لازم ہے کہ کسی سے پوچھے جبکہ ظنِ غالب ہو کہ وہ بتادے گا، لہٰذا کسی بتانے والے کے موجود ہونے کی صورت میں تَحرِّی کرنا جائز نہیں ، فتاویٰ شامی میں علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ ان كان بحضرته من يساله عنها لا يجوز له ان يتحرى، بل يجب ان يسال لما قلنا اي من ان السؤال اقوى من التحري یعنی اگر اس کے پا س کوئی موجود ہو جس سے پوچھ سکتا ہے تو اِس کو تحرِّی کرنا جائز نہیں بلکہ واجب ہے کہ اُس سے پوچھے اس وجہ سے جو ہم نے کہا یعنی کہ ِتحری زیادہ مضبوط دلیل ہے ۔“ (1)
(2) اور اگر کوئی بتانے والا نہیں تو تحرِّی کرے گا اور گمانِ غالب پرعمل کرے گا۔ مبسوط للسرخسی میں ہے: ” لأن أكبر الرأي فيما لا تعلم حقيقته كاليقين یعنی جن کی حقیقت کا علم نہ ہو ان باتوں میں ”ظنِّ غالب، مضبوط رائے“یقین کی طرح ہے۔“(2)
کیا نابینا کو پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے؟
جواب: جو نابینا خود پانی تک راہ طے نہیں کرپاتا اور نہ ہی اس کے پاس ایسے اسباب ہیں جن کے سبب پانی پر قدرت ہو مثلا بیٹا پوتا وغیرہ جس پر اس کی خدمت لازم ہو یا کوئی خادِم نہیں یا خادِم ہے مگریہ اُسے اُجرت دینے پر قادر نہیں وغیرہ، تو ایسے نابینا کو تیمُّم کی اجازت ہے اور اس صورت میں اِعادۂ نماز بھی نہیں۔ اس کے متعلق امام اہل سنّت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” جو پانی تک نہ جاسکتا ہو مثلاً: لُنجَھا یا
[1] … رَدُّ المحتار ، 2 / 140
[2] … مبسوط للسرخسی،1/85
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع