30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتے ہیں ۔ ایسے پیشہ وروں کو کرنا حرام ہے اور جو کچھ ان کو ملے ان کے حق میں مال ِخبیث ہے،جسے مالک کو لوٹانا یا صدقہ کردینا واجب ہوتا ہے ۔لیکن اگر ان کو کسی نے زکوٰۃ دے دی تو ادا ہوجائے گی کیونکہ یہ شرعی فقیر ہوتے ہیں جبکہ کوئی اور مانعِ زکوٰۃ نہ ہو۔
(۳)کمانے سے عاجز فقیر: یہ لوگ یا تو کمانے کی قدرت نہیں رکھتے یا پھر حاجت کے بقدر کما نہیں سکتے ،انہیں بقدرِ ضرورت حلال ہے اور جو کچھ ان کو ملے ان کے لئے حلال ہے ، انہیں زکوٰۃ دی تو ادا ہوجائے گی ۔ (1)
نابینا اگر کنویں میں گرنے والا ہو یا کسی بڑی مصیبت میں مبتلا ہونے والا تو ایسی صورت میں نمازی اپنی نماز توڑ کر اس کو بچا سکتا ہے؟
جواب:نمازی کا ایسی صورتحال میں نماز توڑنا واجب ہے ۔ چنانچہ بہارشریعت میں ہے کہ "کوئی مصیبت زدہ فریاد کر رہا ہو، اسی نمازی کو پُکار رہا ہو یا مطلقاً کسی شخص کو پُکارتا ہو یا کوئی ڈوب رہا ہو یاآگ سے جل جائے گا یا اندھا راہ گیر کوئيں میں گرا چاہتا ہو، ان سب صورتوں میں توڑ دینا واجب ہے، جب کہ یہ اس کے بچانے پر قادر ہو۔(2)
کیا دنیا میں نابینا یا کسی اور عذر سے دوچار آدمی قیامت میں بھی ویسا ہی ہوگا؟
جواب:دنیا میں نابینا یا کسی بھی طرح کا معذور قیامت میں تندرست اور صحیح ہوگا ، چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : خیال رہے کہ قیامت میں کوئی شخص اندھا، کانا، بے پڑھا نہ ہوگا ہر جاہل سے جاہل شخص بھی اس دن سب کچھ پڑھے گا۔ (3)
[1] … فتاویٰ رضویہ ،10/ 253
[2] … بہار شریعت ، 1/ 638
[3] … مرآۃ المناجیح ، 7/401،حدیث: 401
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع