30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری جگہ بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ خیال رہے کہ قیامت میں کوئی اندھا بہرا نہ ہوگا سب کی یہ قوتیں بہت ہی تیز ہوں گی اس لیے یہ شخص جنت کے اندر کی آوازیں دروازے سے سن لے گا:"
فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ(۲۲)
" ترجمہ:تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔(1)
ہاں بعض کفار قیامت میں اٹھتے وقت اندھے اُٹھیں گے مگر بعد میں نہ کوئی اندھا رہے گا نہ کانا۔ جیسا کہ قرآن میں
وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(۱۲۴) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا(۱۲۵)
ترجمہ:اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا بےشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،کہے گا اے رب میرے مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں تو اَنکھیارا(دیکھنے والا) تھا۔
نابینا افراد کو حافظ کہ کرپکارنا کیسا؟
جواب:جب تک کسی نابینا کا حافظ ِ قرآن ہونا معلوم نہ ہو اسے حافظ قرآن نہیں کہہ سکتے۔ ہاں ہمارے ہاں نابینا یا مذہبی تشخص والے کو احتراماً لوگ’’ حافظ جی‘‘ کہہ دیتے ہیں اس میں حرج نہیں ۔
[1] … مرآۃ المناجیح ، 7/ 420،حدیث: 420
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع