30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمجھ کر لیاہو۔ یوہیں اندھے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے کہ شاید اس نے اپنا مال جان کر لیا۔ (1)
لہٰذا نابینا چور کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔کہ اس میں شبہہ ہے کہ شاید اس نے اپنا مال جان کر لیا ہو۔
نابینا کو اندھا کہہ کر پکارنا یا اس کے پیٹھ پیچھے اندھا کہنا کیسا؟
جواب:بِلا ضرورت نابینا کو اندھا، پَستہ قد کو ٹِھگنا اور دراز قد کو لمبا کہہ کر پکارنے کی شرعاً ممانعت ہے ہاں ضَرورتاًپہچان کروانے کیلئے نابینا وغیرہ کہہ سکتے ہیں
چُنانچِہ '' رِیاضُ الصَّالِحین ''میں ہے:مَثَلاً کوئی شخص اَعرَج (لنگڑے) ا َصَم (بہرے)، اَعمٰی (اندھے)، اَحوَل(بھینگے) کے لقب سے مشہور ہے تُو اس کی معرفت و شناخت (یعنی پہچان)کے لیے ان اَوصاف و علامات کے ساتھ ذکر کرنا جائز ہے مگرتَنقیص (یعنی خامی بیان کرنے)کے ارادے سے ان اَوصاف کے ساتھ تذکِرہ جائز نہیں ۔ اگر(خامی بھرے)لقب کے بِغیر پہچان ہو سکتی ہو تو بہتر یہ ہے کہ لقب بیان نہ کرے۔(2)
بہار شریعت میں ہے "ایک صورت جواز کی یہ بھی ہے کہ اس عیب کے ذکر سے مقصود اس کی برائی نہیں ہے، بلکہ اس شخص کی معرفت و شناخت مقصود ہے مثلاً جو شخص ان عیوب کے ساتھ ملقب ہے تو مقصود معرفت ہے نہ بیان عیب۔ جیسے اعمی، اعمش، اعرج، احول، صحابہ کرام میں عبد اﷲ بن اُم مکتوم نابینا تھے اور روایتوں میں ان کے نام کے ساتھ اعمیٰ آتا ہے۔ محدثین میں بڑے زبردست
[1] … بہار شریعت، 2/413
[2] … رِیاضُ الصّالِحین لِلنَّوَوی، ص 404
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع