30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بندے کے پاس اللہ عزوجل کی امانت ہیں،لہذا اپنے یہ تمام اعضا ء نہ تو دوسرے کے ہاتھ بیچ سکتا ہے نہ کسی کو ہبہ یا خیرات کرسکتا ہے ،نہ ہی اپنے کسی عزیز وغیرہ کے لئے بعد وفات یہ اعضا ء دینے کی وصیت کرسکتا ہے ،یوں ہی دوسرا شخص کسی انسان سے نہ اعضاء خرید کرسکتا ہے ،نہ ہی اعضاء کا ہبہ ،صدقہ یا وصیت قبول کرسکتا ہے ،نہ لے سکتا ہے۔(1)
البتہ ضرورت ہو تو خون کا عطیہ جائز ہے لیکن اس کی خرید وفروخت پھر بھی ناجائز ہے کہ خون مال نہیں۔
کیا نابینا کا بھیک مانگنا جائز ہےاور کیا اسے بھیک دے سکتے ہیں؟
جواب: صرف نابینا ہونا کسی سے کرنے کو جائز نہیں کرتا، ہاں اگر نابینا ایسا ہے جو شرعی فقیر ہے اور شرعی فقیر کو اُسی وقت مانگنے کی اجازت ہے جب وہ اپنی یا اپنے عیال کی مکمل کفالت نہ کر سکتا ہو کمانے سے عاجز ہے تو ایسی صورت میں بقدر ضرورت مانگ سکتا ہے ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے اِس کی تفصیل کچھ یوں بیان کی ہے"گداگر تین قسم کے ہوتے ہیں :
(۱)غنی مالدار: اُنہیں کرنا حرام اور اُن کو دینا بھی حرام ،اُنہیں دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی کہ مستحق ِ زکوٰۃ نہیں ہیں۔
(۲)وہ فقیر جو تندرست اور کمانے پر قادر ہو: یہ لوگ بقدرِ حاجت کمانے پر قادر ہونے کے باوجود مفت کی روٹیاں توڑنے اور اس کے لئے بھیک مانگنے کے عادی
[1] … انظر صحیفہ مجلس شرعی ،ج3
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع